Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
64 - 175
مسئلہ۹۲: از شہر کہنہ مسئولہ ننھے ۲۵محرم الحرام ۱۳۱۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت کو طلاق دی بعد طلاق تین یا چار یوم اس کا نکاح اور جگہ ہوگیا اور ایک یاڈیڑھ سال تک وہاں رہی بعد کو خاوند نے اس کو نکال دیا اس عورت نے تیسری جگہ نکاح کیا، اب یہ دریافت کرنا ہے کہ اس عورت کا دوسرا نکاح جو بعد طلاق بعد چھ یا چار یوم ہوا آیا جائز تھا یاناجائز؟اور تیسرا نکاح بھی اسی طرح جائز ہوا یاناجائز ؟بینواتوجروا۔
الجواب

سائل بیان کرتا ہے کہ عورت پہلے خاوند کے پاس رخصت ہوکر رہ چکی تھی اس کے بعد طلاق ہوئی اور طلاق کے بعد دوسرے نکاح سے پہلے عورت کے کوئی بچہ پیدا نہ ہوا طلاق کے تین چار ہی دن بعد عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا اس شخص کو بھی یہ سب حال معلوم تھا کہ ابھی طلاق کو تین چار ہی دن ہوئے پس اس صورت میں عورت کا یہ دوسرا نکاح حسب اختیار بحرالرائق محض زنا ہوا یہاں اس کی لڑکی بھی پیدا ہوئی پھر اس دوسرے شخص نے نکال دیا اور عورت نے تین چار ہی دن کے بعد تیسرے شخص سے نکاح کرلیا،یہ تیسرا نکاح صحیح و جائز ہوا کہ اب پہلے نکاح کی عدت گزرچکی تھی اور دوسرا نکاح نکاح ہی نہ تھا نرا زنا تھا  اور زناکے پانی کی شرع میں کوئی حرمت ،نہ اس کے لئے عدت۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۹۳: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کو اپنی ماں کہا اور ایک سال تک اسی زوجہ سے اس طور پر مفارقت رکھی کہ زوجہ کو اس کے والدین کے گھر بھیج دیا جب ایک سال گزر گیا تب زید نے بالفاظ صریح اپنی زوجہ کو طلاق دے دی، زوجہ نے بعد گزرنے ایک ہفتہ کے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، پس یہ نکاح قبل انقضائے عدت جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

زوجہ کو ماں کہنا گناہ مگر اس سے طلاق نہیں ہوتی،
کما نص علیہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر ثم العلامۃ الشامی فی ردالمحتار
وقد قال تعالٰی وانھم لیقولون منکر امن القول وزوراo۱؎
جیساکہ اس کو محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں پھر علامہ شامی نے ردالمحتار میں ذکر کیا ہے اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ یہ لوگ غلط اور جھوٹی بات کہتے ہیں،
 ( ۱؎ القرآن الکریم۵۸ /۲)
وفی الحدیث أ اختک ھی فکرہ ذٰلک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ونھی عنہ۲؎۔
اور حدیث شریف میں بہن کہنے پر فرمایا: کیا یہ تیری بہن ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ناپسند فرماتے ہوئے یہی فرمایا اور اس سے منع فرمایا۔(ت)
(۲؎ سنن ابو داؤد         کتاب الطلاق     آفتاب عالم پریس لاہور        ۱ /۳۰۱

سنن الکبری             باب مایکرہ من ذلک     دارصادر بیروت         ۷ /۳۶۶)
تو جس روز سے طلاق دی اس دن سے مطلقہ ہوئی اور پیش از انقضائے عدت نکاح قطعاً ناجائز حرام ہوا ان پر جدا ہوجانا فرض ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter