Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
62 - 175
مسئلہ ۸۸: از موضع پستوڑ تحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ فدا حسین صاحب ۲۹رمضان ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ عبدالرحمٰن نے مبلغ دوسور وپے مجھ  سےلے کر بخوشی استعفاء دے دیا اپنی بی بی کو، اب اس میں نکاح ابھی ہوسکتا ہے یانہیں؟یابعد عدت عورت کے، تین سال سے بیوی اپنی ماں کے مکان پر تھی اس اثناء میں خاوند استعفاء دے گیا۔
الجواب

جب تک عدت نہ گزرے نکاح کا پیام دیناحرام قطعی ہے،اور وہ روپیہ کہ دیا رشوت تھا، دینا لینا دونوں حرام تھا۔ عبدالرحمٰن پر لازم ہے کہ وہ روپیہ فداحسین کو واپس دے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۸۹: از قصبہ پکسر الورن ڈاکخانہ رسولپور ضلع رائے بریلی مسئولہ عبدالوہاب

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ کہ اس کے شوہر نے عرصہ چار برس سے اس کو اپنے گھر سے نکال دیا ہے اور طلاق نہیں دی، اور اس  اثناء میں وہ زنا سے حاملہ ہوچکی ہے اب اس کا شوہر انتقال کرگیا ہے مگر عدت پوری نہیں ہوئی ایسی حالت میں جبکہ وہ زنا کی مرتکب ہوئی ہے عدت کے اندر نکاح جائز ہے یانہیں؟
الجواب

عدت کے اندر نکاح حرام قطعی ہے،اور جب یہ حمل حیاتِ شوہر سے ہے شرعاً شوہر کا ہے اور جب تک وضع نہ ہو عدت ہی میں ہے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الولد للفراش ولللعاھر الحجر۱؎،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ نکاح والے کی طرف ہی منسوب ہوگا اور زانی نسب سے محروم ہوگا،
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الفرائض     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۹۹۹

مسند احمد بن حنبل         دارالفکر بیروت        ۲ /۴۰۹)
وقال تعالٰی واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: حمل والی عورتوں کی عدت بچے کی پیدائش تک ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم     ۶۵ /۴)
مسئلہ۹۰: ۷ شعبان۱۳۱۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ کو طلاق دی اور عمرو نے اس کے دوسرے دن یا اسی دن ہندہ سے نکاح کرلیا، یہ نکاح جائز ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب

بیان سائل سے ظاہر ہوا کہ شوہر اول اس عورت سے خلوت کرچکا تھا کئی سال کے بعد طلاق دی اور عورت کو حمل نہ تھا پس یہ نکاح کہ قبل گزرنے عدت کے دوسرے شخص سے ہوااصلاً صحیح نہیں،ا ن دونوں پر فرض ہے کہ فوراً جد ا ہوجائیں۔
قال اﷲ تعالٰی والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء۔۱؎واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: مطلقہ عورتیں تین حیض مکمل ہونے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲ /۲۲۸)
Flag Counter