Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
65 - 175
مسئلہ۹۴: مرسلہ رفیع الدین صاحب مختار    ۲۵شوال ۱۳۱۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چاند بی بی کا نکاح بعمر گیارہ برس پیر خاں کے ساتھ ہوا، چاند بی بی بعدنکاح حسب دستور اپنے شوہر کے گھر آئی، ایک دو روز رہ کر ماں باپ کے گھر واپس گئی، بعد نکاح کے تین برس بعد بیوہ ہوگئی، مسماۃ مذکور کا نکاح ثانی عطاخاں کے ساتھ جس کی عمر چھ برس کی تھی بعد فاتحہ چالیسویں کے کردیا، انتظار گزرنے عدت کا نہ کیا گیا، وقت نکاح ثانی چاند بی بی تخمیناً ۱۳، ۱۴برس کی ہوگی، اب یہ بات دریافت طلب ہے کہ بلاانتظار گزرنے عدت کے یہ نکاح ثانی جائز ہوا یانہیں؟اور بیوہ کے بھائی اور ماں زندہ ہیں تو کس کی اجازت درکار ہے؟
الجواب

جو عورت آزاد کسی عقد صحیح سے کسی مسلمان کے نکاح میں ہواور موتِ شوہر تک وہ نکاح اپنی صحت پر باقی رہے، کوئی فساد اس میں عارض نہ ہواور موتِ شوہر کے وقت عورت کو کسی طرح کا حمل ہونا ثابت نہ ہو تو عورت پر ہر حال میں خواہ مسلمہ ہویا کتابیہ بالغہ ہو یا صغیرہ شوہر بالغ تھا یاصبی خلوت ورخصت ہوئی یا نہیں بہر صورت چار مہینے دس دن کا انتظار لازم ہوتا ہے، اس مدت کے گزرنے سے پہلے اس کا نکاح حرام و ناجائز ہے،
فی الدرالمختار العدۃ (للموت اربعۃ اشھرو عشرا) بشرط بقاء النکاح صحیحا الی الموت (ملتقطا) وطئت اولا، ولو صغیرۃ او کتابیۃ تحت مسلم ولو عبدافلم یخرج عنھا الاالحامل (ولو) کان (زوجھا) المیت (صغیرا)غیر مراھق۱؎اھ ملتقطا۔
درمختار میں ہے موت کی وجہ سے عدت چار ماہ دس دن ہے بشرطیکہ موت تک نکاح صحیح رہاہو مطلقا، یعنی وطی کی گئی ہو یانہ کی گئی ہو، اگر چہ عورت نابالغہ ہو یا کوئی کتابیہ عورت مسلمان کے نکاح میں ہو اگرچہ وہ مسلمان غلام ہی ہو سب کا حکم یہی ہے،اگرچہ خاوند اس قدر چھوٹا ہو جو بلوغ کے قریب نہ ہو فوت ہواہو اھ ملتقطا۔(ت)
 (۱؎ درمختار        باب العدۃ         مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۵۶)
سائل مظہر کی چاند بی بی کا یہ دوسرا نکاح شوہر متوفی کے باپ نے اپنے بیٹے کی موت سے  اکتالیسویں بیالیسویں دن اپنے دوسرے بیٹے صغیر السن کے ساتھ کردیا تو یہ نکاح از آنجا کہ دیدہ و دانستہ عدت کے اندر کیا گیا محض باطل ہوا جسے نکاح ہی نہیں کہہ سکتے کما ذکرہ فی البحر وعنہ فی ردالمحتار(جیسا کہ بحر میں اور اس سے ردالمحتار میں ذکر کیاگیا ہے۔ت) چار مہینے دس دن موت شوہر سے گزرنے کے بعد چاند بی بی اگر بالغہ ہوتو اسے خود ورنہ اس کے ولی کو اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کردے، چاند بی بی کے اگر باپ داد ا نہیں تو اس کا جوان بھائی حقیقی ولی نکاح ہے اس کے ہوتے ہوئے ماں کواختیار نہیں والمسائل ظاھرۃ و فی الکتب دائرۃ(یہ مسائل ظاہر ہیں اور کتب میں مذکور چلے آرہے ہیں۔) واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter