Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
61 - 175
مسئلہ۸۳: از رانچی محلہ اوپر بازار مرسلہ مولوی عبدالرب صاحب ۸جمادی الاول ۱۳۳۶ھ

اگر معتدہ غیر سے بصورت لاعلمی کوئی شخص نکاح کرے اور تمتع کرے اور بصورت علم اس سے کنارہ عہ کیا یہ تمتع داخل زنا ہوگا یانہیں؟
عہ: کرم خوردہ تھا۔
الجواب

جبکہ اسے معلوم نہ تھااور جس وقت معلوم ہوافوراً جدا کردیاتو اس کے حق میں کسی طرح زنا نہیں،زنا ہونا درکنار اس پر کوئی الزام بھی نہیں البتہ وہ وطی واقع میں ضرور وطی حرام تھی اور اثم مرفوع،کمانصواعلیہ وذٰلک لان الجھل فی موضع الخفاء عذر مقبول (جیسا کہ اس پر نص ہے اور یہ اس لئے کہ پوشیدہ مقام پر جہالت عذر مقبول ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۸۴: از شہر مرسلہ نواب نثار احمد صاحب مورخہ ۳۰صفر۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیاں شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید فوت ہوا ایک موضع میں رہتا تھا وہاں کوئی طبیب نہیں ہے، پس اس کی زوجہ ایام عدت ہی میں بوجہ علالت اپنی دختر نیز اپنے بچوں خورد سال کے واسطے علاج کے کسی دوسری جگہ جاسکتی ہے یانہیں اور نبض کسی حکیم کو دکھاسکتی ہے یانہیں؟
الجواب

نبض بضرورت دکھاسکتی ہے اور دوسری جگہ اس طور پر جاسکتی ہے کہ رات کا اکثر حصہ شوہر ہی کے مکان میں گزارے،اور اگر اسی مکان میں ممکن ہوتو یہ بھی حرام ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۸۵: از ریاست فریدکوٹ ضلع فیروز پور پنجاب مرسلہ منشی محمد علی ارم ۶رجب ۱۳۳۷ھ

کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایام عدت طلاق یا مرگ میں نکاح ہوجائے تو از خود فسخ ہے یا اعادہ طلاق کی ضرورت ہوگی عدت پہلی ہی رہی یا جدید، اور دانستہ ایسا نکاح پڑھانے والے کا کیا حکم ہے؟
الجواب

عدت کے اندر نکاح حرام قطعی ہے مرد وزن دونوں پر اس کا ترک فرض ہے مرد کہے میں نے اس نکاح کوترک کیا خواہ اس سے کہہ دے، اور دونوں نہ مانیں تو حاکمِ شرع جبراً تفریق کردے بس یہ ترک یاتفریق ہی کافی ہے طلاق کی حاجت نہیں، اس دوسرے شخص نے اگر اس سے قربت نہ کی تو عدت وہی پہلی ہے ورنہ دوسری بھی لازم آئی دونوں ایک ساتھ ادا ہوتی جائیں گی اخیر میں جو باقی رہے گی پوری کرلی جائے گی وا ﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۶: از شہرمحلہ بھوڑ مسئولہ شیخ ننھے ۹رجب ۱۳۳۸ھ

ایک لڑکی جسے طلاق ہوئے ایک مہینہ نہیں ہوا تھا دوسری جگہ ایک حافظ سے نکاح ہوا وہ پیش امام ہے، یہ نکاح درست ہے یانہیں؟ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے اور اس میں جو لوگ شریک ہوئے ان کےلئے کیا حکم ہے؟
الجواب

اگر وہ لڑکی اپنے شوہر کی مدخولہ تھی اور حاملہ نہ تھی کہ اس مہینہ کے اندر بعد طلاق بچہ پیدا ہوگیا ہواس کے بعد نکاح ثانی ہوا ہوتو یہ دوسرا نکاح عدت کے اندر ہوا اور محض حرام حرام ہوا اور میں قربت خالص زنا،اگر جس کے ساتھ زنا ہواا سے خبر تھی کہ یہ مطلقہ ہے اور ہنوز عدت نہ گزری جان کر نکاح کرلیا تو اشد فاسق و فاجر ہے، اس کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب، اور اسے امام بنانا گناہ گناہ، یونہی اگر معلوم نہ تھا اور اب معلوم ہوا اور فوراً جدا نہ ہوگیا جب بھی اس پر یہی احکام ہیں اور جو لوگ دانستہ اس حرام نکاح میں شریک ہوئے اور کھایا پیا وہ بھی سخت گنہگار ہوئے اور وہ حرام کھانے والے ہوئے ان سب پر بھی توبہ فرض ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۷: از چھٹن شاہ ۲۸رجب ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان اس مسئلہ میں کہ ایک شخص قضائے الٰہی سے فوت ہوگیا اس کی عورت کو زید تین ہفتہ کے اندر لے گیا، زید رہنے والا دیس کا تھا اسلئے اس عورت سے نکاح کیا وہ عورت راضی نہیں تھی ایک ماہ کے اندر چلی آئی اب اس کا نکاح اور جگہ کیا جائے جائز ہے یانہیں؟
الجواب

وہ نکاح حرام محض ہوا، پھر اگر زید نے اس سے صحبت نہ کی تو وفات شوہر سے چار مہینے دس دن کے بعد نکاح کرسکتی ہے، اور اگر زید صحبت کرچکا تو ان پر فرض ہے کہ جدا ہوجائیں اور عورت تین حیض کا انتظار کرے، اگر تین حیض اسی چار مہینے دس دن کے اندر گزرجائیں تو چار مہینے دس دن کے بعد نکاح کرلے، اور اگر ابھی تین حیض اس جدائی کے بعد نہ گزریں تو انتظار اسی جدائی کے بعد اور کرے کہ تین حیض پورے ہوجائیں اور اس وقت دوسرے سے نکاح کرے، درمختار میں ہے:
اذا وطئت المعتدۃ بشبھۃ وجبت عدۃ اخری وتداخلتا وعلیہا ان تتم العدۃ الثانیۃ ان تمت الاولٰی۱؎۔
اگر عدت والی مطلقہ عورت سے شبہہ کی وجہ سے وطی کرلی جائے تو اس عورت پر دوسری عدت ضروری ہے اور پہلی عدت کی بقیہ مدت دوسری میں شمار ہوجائےگی اور اگر پہلی عدت ختم ہوچکی ہو تو پھر دوسری عد ت پوری کرے۔(ت)
 (۱؎ درمختار         باب العدۃ         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۵۶)
Flag Counter