Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
6 - 175
ثانیاً: بالفرض لفظ''جواب'' معنی رد وانکار کا صالح نہ ہوتا بلکہ جانے دیجئے یوں فرض کیجئے کہ وہ سرے سے کنایہ ہی نہ ہوتا بلکہ خاص صریح ہوتا جب بھی صورت مستفسرہ میں بعد اس کے کہ فضل کریم نے حلفاً انکار نیت کیا، حکمِ طلاق زنہار ممکن نہ تھا کہ یہاں عورت کی طرف اضافت نہیں، صرف اتنا کہا ہے کہ ''میری طرف سے جواب ہے'' یہ کچھ نہ کہا کہ کس کو جواب ہے، اور ترکِ اضافت ہمیشہ مانع حکم طلاق ہے جبکہ شوہر بحلف انکار  نیت کرے۔
فتاوٰی خانیہ میں پھرفتاوٰی خلاصہ پھر فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
واللفظ للاولی رجل قال لامرأتہ فی الغضب اگر تو زن من سہ۳طلاق وحذف الیاء لاتطلق لانہ مااضاف الطلاق الیھا۲؎۔
یعنی اگر کسی شخص نے اپنی عورت سے حالتِ غضب میں کہا''تو میری عورت ہے توتین طلاق''۔ اور یوں نہ کہا کہ ''تو میری عورت ہے تو تجھے تین طلاق'' طلاق نہ ہوگی کہ جب اس نے ''تجھے'' کا لفظ نہ کہا تو طلاق کو عورت کی طرف اضافت نہ کیا ۔
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خاں         فصل فی الکنایات والمدلولات     نولکشورلکھنؤ        ۲/ ۲۱۵)
نیز فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
امرأۃ قالت لزوجھا طلقنی ثلاثا فقال الزوج اینک ہزار طلاق لاتطلق امرأتہ لانہ کلام محتمل۔۳؎
یعنی عورت نے شوہر سے کہا''مجھے تین طلاق دے دے'' اس نے کہا ''فی الحال ہزار طلاق'' طلاق نہ ہوگی کہ اس میں اپنی عورت کو طلاق دینا صاف نہیں۔
 (۳؎ فتاوٰی قاضی خاں        کتاب الطلاق       نولکشورلکھنؤ        ۲/ ۲۱۵)
فتاوی خلاصہ میں ہے:
قالت طلقنی فضربھا وقال اینک طلاق لایقع ولوقال اینک طلاق یقع۔۱؎
یعنی عورت نے کہا''مجھے طلاق دے دے'' اس پر مردنے اسے مارا اور کہا''فی الحال طلاق'' طلاق نہ ہوگی اور اگر کہا ''فی الحال تجھے طلاق'' طلاق ہوجائیگی۔
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی         کتاب الطلاق     مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ     ۲ /۷۶)
فتاوٰی قاضی خاں میں ہے:
رجل قال ''نان خردیم ونبیذخوریم زنان مابسہ۳''ثم قال لہ رجل بعد ماسکت''بسہ۳ طلاق'' فقال الرجل ''بسہ طلاق''لاتطلق امرأتہ لانہ لما فرغ عن الکلام وسکت ساعۃ کان ھذاابتداء کلام لیس فیہ اضافۃ الٰی شیئ۔۲؎
ایک شخص نے کہا ''ہم نے روٹی کھائی اور نبیذ پی ہماری عورتوں کو تین''پھر جب چپ رہا دوسرے نے اس سے کہا ''تین طلاقیں'' تو جواب میں اس نے کہا''تین طلاقیں'' طلاق نہ ہوگی کہ جب وہ پہلی بات کہہ کر کچھ دیر چپ رہاتو اب یہ ابتدائی کلام ہوا اور اس میں کسی طرف اضافت نہیں۔
محیط پھر فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
سئل شیخ الاسلام الفقیہ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ اتریدون ان اطلقک قالت نعم فقال بالفارسیۃ  اگر  تو  زن  منی یک طلاق دو۲ طلاق سہ۳طلاق قومی واخرجی من عندی وھو یزعم انہ لم یرد بہ الطلاق فالقول قولہ ۔۳؎
یعنی امام شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے سوال ہو اکہ ایک شخص نے اپنی عوت سے نشہ میں کہا''کیا توچاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دے دوں'' اس نے کہا''ہاں'' مرد نے کہا ''اگر تو میری جوروہے ایک طلاق دو طلاق تین طلاق، اٹھ میرے پاس سے دور ہو'' اور اس کا بیان ہے کہ اس نے ان لفظوں سے طلاق کی نیت نہ کی، تو اس کا قول معتبر ہے۔
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ         الفصل السابع  فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۳)
امام اجل قاضی خان نے فرمایا:
لانہ لم یضف الطلاق الیھا۴؎
اس کا قول اس لئے معتبر ہوا کہ اس نے ان لفظوں میں طلاق کو عورت کی طرف نسبت نہ کیا تھا یعنی یوں نہ کہا تھا کہ اگر تو میری عورت ہے تو تجھے ایک طلاق دو طلاق تین طلاق۔
 (۴؎ فتاوٰی قاضی خاں         باب التعلیق        نولکشور لکھنؤ        ۲ /۲۱۹)
فتاوٰی ذخیرہ پھر فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
سئل نجم الدین عمن قالت لہ امرأتہ مرا برگ باتوباشیدن نیست مراطلاق دہ فقال الزوج چوں تو روی طلاق دادہ شد وقال لم انوالطلاق ھل یصدق قال نعم۔۱؎
امام نجم الدین رحمہ اﷲتعالٰی سے سوال ہوا ایک شخص سے اس کی عورت نے کہا''تیرے ساتھ میرے رہنے کا فائدہ نہیں مجھے طلاق دے دے'' شوہر نے کہا '' تجھ جیسی کو طلاق دے دی گئی'' اور کہا  میری نیت طلاق کی نہ تھی، کیااس کا قول مانا جائیگا۔ فرمایا ہاں۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۱۵)
فتاوٰی امام قاضی خاں پھر فتاوٰی بزازیہ میں ہے:
قال لھا لاتخرجی الابا ذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکر حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ۲؎۔
یعنی عورت سے کہا''بے میری اجازت کے باہر نہ جانا کہ میں طلاق کا حلف کرچکا ہوں''۔ عورت بے اجازت چلی گئی، طلاق نہ ہوگی  کہ اس نے یہ نہ کہا کہ تیری طلاق کا حلف کرچکا ہوں ممکن ہے کہ اورکسی کی طلاق کا حلف کیا ہوتو جب وہ اس عورت کو طلاق دینے کی نیت سے منکر ہے تو  اس کا قول معتبر ہے۔
 (۲؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الایمان     نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۲۷۰)
درمختار میں ہے:
لم یقع لترکہ اضافۃ الیھا۔۳؎
اس صورت میں طلاق اس لئے نہ ہوئی کہ عورت کی طرف طلاق کی اضافت نہ کی۔
 (۳؎ درمختار         کتاب الطلاق     باب الصریح     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۱۸)
کتب معتمدہ میں اس مسئلہ میں سندیں بہت بکثرت ہیں اور تمام تحقیق ہمارے رسالہ الکاس الدھاق باضافۃ الطلاق (۱۳۱۳ھ) میں ہے تو آفتاب سے زیادہ روشن ہے کہ جس شخص نے خود حکم بن کر یہاں حکم  طلاق دیا اور حسینہ کے نکاح سے نکلنے کا فیصلہ کیا وہ اس کا محض جہل وظلم وزعم باطل تھا۔ وہ حکم جہالت اور وہ فیصلہ بطالت اور وہ حکم بن بیٹھنا افتراء وضلالت۔
اولاً اس نے اپنی جہالت سے  لفظ ''جواب ہے'' کو محتمل دشنام ٹھہراکر اس بناء پر کہ یہ الفاظ فضل کریم نے بحالتِ غیظ وغضب میں کہے تھے قضاء  وقوعِ طلاق کا حکم دیا اور نہ جانا کہ وہ محتمل رد ہے اور جو لفظ محتمل رد ہو اس سے کسی حالت میں بے نیت طلاق نہیں ہوسکتی نہ دیانۃ  نہ قضاءً۔ 

ہدایہ میں ہے:
فی حالۃ الغضب یصدق فی جمیع ذلک لاحتمال الرد۱؎۔
غصہ کی حالت میں مذکورہ تمام صورتوں میں قائل کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ رد کا احتمال ہے۔(ت)
 (۱؎ الہدایۃ         فصل فی الطلاق قبل الدخول         مکتبۃ العربیۃ کراچی    ۲ /۳۵۴)
کافی میں ہے:
فی مذاکرۃ الطلاق یقع الطلاق فی سائر الاقسام قضاء الافیما یصلح جوابا وردافانہ لایجعل طلاقا۲؎۔
قضاءً مذاکرہ طلاق میں تمام صورتوں میں طلاق واقع ہوجائیگی لیکن جن صورتوں میں جواب اور رد ہونے کا احتمال ہو ان صورتوں میں طلاق نہ ہوگی۔(ت)
(۲؎ کافی     )
ثانیاً اسے نہ سوجھا کہ لفظ اضافت سے خالی ہے تو بحال انکار نیت حکم طلاق ناممکن ہے اگرچہ خود لفظ ''طلاق'' ہوتا جیسا کہ مسائل مذکورہ میں گزرا، نہ کہ لفظ ''جواب'' کہ کنایہ ہے اور وہ بھی محتمل رد وانکار۔ 

محیط میں ہے:
لایقع فی جنس الاضافۃ اذالم ینولعدم الاضافۃ الیھا۳؎۔
یعنی جنس اضافت میں جب طلاق کو عورت کی طرف اضافت نہ کرے طلاق نہ ہوگی جب تک شوہر نیت نہ کرے۔
(۳؎محیط)
ثالثاً اس نے عورت کو خود اپنے معاملے میں قاضی بتایا اس کا اگریہ مطلب کہ عورت خود حاکم ہے اوراس کا حکم مثل قاضی شرع نافذ وناطق ہے جب تو صریح جہالت ہے، ہاں جہاں کہ مرد خود حَکم بن بیٹھتے ہوں وہاں کی عورتیں اگر خود قاضی بن بیٹھیں تو کیا عجب۔ اور اگریہ مراد کہ الفاظ طلاق میں عورت کو وہی سمجھنا چاہئے جو عام لوگوں اور قاضی کو کہ دل کا حال اﷲ جانتا ہے، یہ سب ظاہر پر عمل کرنے والے ہیں تو ہم درمختارو ردالمحتار وفتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی عالمگیری وفتاوٰی خلاصہ وفتاوٰی ذخیرہ وفتاوٰی بزازیہ وفتاوٰی محیط وبحرالرائق وکافی شرح وافی وہدایہ کے نصوص جلیلہ سنا چکے کہ اس صورت میں جبکہ شوہر بحلف منکرنیت ہے قاضی بھی طلاق نہیں ٹھہراسکتا تو عورت کیا چیز ہے۔

رابعاً اس کی جہالت کا صاف واضح نمونہ وہ ہے کہ فضل کریم شہادت پیش کرنے میں قاصر رہا وہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ یہاں فضل کریم مدعا علیہ ہے اور حسینہ مدعیہ ہے مدعا علیہ کو شہادت کی کیا حاجت جس کے  پیش  کرنے سے اسے قاصر کیا جائے۔
خامساً حکم بننے میں اگر اس نے یہ زعم کیا کہ فضل کریم نے اسے حکم کیا اور وُہ واقع میں ایسا نہ تھا تو اس نے ایک مسلمان پر افتراء کیا اور شرع مطہر میں مفتری کی سزا اسلام کے یہاں اسی۸۰ کوڑے ہیں
___ ولعذاب الاٰخرۃ اکبر۱؎
 (اور بیشک آخرت کاعذاب اور سخت تر)
(۱؂ القرآن الکریم    ۳۹ /۲۶)
اور اگریہ ٹھہرایا کہ گو فضل کریم نے مجھے حکم نہ کیا مگر شریعت نے بے رضا وتحکیم خود حکم بن بیٹھنا اور فیصلہ کردینا جائز کیاہے اور ایسا فیصلہ شرعاً صحیح ونافذ ہوتا ہے تو اس نے شریعت مطہرہ پر افترا کیا، اور شریعت مطہرہ پر افترااﷲ عزوجل پر افترا ہے اور اﷲ عزوجل پر افترا بے ایمان ہی کرتا ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
انما یفتری الکذب الذین لایؤمنون ۲؎
جھوٹے افتراء وہی باندھتے ہیں جو مسلمان نہیں۔
(۳؎ القرآن الکریم    ۱۶ /۱۰۵)
Flag Counter