Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
60 - 175
مسئلہ۸۱: ازمارہرہ ضلع ایٹہ مرسلہ محبوب علی صاحب ۱۰/شوال المکرم ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت نے اپنے شوہر زید کی حیات میں جس کی طلاق ثابت نہیں عمرو نامی سے بطور عاشقی کے دوسرے شہر میں جاکر عقد نکاح کیا، اس کے تھوڑے ہی دن بعد شوہر سابق مرگیا، بعد مرنے کے چار برس تک عورت عمرو کے قبضہ میں رہی بطور زوجہ۔ ایک روز باہم نااتفاقی اور لڑائی کے عمرو نے عورت کو طلاق بائن دی اور کئی روز تک کہا  کہ میں نے طلاق دی اور ایک جلسہ میں دس پانچ دفعہ کہا کہ میں نے تجھ کو طلاق دی، اور پندرہ روز تک علیحدہ رہا۔ اب بباعث عشق باہمی کے عورت اور عمرو چاہتا ہے کہ پھرتجدید نکاح کی ہونی چاہئے، اور عذر کرتا ہے کہ جب بغیر طلاق شوہر سابق کے نکاح ہی نہیں ہوا تو طلاق کیا چیز ہے اور عمرو مسجد میں مؤذن ہے اہل اسلام اس کو تجدید نکاح سے روک رہے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ مرنے شوہر سابق اور گزرنے عدت سے وہ نکاح ہی قائم ہوگیا کہ جس کی وجہ سے تیری زوجیت پانچ سال رہی ورنہ کیا آج تک تونے اس سے حرام کیا ہم تجھ کو مسجد سے نکال دیں گے جب تک حلالہ نہ ہوجائے، جب تک نکاح جدید نہ ہوجائے عورت تجھ پر حرام ہے، اور علاوہ اس کے عمرو غیر کفو بھی ہے، اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں آیا نکاح جدید کیا جائے یا بعد حلالہ کے عورت سے نکاح جائز ہوگا، اور اگر اس عورت سے عمرو خلافِ شرع کوئی فعل کرے تو مؤذن بنانا چاہئے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب

اگر یہ امر واقعی ہے کہ زید کی حیات میں بے طلاق عورت نے عمرو سے نکاح کرلیا پھر بعد موتِ زید و انقضائے عدت وفات عمرو کے ساتھ نکاح جدید نہ کیا بلکہ اسی نکاح باطل پر قائم رہی تو وہ ہرگز زن وشوہر نہ تھے بلکہ زانی وزانیہ تھے، طلاقیں کہ عمرو نے دیں محض لغو تھیں، حلالے کی کوئی حاجت نہیں، صرف نکاح از سرِ نو کرلینا کافی ہے جبکہ عمر و قوم یا مذہب یا پیشے وغیرہ میں عورت کے اولیاء سے ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے زن کےلئے باعث ننگ وعار ہو یا ایسا کم ہے تو عورت کے ولی نے پیش از نکاح عمرو کو ایسا جان کر اس سے نکاح زنِ مذکور کی صریح اجازت دے دی یا عورت کوئی ولی رکھتی ہی نہ ہو، ان تینوں صورتوں میں نکاح ہوجائے گا ورنہ عمرو ایسا کم رتبہ ہے اور عورت ولی رکھتی ہے اور ولی پیش از نکاح اس کی کم رتبگی پر مطلع ہوکر اجازت نکاح نہ دے تو عورت کا عمرو سے نکاح کسی طرح نہیں ہوسکتا۔ عمرو جب تک تائب ہوکر بحال جواز نکاح، نکاح نہ کرے یا عورت سے صاف جدا نہ ہوجائے ہرگز مؤذن نہ بنایا جائے وہ فاسق معلن ہے اور فاسق اس عہدہ دین کے لائق نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۸۲: ازموضع کرگینا مرسلہ امام بخش علی بخش ۲۵ربیع الآخر۱۳۳۶ھ

مٹھو لوہار کی عورت بیوہ تھی ۱۴مہینے سے، چند روز بعد کچھ عورتوں نے شناخت کیا کہ یہ حاملہ ہے، اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا اپنی تنہائی میں زبردستی عظیم اﷲ قوم نداف نے میرے ساتھ یہ کام کیا میں حاملہ ہوئی، تو بعد کولوگوں نے عورت کو بند کردیا حفاظت اس کی کی، بعد کو جب لڑکا پیدا ہوا تو نکالدیا وہ چلی گئی اور عظیم اﷲ نے عوام میں مشہور کیا کہ لڑکا میرا ہے، بستی والوں نے اس کو بند کردیا، عورت کو نکال دیا، اب ان کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب 

ان کےلئے سخت سزاکا حکم ہے مگریہاں کون سزادے سکتا ہے یہی سزا کافی ہے کہ برادری سے خارج رکھے جائیں۔ رہا لڑکا، اگر مٹھو کے مرنے سے دوبرس بعد پیدا ہوا یا چار مہینے دس دن بعد عورت نے اقرار کرلیا تھا کہ وہ عدت سے فارغ ہوگئی تو ان دو صورتوں میں وہ لڑکا مجہول النسب ہے اور اگر عدت سے فارغ ہونے کا اقرار نہ کیا تھا اور مٹھو کے مرنے سے دو برس کے اندر لڑکا پیدا ہوا تو لڑکا مٹھو کا ہے وہ نداف جھوٹا ہے۔ وا ﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter