فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
7 - 175
سادساً : وہ جانتا تھا کہ شرع مطہر سے اس صورت میں حکم طلاق نہیں ہوسکتا اور پھر دانستہ خلافِ حکم شرع حکم کیا جب تو ان آیات کریمہ سے اپنا حکم معلوم کرے کہ:
من لم یحکم بما انزل اﷲفاولٰئک ھم الظلمون، من لم یحکم بماانزل اﷲفاولٰئک ھم الفسقون، من لم یحکم بماانزل اﷲ فاولٰئک ھم الکٰفرون۔۳؎
جو اﷲکے اتارے پر حکم نہ کریں وہ ظالم ہیں، جو اﷲکے اتارے پرحکم نہ کریں وہ فاسق ہیں، جو اﷲکے اتارے پرحکم نہ کریں وہ کافر ہیں،
(۳؎ القرآن الکریم ۵ /۴۴تا۴۷)
جب حکم شرع پر حکم نہ کرنے والوں کےلئے یہ احکام ہیں تو جو دانستہ حکم شرع کے خلاف کریں اور اسے حکم شرع بتائیں ان پرکس درجہ سخت تر ہوں گے اور اگر نہ جانتا تھا اور بے علم فتوٰی دیاتو اپنا حکم اس حدیث سے لے:
افتوابغیر علم فضلوا واضلوا۴؎رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والترمذی وابن ماجۃ عن عبداﷲبن عمرو رضی اﷲتعالٰی عنھما۔
بے علم فتوٰی دیا تو آپ بھی گمراہ ہوئے اور اوروں کوبھی گمراہ کیا(اسے امام احمد، بخاری، مسلم، ترمذی اور ابن ماجہ نے عبداﷲ بن عمر و رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۴؎ صحیح مسلم کتاب العلم باب رفع العلم وقبضہٖ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۴۰)
اور اس حدیث سے معلوم کرے:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملٰئکۃ السماء والارض۱؎۔ رواہ ابن عساکر عن امیر المومنین علی رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
جو بغیر علم کے فتوی دے اس پر آسمان وزمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔ (اسے ابن عساکر نے امیرا لمومنین حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی حدیث ۲۹۰۱۸ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰/ ۱۹۳)
بلکہ نظر بواقع صورتِ حاضرہ میں دونوں شقیں موجود ہیں، یہ حکم بن بیٹھنے والا خلافِ شرع حکم دینے والا جاہل بھی ہے، اس کا جہل خود اس کے اس حکم ہی سے ہم نے بوجوہ ظاہر کردیا، اور دیدہ ودانستہ خلاف "ماانزل اﷲ" حکم کرنے والا بھی ہے کہ ابھی چند روز ہوئے بمقدمہ حاجی بنیاد علی بجنوری اس نے یہی جہالت کی تھی اوراس پر دارالافتاء سے تنبیہ کی گئی حکم صحیح بتایا گیا پھر سائل کے مقرر سوال بغرض دفع اوہام جہال پر دوبارہ مفصل فتوٰی مرسل ہوا تو حکم اگر جب نہ جانتا تھا اب معلوم تھا اور پھر قصداً اس کا خلاف کیا، والعیاذ باﷲ تعالٰی۔
سابعاً : اس نے یہ ما انزل اﷲ کاخلاف اپنی کسی خانگی بات میں نہ کیا بلکہ ایک مسلمان کی زوجہ کو ناحق ناروااسکے نکاح سے خارج ٹھہرا یا اور شوہر سے برگشتہ بنایا، اور یہ شیاطین کا کام ہے۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
ولکن الشیٰطین کفر وایعلمون الناس السحر۲؎الٰی قولہ تعالٰی فیتعلمون منھما مایفرقون بہ بین المرء وزوجہ۳؎۔
شیاطین کافرہیں لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں (الی قولہ تعالٰی) جس سے مرد اور اس کی عورت میں جدائی ڈالتے ہیں۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۱۰۲) ( ۳ ؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۰۲)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لیس منا من خبب امرأتہ علی زوجھا۴؎۔ رواہ ابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃ والطبرانی فی الصغیر والاوسط بنحوہ عن ابن عمر و ابویعلی بسند صحیح والطبرانی فی الاوسط عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہم۔
جو کسی مرد سے اس کی زوجہ کو برگشتہ کرے وہ ہمارے گروہ سے نہیں(اس کو ابوداؤد اور حاکم نے ابوہریرہ سے طبرانی نے صغیر اور اوسط میں اسی طرح ابن عمرو سے ابویعلی نے بسندِ صحیح اور طبرانی نے اوسط میں ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ت)
(۴؎ سنن ابوداؤد کتاب الطلاق باب من خبب امرأتہ علی زوجہا آفتاب عالم پریس لاہور۱ /۲۹۶)
اس حکم بننے والے کا جہل وظلم بہت وجوہ سے بیان ہوسکتا ہے، اور یہ سات۷ بعد دسبع سمٰوات کیا کم ہیں واﷲتعالٰی اعلم
13_1.jpg
تصدقات علمائے بدایوں
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ط
حامداً ومصلیا ومسلما
اگرزوج نے فقط یہی لفظ کہے تھے کہ ''اگر عصر تک نہ آئیں تو نکاح سے میں تم کو علیحدہ کردوں گا'' تو یہ تو فقط وعدہ ہے طلاق سے تعلق ہی کیا۔ اور اگر یہ لفظ کہے تھے کہ''میری طرف سے جواب ہے'' تو یہ کنایہ طلاق میں داخل ہوسکتا ہے مگر جب شوہر بحلف کہتا ہے کہ میری نیت نہ تھی تو اسی کا قول معتبر ہے جیسا کہ مجیب لبیب نے کتاب ردالمحتار وغیرہ سے ثابت کیاہے، بہر حال صرف انہیں کلمات کی بناء پر باوجود حلف شوہر کے عدم نیت طلاق پر حکم طلاق بائن دے دینا ازروئے کتب فقہ حنفی صریح غلطی ہے کما فصلہ المجیب المصیب، واﷲ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ حررہ عبد الرسول محب احمد القادری عفا اﷲ عنہ
الجواب صحیح وصواب
محمد عبد المقتدر القادر عفی عنہ مدرسہ قادریہ بدایوں
(ھذا ھوالتحقیق وبالاتباع حقیق)
(صح الجواب واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب عبد النبی محمد ابراہیم القادری عفی عنہ)
(الجواب وصواب والمجیب شاب)
13_2.jpg
تصدیقات علمائے شاہجہان پور
تصدقات علمائے دہلی
صورت مسئولہ میں طلاق بائن واقع ہونے کا فتوٰی باوجود انکار اور حلف فضل کریم کے بیشک غلط ہے، صحیح یہی ہے جو مجیب صاحب نے تحریر فرمائی، باقی رہی یہ بات کہ مفتی مخطی نے اگر عمداًیہ کارروائی کی والعیاذباﷲ، تو بلاریب مسحقِ عذاب الہی ہے اور اگر سہواً ان سے غلط سر زد ہوگیا ہے اور وہ صاحب عالم ہیں اہلِ افتاء ہیں تو اس صورت میں عفو کے مسحتق ہیں۔
13_3.jpg
تصدقات علمائے میرٹھ
جواب مذکور الصدر درست ہے اور جواب میں جو عبارات بطور نقل تحریر فرمائی ہیں وہ جواب کی صحت کو آفتاب کی طرح روشن کرتی ہیں، یہ عبارت کہ''اگر آپ عصر تک اپنے مکان پر نہ آئیں تو میری طرف سے جواب ہے'' قابل غور ہے، واضح لفظ''جواب'' اردو زبان میں لفظ مشترک ہے او رلفظ مشترک بدون بیان احناف کے نزدیک قابل عمل نہیں، اگر کسی آدمی نے وصیت کی کہ ثلث مال میرے موالی کو دینا اور وصیت کنندہ کا آزاد کرنے والا ہے اور وہ بھی ہے جس کو وصیت کنندہ نے آزاد کیاہے تو احناف کے نزدیک وصیت باطل ہے اور وجہ بطلان کی بیان کرتے ہیں کہ لفظ مولیٰ مشترک ہے معلوم نہیں کہ حکم کا ذہن اس کے ادراک سے کیوں بے نصیب رہا ،اور باوجود انکار وعدم اضافت ،جواب طلاق بائنہ کا ہار فضل کریم کی گردن میں کیوں چسپاں کردیا، آفریں بادبریں ہمت مردانہ او، پس فیصلہ حکم کا جہالت پر مبنی ہے اور طریق احناف سے خارج ہے، میں فقہائے احناف کی عبارات نقل کرکے طول دینا نہیں چاہتا، جواب میں جو عبارات تحریر فرمائی ہیں وہ کافی ہیں بلکہ عندا لانصاف کفایت سے زائد ہیں، واﷲتعالٰی اعلم۔
13_4.jpg
تصدیقات علمائے احمد آباد
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الرؤف الرحیم
اما بعد، بندہ نے اول سے آخر تک اس فتوی کو پڑھا، حضرت مولٰنا مولوی حامئ دین متین جناب احمد رضاخاں صاحب عم فیضہ الصوری والمعنوی نے اس میں دریائے تحقیق بہادیا ہے، اب جس میں مادہ ایمان ہے اس کے واسطے سوائے تسلیم کے اور س کے حکم کو سر پر چڑھانے کے چارہ نہیں، اور جو لوگ اس فتوی کے خلاف حکم کرتے ہیں ان کے حال کو خاکسار اپنے احباب کو سمجھاتا ہے ان پر وحی شیطان کی نازل ہوتی ہے اس کی خبر رب العالمین اپنے کلام مجید میں دیتا ہے:
وکذٰلک جعلنا لکل نبی عدوا شیٰطین الانس والجن یوحی بعضھم الٰی بعض زخرف القول غرورا۔۱؎
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن کئے ہیں آدمیوں اور جنوں میں کے شیطان کہ ان میں ایک دوسرے پر خفیہ ڈالتا ہے بناوٹ کی بات دھو کے کو۔(ت)
( ۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۱۱۲)
وقال اﷲ تعالٰی: ویحسبون انھم علٰی شیئ ط الا انھم ھم الکٰذبونoاستحوذ علیھم الشیطٰن فانسٰھم ذکر اﷲط اولٰئک حزب الشیطٰن ط الاان حزب الشیطن ھم الخسرون۲؎o
اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ کیا، سنتے ہو بیشک وہی جھوٹے ہیں، ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اﷲ کی یاد بھلادی، وہ شیطان کے گروہ ہیں سنتا ہے بیشک شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۵۸ /۱۹۔۱۸)
عزیزے شیطان لعین رادیدکہ فارغ نشستہ ست واز تضلیل واغوا خاطر جمع ساختہ آں عزیز سر آنرا پرسید لعین گفت کہ علمائے سوءایں وقت دریں کار بامن خود مدد عظیم کردندو مراازیں مہم فارغ ساختند والحق دریں زمان ہر سستی ومداہنتی کہ درامور شرعیہ واقع شدہ است وہر فتوے کہ در ترویج ملت ودین ظاہر گشتہ ست ہمہ از شومی علمائے سوء ست وفساد نیات ایشاں۳؎۔
ایک عزیز نے شیطان کو فارغ بیٹھا اور گمراہ کرنے اور حق سے ہٹانے کے کام سے مطمئن پایا تو عزیز نے اس سے وجہ پوچھی تو شیطان لعین نے کہااس وقت کے علمائے سوء اس کام میں میرے بڑے مددگار ہیں اور مجھے اس کام سے انہوں نے فارغ کردیا اور حقیقت یہی ہے کہ اس زمانے میں دین وشریعت کے امور میں جو سستی اور مداہنت اور ہر کرتاہی جو دین وملت کی ترویج میں ظاہر ہورہی ہے یہ تمام علمائے سوء کی نحوست اور بدنیتی کی وجہ سے ہے۔(ت)
(۳؎ مکتوبات امام ربانی مکتوب سی وسوم نولکشور لکھنؤ ۱ /۴۷)
یہ عبارت راقم نے مکتوبات امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی قدس اﷲ سرہ العزیز کی جلد اوّل کے ص۹۳ مکتوب ۳۳ سے نقل کی ہے، اب جو لوگ شیطان کی وحی پر چلنا چاہتے ہیں وہ اپنے نفس کی شامت سے حزب الشیطان ہو جائیں ان کے جلانے اور سزادینے کے واسطے اﷲتعالٰی نے جہنم تیارکررکھی ہے اور جو شیطان سے کفر کرتے ہیں اور خدائے تعالٰی پر ایمان لاتے ہیں ان کی فہمائش کےلئے علمائے ربانیین نے حکم شریعت مدلل لکھ دیا ہے فماذا بعد الحق الااضلال(پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی۔ت)
حضرت رب العزت تبارک وتعالٰی اس تحریر پر تنویر کو سبب ہدایت اپنے بندوں کا کرے اٰمین ثم اٰمین ھذاما عندی،