Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
71 - 175
مسئلہ۱۰۵: ۱۶شوال ۱۳۱۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے شوہر کا انتقال ہوگیااور وہ غیر شہر میں جس مکان میں اس کا شوہر سکونت رکھتا تھا عدت میں ہے، لیکن بسبب نادانی اور غیر محرم کے وحشتناک ہوکر چاہتی ہے کہ والدین کے مکان میں جاکر رہوں، آیا اس کو شرع اجازت دیتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب

اوّلاً یہاں شرعاً واقع عذر سچی مجبوری دیکھی جاتی ہے واﷲ یعلم المفسد من المصلح(اﷲ تعالٰی مفسد اور مصلح کو جانتا ہے۔ت) خدا ہرایک کا نہاں وعیاں سب جانتا ہے اگر ایام عدت تک وہاں رہنے میں کوئی خوف صحیح واندیشہ واقعی ہندہ کے مال یا جان ناموس پر نہیں، کوئی ضرر صحیح وہاں اتنے دن گزارنے میں نہیں یا ہے تو اس کا علاج اسے ممکن ہے مثلاً ا سکے بعض اعزّہ محارم اس کے پاس رہ سکتے ہیں یا قابل اعتماد عورات کو ساتھ کےلئے رکھ سکتی ہے اگرچہ اجرت دے کر، تو اسے ہرگز اجازت نہیں ہوسکتی، خوف میں شاید اور عجب نہیں کا لحاظ نہیں ہوتا خوف صحیح منشاء صحیح سے ناشی ہونا چاہئے نہ اس وحشت کا کچھ اعتبار جو کم عمری کا لازمہ ہے خصوصاً ایسے غم کی حالت میں جب تک وہ ایسی شدت پر نہ ہو جس سے نقصان صریح عقل وغیرہ پر پہنچنے کا خطرہ ہو۔
ثانیاً اور اگر واقعی حالت مجبوری ہے تو یہ دیکھا جائے گا کہ اس مکان سکونت سے قریب تر کون سے مکان ایسا ہے جس میں وہ اندیشہ وخطرہ نہ ہو،ا گر اسی شہر میں کوئی دوسرامکان قابل اطمینان اپنے کسی عزیز کا ہو تو وہاں چلی جائے، شہر سے باہر جانے کی اجازت نہیں بلکہ وہیں دو محلوں میں دومکان قابلِ اطمینان ہوں ایک دور ایک پاس، تو دور والے میں جانے کی اجازت نہیں، اور اگر اس شہر میں نہ ہو مگر دوسرے شہر کہ بہ نسبت شہر والدین اور اس شہر سکونت سے قریب ترہے میں کوئی مکان قابلِ اطمینان ہے تو وہیں جائے، ہاں اگرسب صورتیں معدوم ہوں تو البتہ بحالت ضرر صریح ومجبوری محض اجازت ہے۔ درمختار میں ہے:
تعتدان ای معتدۃ طلاق وموت فی بیت وجبت فیہ ولاتخرجان منہ الاان تخرج او ینھدم المنزل او تخاف انھدامہ او تلف مالھا اولا تجد کراء البیت ونحو ذٰلک من الضرورات فتخرج لاقرب موضع الیہ وفی الطلاق الٰی حیث شاء الزوج۱؎۔
موت او ر طلاق کی عدت والی عورتیں اسی مکان میں عدت گزاریں جس میں عدت واجب ہوئی ہو، اور وہاں سے منتقل نہ ہوں الایہ کہ ان کو جبراً نکالا جائے یا وہ مکان گرجائے یاگرنے کا خطرہ ہو یا مال کے نقصان کا خطرہ ہو یا مکان کرایہ پر ہو اور عورت کرایہ نہ پائے، اور دیگر ایسی ضروریا ت کی وجہ سے مجبور ہوتو قریب ترین مکان میں منتقل ہوجائے، اور طلاق والی کو یہ حکم، ہے کہ جہاں خاوند انتظام کرے وہاں رہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار         باب الحداد         مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۲۶۰)
عالمگیریہ میں ہے :
المعتدۃ اذاکانت فی منزل لیس معھا احد وھی لاتخاف من اللصوص ولامن الجیران ولکنھا تفزع من امر المبیت ان لم یکن الخوف شدیدالیس لھا  ان تنتقل من ذٰلک الموضع، وان کان الخوف شدیداکان لھا ان تنتقل کذافی فتاوی قاضی خاں۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
عدت والی عورت جب کسی ایسے مکان میں ہو کہ وہاں اس کے ساتھ کوئی نہ رہتا ہو اور چوروں یا پڑوسیوں سے خائف نہ ہو لیکن وہ عورت رات کو ڈرتی ہو ،اگر یہ ڈر شدید نہ ہو تو عورت کو وہاں سے منتقل ہو نا جائز نہیں ،اور اگر یہ ڈر شدید  ہو تو عورت کو  پھر  منتقل ہو نا جائزہے ۔فتاوی قاضی خاں میں ایسے ہی مذکور ہے ۔واللہ تعالی اعلم۔
 (۲؎ فتاوی ہندیہ     الباب الرابع عشر فی الحداد     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱/ ۵۳۵)
Flag Counter