| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۹۱: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ مثلاً زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو طلاق دی، اس نے بعد منقضی ہونے ایک ماہ یا دوماہ کے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، یہ نکاح بدون انقضائے عدت کے شخص اجنبی سے ہوا شرعاً جائز ہے یانہیں؟اور ہندہ کو اس شخص سے دعوی مہر اور وراثت جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔(بیان کرو اور اجر پاؤ۔)
الجواب سائل مظہر کہ ہندہ معتدات بالحیض سے ہے پس صورتِ مستفسرہ میں اگر وہ نکاح ایک مہینہ بعد ہو اتھا بیشک فاسد کہ اس قدر مدت میں مضی عدت معقول نہیں، ہندہ ترکہ کی مستحق نہیں، اور مہر مسمی و مہر مثل سے جو کم ہوگا اس قدر پائے گی، اور اگر مہر مسمی کچھ نہ تھا مجہول ہوگیا تو پورا مہر مثل لازم آئے گا،
فی الدرالمختار ویجب مہر المثل فی نکاح فاسد بالوطی لابغیرہ ولم یزد علی المسمی لرضاھا بالحط، ولو کان دون المسمی لزم مھر المثل لفساد التسمیۃ بفساد العقد، ولولم یسم او جھل لزم بالغامابلغ ۱؎انتہی ملخصا وفیہ ایضا یستحق الارث برحم ونکاح صحیح فلاتوارث بفاسد ولاباطل اجماعا۲؎ انتہی ملتقطا،
درمختار میں ہے اور نکاح فاسد میں صرف وطی کی وجہ سے مہر مثل واجب ہوتا ہے وطی کے بغیر نہیں، پھر وہ مہر مثل مقررہ سے زائد نہ ہوگا کیونکہ عورت مقررہ کم مہر پر راضی تھی، اور اگر مہر مثل مقرر مہر سے کم ہوتو ایسی صورت میں مہر مثل ہی واجب ہوگا کیونکہ نکاح کے فساد کی وجہ سے مقررہ مہر فاسد ہوجاتا ہے، اور اگر مہر مقرر نہ کیا گیا ہویا مقدار معلوم نہ ہوسکے تو پھر مہر مثل جتنا بھی ہو وہی لازم ہوگا اھ ملخصا اور اسی میں ہے کہ وراثت کا استحقاق رشتہ اور صحیح نکاح کی وجہ سے ہوتا ہے لہذا محض نکاحِ فاسد یا باطل کی بناء پر استحقاق وراثت بالاجماع نہ ہوگا اھ ملخصاً(ت)
( ۱؎ درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۰۱) (۲؎ درمختار کتاب الفرائض مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۵۲)
اور جو بعد گزرنے دو مہینے یعنی ساٹھ دن کے ہوا اور ہندہ دعوی کرے کہ تین حیض کامل اس وقت تک گزر چکے اور عدت منقضی ہوگئی تھی تو قول ہندہ بقسم معتبر ہوگا، اگر ورثاء زوج ثانی اس کا خلاف گواہوں سے ثابت کردینگے تو حکم اس صورت کا بھی مثل صورت اولی کے ہے ورنہ جب ہندہ مضی عدت بحلف بیان کردے گی تو میراث ومہر دونوں پائے گی،
فی الدرالمختارقالت مضت عدتی والمدۃ تحتملہ وکذبھا الزوج قبل قولھا مع حلفھا والاتحتملہ المدۃ لا، لان الامین انما یصدق فیما لایخالفہ الظاھر، ثم لو بالشہور فالمقدار المذکور، ولو بالحیض فاقلھا للحرۃ ستون یوما۳؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے: بیوی نے کہا میری عدت ختم ہوچکی ہے اور خاوند اس کو جھوٹا قرار دیتا ہے تو اگر مدت اتنی ہو جو عدت گزرنے کی گنجائش رکھتی ہے تو حلف لے کر عورت کی تصدیق کردی جائے گی، اگر وہ مدت ایسی نہیں تو پھر عورت کی تصدیق نہ کی جائیگی، کیونکہ کسی امین کی تصدیق ایسی صورت میں کی جاتی ہے جب ظاہر شواہد اس کے مخالف نہ ہوں پھر اگر عدت مہینوں کے حساب سے ہوتو تین ماہ عدت کے ہیں اور عدت حیض کے حساب سے ہوتو کم از کم آزاد عورت کےلئے ساٹھ دن عدت ہے(جس پر عورت کی تصدیق کی جائے گی) واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۸)