Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
67 - 175
بابُ الحداد

(سوگ کا بیان)
مسئلہ ۹۶: مسئولہ محمد عنایت اﷲ ۶ربیع الاول شریف ۱۳۰۸ھ

حضرت مولوی تسلیم عرض، وہ لڑکی کہ بیوہ ہوگئی ہے میں اسے شاہجہان پور لے جانا چاہتا ہوں اس میں کیا حکم ہے ؟ اور ایامِ عدتِ وفات میں عورت بضرورت بھی دوسرے مکان یا دوسری جگہ جاسکتی ہے یانہیں؟والسلام محمد عنایت اﷲ
الجواب

تاختمِ عدت عورت پر اسی مکان میں رہنا واجب ہے، شاہجہان پور خواہ کسی جگہ لے جاناجائز نہیں، ہاں جس کے پاس کھانے پہننے کو نہیں اور ان چیزوں کی تحصیل میں باہر نکلنے کی ضرورت ہے کہ بغیر اس کے خوردونوش کا سامان گھر میں بیٹھے نہیں کرسکتی تو وہ صبح و شام باہر نکلے اور شب اسی مکان میں بسر کرے دوسرے مکان میں چلے جانا ہر گز جائزنہیں، مگر یہ مکان اس کا نہ تھا مالکانِ مکان نے جبراً نکال دیا، یا کرایہ پر رہتی تھی اب کرایہ دینے کی طاقت نہیں یا مکان گرپڑایا گرنے کو ہے یا اور کسی طرح اپنی جان یا مال کا اندیشہ ہے غرض اسی طرح کی ضرور تیں ہوں تو وہاں سے نکل کر جو مکان اس کے مکان سے قریب تر ہو اس میں چلی جائے ورنہ ہرگز نہیں درمختار میں ہے:
معتدۃ موت تخرج فی الحدیدین و تبیت اکثر اللیل فی منزلھا لان نفقتھا علیھا فتحتاج للخروج، حتی لوکان عندھا کفایتھا صارت کالمطلقۃ فلایحللھا الخروج فتح۱؎اھ اقول فکذااذا قدرت علی الکسب فی البیت من دون خروج فان المبیح ھی بالضرورۃ فبحیث لاضرورۃ فلااباحۃ وھذا واضح جدا۔
موت کی عدت والی عورت ضرورت پر دن میں اور رات میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے، او ر رات کا اکثر حصہ اپنے گھر میں ہی رہے کیونکہ اس نے اپنا خرچہ خود پورا کرنا ہے اس لئے وہ باہر نکلنے کی محتاج ہے حتی کہ اگر اپنی کفایت اور ضرورت کےلئے اس کے پاس نفقہ ہوتو یہ مطلقہ عورت کی طرح ہے اس کو باہر نکلنا حلال نہیں ہے، فتح اھ اقول (میں کہتا ہوں) یونہی اگر وہ گھر میں رہ کر کوئی محنت کرکے اپنا خرچہ بناسکتی ہے تو نکلناحلال نہ ہوگا کیونکہ اس کا باہر نکلنا ضرورت کی بناء پر جائزہوا ہے اور جب ضرورت نہیں تو جواز بھی نہیں، اور یہ بات بالکل واضح ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار         باب الحداد         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶۰)
اسی میں ہے:
وتعتدان ای معتدۃ طلاق وموت فی بیت وجبت فیہ ولاتخرجان منہ الاان تخرج او ینھدم المنزل او تخاف انھدامہ او تلف مالھا او لاتجد کراء البیت ونحو ذٰلک من الضرورات فتخرج لاقرب موضع الیہ وفی الطلاق الی حیث شاء الزوج۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
موت اور طلاق کی عدت والی عورتیں اسی گھر میں عدت گزاریں جس میں عدت واجب ہوئی اور وہاں سے باہر نہ نکلیں الایہ کہ ان کو جبراً نکالا جائے یا وہ مکان گر جائے یا گرنے کا خطرہ ہو، یا وہاں مال کے نقصان کا خطرہ ہو یا مکا ن کرایہ پر تھاعورت میں کرایہ دینے کی طاقت نہ ہو یا اور اس قسم کی ضروریات ہوں تو قریب ترین مکان میں منتقل ہوجائے، اور طلاق والی کو یہ حکم ہے کہ جہاں خاوند اسے سکونت دے وہاں رہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 ( ۲؎ درمختار         باب الحداد         مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۲۶۰)
Flag Counter