Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
66 - 175
مسئلہ۹۵: از احمد آباد متصل مسجد کانچ محلہ جمالپور مرسلہ مولٰنا عبدالرحیم صاحب ۳صفر ۱۳۲۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی عورت کو تاریخ ۱۰شعبان ۱۳۲۵ھ کو طلاق دی اور وہ عورت مدخولہ بہا تھی اور زوج ثانی نے اسی شعبان کی تاریخ ۲۹ کو نکاح کیا اور اس نے اپنی زوجہ کو اپنے مکان میں ۱۰،۱۲ دن رکھ کر اس سے صحبت کی اس عرصہ میں اس کو حمل رہ گیا اب علماء نے اس کو فتوی دیا کہ نکاح عدت کے اندر ہوا ہے اس لئے فاسد ہوا، اب اس نے شوال کے تاریخ ۲۴ یا ۲۵ کو پھر دوبارہ عورت سے نکاح کیا، اب یہ نکاح شرعاً جائز ہے یانہیں؟شق ثانی میں زوج شرعاً کیا کرے؟بینواتو جروابیانا شافیا۔
الجواب

اگر عورت وقتِ طلاق حاملہ تھی اور ۲۹ شعبان کو جوزوج ثانی نے نکاح کیا اس سے پہلے وضع حمل ہوچکا تھا تو وہ نکاح صحیح ہوا اور عدت کے بعد ہی ہوا دوبارہ نکاح کی حاجت نہ تھی، اور اگر عورت کا وقتِ طلاق حاملہ ہونا ثابت نہ تھا تو یہ دونوں نکاح کہ شخص دوم نے کئے ناجائز وباطل ہیں کہ دونوں عدت کے اندر واقع ہوئے، پہلے کا عدت میں ہونا تو ظاہر کہ ۱۹دن میں تین حیض نہیں گزرسکتے اور دوسرے کایوں کہ جب زنِ مطلقہ عدت کے اندر حاملہ ہوجائے تو اب اس کی عدت اس حمل کے وضع تک ہوجاتی ہے، پس اس پر فرض ہے کہ عورت کو فوراً الگ کر دے، یہ حمل جواب ظاہر ہوا ہے اس کے وضع کاانتظار کرے، بعد وضع اس سے نکاح کرسکتا ہے،
فی ردالمحتار  عن النھر الفائق عن البدائع اعلم ان المعتدۃ لو حملت فی عدتھا ذکر الکرخی ان  عدتھا وضع الحمل ولم یفصل، والذی ذکرہ محمد ان ھذا فی عدۃ الطلاق امافی عدۃ الوفاۃ فلاتتغیر بالحمل وھو الصحیح۱؎اھ اقول ووجہہ ظاہر ان عدۃ الوفاۃ بالاشھر والطلاق بالحیض والحیض یرتفع بالحبل فافھم، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں نہر الفائق سے منقول ہے انہوں نے بدائع سے نقل کیا کہ واضح رہے کہ عدت والی دوران عدت اگر حاملہ ہوجائے تو امام کرخی کے قول کے مطابق اس کی عدت بچے کی پیدائش تک ہے، امام کرخی نے اس کی تفصیل نہ فرمائی، اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے خود جو ذکر فرمایا اس کے مطابق یہ حکم طلاق کی عدت کا ہے لیکن اگروفات کی عدت ہو تو پھر حمل کی وجہ سے اس کی عدت چار ماہ دس دن ہی رہے گی اور وفات والی عدت میں تبدیل نہ ہوگی، یہی صحیح مذہب ہے، اھ اقول (میں کہتا ہوں) اس کی وجہ ظاہر کہ وفات کی عدت مہینوں کے حساب سے ہوتی ہے اور طلاق کی عدت حیض کے حساب سے ہوتی ہے اور حیض حمل کی وجہ سے ختم ہوجاتا ہے، غور کرو۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب العدۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۶۰۴)
Flag Counter