Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
68 - 175
مسئلہ۹۷: از بریلی محلہ شاہ آباد متصل چاہ کنکر مسئولہ سید منصور علی صاحب ۱۵شوال ۱۳۲۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت جس کا خاوند مرگیا وہ ایام عدت میں اپنے کسی استحقاق وراثت کے استحکام کے واسطے باہر گھر سے جاسکتی ہے یانہیں، اور اگر باہر جائے تو کس قدر عرصہ تک اور اس کے باہر جائے سے اس کے کسی حقوق میں فرق تو نہ آئے گا بینواتوجروا۔
الجواب

سائل نے ظاہر کیا کہ عورت مسکینہ ہے پانچ روپے کی ایک معاش کہ اس کے شوہر نے اسے لکھ دی تھی صرف وہی پاس رکھتی ہے اور اہلکار کچہری کوکمیشن دے کر بلانے کی استطاعت اصلاً نہیں اور اگر نہ جائے تو وہ جائداد اس کے نام نہ ہوگی اور وہ جگہ جہاں جانا چاہتی ہے اس کے مکان عدت سے صرف چھ میل دور ہے دن ہی دن میں جانا اور مکان میں واپس آ نا ہو جائے گا رات یہیں آ کر بسر کرے گی اگر بات یوں ہے تو صورت مذکور ہ میں اسے جانا اور دن کے دن واپس آکر رات مکان عدت ہی میں بسر کرنے کی اجازت ہے۔ درمختار میں ہے:
معتدۃ موت تخرج فی الحدیدین وتبیت اکثر اللیل فی منزلھا لان نفقتھا علیھا فتحتاج للخروج، حتی لوکان عندھا کفایتھا صارت کالمطلقۃ ولایحل لھا الخروج فتح، وجوزفی القنیۃ خروجھا لاصلاح لابدلھا منہ کزراعۃ ولاوکیل لھا۱؎۔
موت کی عدت والی عورت ضرورت پر دن میں اور رات میں گھر سے نکلے اور رات کا اکثر حصہ واپس اپنے مکان ہی میں بسر کرے کیونکہ اس کا اپنا خرچہ خود اس کے ذمہ ہے اس لئے وہ محتاج ہے کہ باہر نکلے حتی کہ اگر اس کے پاس کفایت کے مطابق خرچہ موجود ہے تو پھر یہ مطلقہ عورت کی طرح ہے اس کو باہر جانا جائز نہیں ہے، فتح۔اور قنیہ میں اسے اپنی ضروری اشیاء کی اصلاح کے لئے نکلنا جائز قرار دیا ہے، مثلاً زراعت کی نگرانی کرنی ہے اور اس کا کوئی وکیل نہ ہو۔(ت)
 ( ۱؎ درمختار         باب الحداد        مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۲۶۰)
ردالمحتار میں ہے:
قال  فی النھر ولابدان یقید ذٰلک بان تبیت زوجھا۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
نہر میں کہاہے یہ قید ضروری ہے کہ رات کو خاوند والے گھر میں واپس آئے اور وہاں رات گزارے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۲؎ ردالمحتار      باب الحداد          داراحیاء التراث العربی بیروت۲/ ۶۲۰)
مسئلہ۹۸: از شہر روہیلی ٹولہ بریلی مسئولہ مسیت خاں ۱۹رجب المرجب ۱۳۳۶ھ

زیدفوت ہوااس کی زوجہ کوئی ذریعہ معاش نہیں رکھتی اور نہ کوئی شخص ورثاء و متعلقین متوفی سے اس کے نان ونفقہ کا متکفل ہو بلکہ اشخاص مذکور کی جانب سے چور شارب الخمر تارک  الصلوٰۃ قمار باز ہیں ونیز دیگر امو ر خلافِ شریعت کے مرتکب رہتے ہیں نسبت مسماۃ مذکور کے انعدام عصمت واتلاف مال و دیگر قسم کے فساد کا اندیشہ کامل وقوی ہے ایسی صورت میں مسماۃ مذکورہ کو مکان مسکونہ اپنا چھوڑ کر کسی دوسری جگہ پرایام گزاری عدت جائز ہے یانہیں؟
الجواب 

عدت موت کا نفقہ کسی پر نہیں ہوتا خود اپنے پاس سے کھائے پاس نہ ہوتو دن کو محنت و مزدور ی کےلئے باہر جاسکتی ہے، چار مہینے دس دن وہیں گزار نا فرض ہے،اﷲ عزوجل کے ادائے فرض میں حیلے نہ کئے جائیں
واﷲ یعلم المفسد من المصلح
 (اﷲ تعالٰی مفسد اور مصلح کو جانتا ہے۔ت) اگر اندیشہ واقعی و صحیح ہے بذریعہ حکومت بندو بست کرے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter