| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ ۸۰: از مارہرہ مطہرہ مرسلہ حضرت سید حسین حیدر میاں صاحب ۱۱ رمضان المبارک ۱۳۱۳ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ والدین ہندہ سنی المذہب نے ہندہ سنی المذہب کا نکاح زید شیعہ مذہب سے (جو پورا پورا عقائد مجتہدین حال لکھنؤ کا پیرو تھا جناب مولٰی علی کرم اﷲتعالٰی وجہہ کو سوائے سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے تمام انبیائے سلف سے افضل جانتا اور قرآن مجید کو ناقص اور محرف مانتا) بوجہ کفو وبرادری کے کردیا، زید قبل از عقد مرض الموت مریض تھا بعد عقد اور اشتداد ہوا کہ روز وشب میں گاہ گاہ لمحہ بھر کو ہوش آتا اس باعث سے خلوت صحیحہ نہ ہوسکی صرف اتنا ہوا کہ ہندہ کی چچی ہندہ کو بوقت شام زید کے پاس لے گئی اس کے قریب جو چوکی بچھی تھی اس پر بٹھا دیا، زید کو اس وقت اتنا ہوش آیا تھا کہ اس نے ہندہ کے منہ پر سے ہاتھ اٹھانے کا قصد کیا مگر ہاتھ لگاتے ہی کثرت ضعف و بیہوشی سے زید کا ہاتھ گر پڑا، یہ حال دیکھ کر اس کی چچی کہ کچھ دور علیحدہ کھڑی دیکھی رہی تھی آئی اور ہندہ کو اٹھالے گئی، اس کے بعد کبھی نوبت ایک دوسرے کو دیکھنے کی بھی نہ آئی کہ زید سات آٹھ روز میں مرگیا، والدین نے ہندہ کا نکاح بکر سنی المذہب کے ساتھ نیز کفو وبرادری تھا چار مہینے دس دن گزرنے سے پہلے کردیا، ۱۵ذی الحجہ کو زید سے نکاح ہوا تھا ۲۱ ذی الحجہ کو زید مرگیا، ۱۷ ربیع الثانی کو ہندہ کا نکاح بکر سے ہوا، عدت میں ۱۴روز کم تھے، اب ہندہ صاحب اولاد ہے، بعض لوگ اولاد ہندہ کی صحت نسب پر معترض ہیں کہ بکر نے یہ نکاح عدت کے اندر ہی کرلیا، اس صورت میں بعد نظر عمیق ان مراتب کا جواب عنایت ہوکہ زید وہندہ کا عقد صحیح ہوا تھا یا نہیں؟ہندہ پر بوجہ عدمِ صحت نکاح یا عدمِ وقوع خلوت صحیحہ کے بعد مرگ زید عدت موت واجب تھی یا نہیں؟عقد ثانی اوراس سے جواولاد پیدا ہوئی اس کی نسبت کیا حکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب صورت مستفسرہ میں عقد ثانی بلاتامل صحیح اور اس سے جواولاد ہوئی بلاوجہ صحیح النسب ہے، عدت موت چار مہینے دس دن ہونے کےلئے اگرچہ خلوت وغیرہ کسی بات کی حاجت نہیں غیر حاملہ عورت پر مرگ شوہر سے عدت لازم آتی ہے،
فی الدرالمختار العدۃ للموت اربعۃ اشھرو عشرا بشرط بقاء النکاح صحیحا الی الموت مطلقا وطئت اولا، ولوصغیرۃ فلم یخرج عنھا الاالحامل۱؎۔
درمختار میں ہے کہ موت کی وجہ سے عدت مطلقا چار ماہ دس دن ہوگی بشرطیکہ موت تک نکاح صحیح رہا ہو، بیوی سے وطی ہوئی یانہ، بیوی اگرچہ نابالغہ ہی کیوں نہ ہو، اس ضابطہ سے صرف حاملہ عورت کی عدت مختلف ہوگی۔(ت)
( ۱؎ درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۶)
مگر عدت تو منکوحہ پر ہوتی ہے ہندہ و زید میں باہم نکاح ہی اصلاً نہ تھا کہ جب زید مثل عام روافض زمانہ ان عقائد کفر کا معتقد تھا تو قطعاً کافر مرتد تھا،
عالمگیریہ میں ہے:
یجب اکفارالروافض فی قولھم (وعد بعض عقائد ھم المکفرۃ وقال)وھٰؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکامھم احکام المرتدین کذافی الظھیریۃ۔۱؎
رافضیوں کو کافر قرار دینا ضروری ہے ان کے عقائد کی بابت (یہاں روافض کے بعد عقائد کفر یہ ذکر کرکے ہندیہ میں فرمایا کہ) یہ قوم ملت اسلامیہ سے خارج ہے، اور ان کے احکام مرتدین جیسے ہوں گے جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوی ہندیۃ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۶۴)
اور مرتد مرد خواہ عورت کا نکاح کسی ملت ومذہب والے سے ہوہی نہیں سکتا نہ مومنین سے نہ کفار سے نہ خود اسی کے ہم مذہبوں سے۔
ہندیہ میں ہے:
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذٰلک لایجوز نکاح المرتدۃ مع احدکذافی المبسوط۔۲؎
مرتد کو جائز نہیں کہ وہ مرتدہ، مسلمان یا کافرہ اصلیہ سے نکاح کرے، اور یونہی مرتدہ کا نکاح کسی سے بھی جائز نہیں، جیسا کہ مبسوط میں ہے(ت)
(۲؎ فتاوی ہندیۃ باب فی المحرمات بالشرک نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۲۸۲)
تو ہندہ اگرچہ زید کی حیات ہی میں بلاطلاق اسی وقت اپنا عقد بکر سے کرلیتی جب بھی جائز وصحیح تھا۔ (جواب ناقص ملا)۔