Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
69 - 175
مسئلہ۹۹: از پرانا شہرر وہیلی ٹولہ بریلی مرسلہ احمد اﷲ خاں صاحب 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ قوم حجام سے ہے اور ہمیشہ  بوجہ حجامی باہر نکلتی ہے، ایسی صورت میں اس کو بایّامِ عدت دن میں اور شب میں باہر نکلنا جائز ہے یانہیں؟اور قیام شب دوسرے مکان پر کرسکتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

سائل کے بیان سے معلوم ہواکہ یہ عدت موت کی ہے، پس اگر عورت کے پاس اتنا مال ہے کہ چار ماہ دس دن گھر بیٹھ کر کھائے جب تو اسے نکلنا جائز نہیں ورنہ جتنے دنوں کھانے کا سامان رکھتی ہے اتنے دنوں اسے گھر بیٹھ کر کھانا لازم، اور پھر نکلنا جائز، رات اپنے گھر میں گزارے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۰۰: از شہر بریلی ۳۰رمضان ۱۳۳۶ھ

زید فوت ہوا، ایک زوجہ حاملہ اور ایک لڑا اور دو لڑکیا ں نابالغ چھوڑیں، وہ ایک غریب آدمی تھا جس کے رہنے کو مکان بھی نہ تھا کرایہ کا مکان تھا مکان والے کا دو مہینہ کا کرایہ چاہئے وہ کہتا ہے کہ کرایہ دو یا مکان خالی کرو، زوجہ زید کے پاس نہ کھانے پینے کو کچھ ہے اور نہ کرایہ مکان ادا کرنے کو، ایسی حالت میں زوجہ زید اندر میعاد عدت کے وہ مکان جس میں زید فوت ہوا چھوڑ کر اپنی ماں کے گھر جاسکتی ہے یانہیں؟
الجواب

جہاں سے ممکن ہو کرایہ ادا کرے اور عدت کے دن وہیں گزارے،
امرت بہ السائلۃ وھی ام المتوفی عنھا زوجھا فرضیت فعلمت انھا قادرۃ انما ذٰلک احتیال للانتقال وکم جربنا مثل ذٰلک۔
جس کا خاوند فوت ہوگیا تھا یہ بات میں  نے اس کی ماں سے کہی وہی سائلہ تھی تو اس بات پر وہ راضی  ہوگئی تومیں نے معلوم کرلیا کہ عورت کرایہ اور نفقہ پر قادر ہے، اور یہ بیان منتقل ہونے کا ایک بہانہ تھا اس بات کا تجربہ بارہا ہم کرچکے ہیں۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
وھی فی دار باجرۃ قادرۃ علے دفعھا فلیس لھا ان تخرج بل تدفع۱؎۔
اگر موت کی عدت والی کسی کرایہ کے مکان میں ہواور کرایہ دینے پر قادر ہوتو اس کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں بلکہ کرایہ ادا کرے(ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار     باب الحداد    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۶۲۰)
درمختار میں ہے:
تعتدان معتدۃ طلاق و موت فی بیت وجبت فیہ ولاتخرجان منہ الاان تخرج او ینھدم المنزل او تخاف انھدامہ او تلف مالھا اولا تجد کراء البیت و غیر ذٰلک من الضروریات فتخرج لاقرب موضع الیہ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
موت اور طلاق کی عدت والی عورتوں کو گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں اسی مکان میں عدت بسر کریں جہاں عدت واجب ہوئی ہے الایہ کہ ان کو جبراً نکالا جائے یا وہ مکان گر جائے یا گرنے کا خطرہ ہو یا وہاں مال کے نقصان کا خطرہ ہو، یا مکان کرایہ پر تھا عورت کرایہ دینے کی طاقت نہ رکھتی ہو، یا اور اس قسم کی ضروریات ہوں جن سے مجبور ہوتو قریب ترین موضع میں منتقل ہوجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ درمختار       باب الحداد     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۲۶۰)
مسئلہ۱۰۱ : یہ چند مسائل محمد میر خان صاحب پیلی بھیت کو ارسال فرمائے گئے۔ بتاریخ ۴ شعبان المعظم
جواب : عدت میں عورت کو یہ چیزیں منع ہیں: ہر قسم کا گہنا یہاں تک کہ انگوٹھی چھلا بھی مہندی، سرمہ، عطر، ریشمی کپڑا، ہار پھول، بدن یا کپڑے میں کسی قسم کی خوشبو، سر میں کنگھی کرنا، اور مجبوری ہوتو موٹے دندانوں کی کنگھی کرے جس سے فقط بال سلجھالے پٹی نہ جھکالے۔ پھلیل، میٹھا تیل، کسم،کیسر کے رنگے کپڑے،یونہی ہر رنگ جس سے زینت ہوتی ہواگرچہ پڑیہ گیرو کا، چوڑیاں اگرچہ کانچ کی، غرض ہر قسم کا سنگار ختم عدت تک منع ہے۔ چارپائی پر سونا، بچھونا سونے یا بیٹھنے میں بچھانا منع نہیں۔
Flag Counter