Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
58 - 175
مسئلہ۷۸: ۲۷رجب ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے کہ زید نے اپنی زوجہ کو طلاق دی ایک جلسہ میں تین مرتبہ سامنے دو شخص نمازیوں کے، اور وہ عورت حاملہ بھی تھی، اب زید اپنے گھرسے اس کو نکال دے یا نہیں، یا اپنے گھر میں اس کو رکھے اور کھانے کو اس کو دے اور کب تک اس کو کھانے کو دے، اور زید نے تکرار زن وشوہر کے سبب سے طلاق دی تھی، اب دونوں رضا مند ہیں، اب زید چاہتا ہے کہ پھر گھر میں رکھے، اب سائل کا سوال علمائے دین سے یہ ہے کہ از روئے قرآن وحدیث کیا حکم ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ اور امام شافعی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ اور امام ابن حنبل رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیک شرع شریف  سے کیا حکم ہے؟
الجواب

تین طلاقیں ہوگئیں، چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے، اب وہ بغیر حلالے اس سے نکاح نہیں کرسکتا،یہی حکم قرآن وحدیث کا ہے وہ عدت تک یعنی بچہ ہونے تک گھر میں رہے گی اور روٹی کپڑا زید کو دیناہوگا مگر بالکل غیر واجنبی عورت کی طرح رہے اس سے پردہ کرے،
قال اﷲتعالٰی اسکنوھن من حیث سکنتم من وجد کم، ولاتضاروھن لتضیقواعلیھن، وان کن اولات حمل فانفقوا علیھن حتی یضعن حملھن۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: عدت والی عورتوں کو وہاں رہائش دو جہاں تم خود رہائش رکھتے ہو اپنی حیثیت کے مطابق، اور ان کو تنگی دے کر ضرر مت پہنچاؤ، پھر اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کو خر چہ دو تاوقتیکہ وہ بچے کو جنم دیں۔(ت)

صورت حمل میں یہی مذہب چاروں ائمہ کا ہے۔واﷲتعالٰی اعلم
 (۲؎ القرآن الکریم ۶۵ /۶)
مسئلہ ۷۹: از محلہ مرداد مرسلہ حضرت مولانا سلیمان اشرف صاحب (سابق پر وفیسر دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ)۲۶شوال ۱۳۱۸ھ

عالم اہلسنت فاضل بریلوی متع اﷲ المسلمین بطول بقائکم، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، زید نے اپنی بی بی کو طلاق بائن دی اور بعد ایک مہینہ کے مرگیا، اب اس کی بی بی کتنی مدت بعد عقد ثانی کرے؟بینواتوجروا
الجواب

یہ مطلقہ اگر حاملہ تھی تو عدت حمل ہے مطلقاً، اور اگر حمل نہ تھا تو طلاق مذکوراگر شوہر نے اپنی صحت میں دی یا برضائے زوجہ مرض الموت میں دی تو عدت تین حیض ہے، موت شوہر سے نہ بدلے گی، اور اگر طلاق بائن مرض الموت میں بے رضائے زن دی تو تین حیض، اورچار مہینے دس دن سے جو مدت دراز تر ہے وہ عدت ہے یعنی چار ماہ ودہ روز بعد موت گزرنے سے پہلے طلاق کے بعد تین حیض کامل ختم ہوجائیں تو بعد مرگ چار ماہ دس یوم انتظار کرے، اور اگر مرگ شوہر پر چار مہینے دس دن ہوگئے اور ہنوز بعد طلاق تین حیض کا مل نہ ہوئے تو۳ تین حیض کامل ہونے تک منتظر رہے،
فی ردالمحتار ابانھا فی مرضہ بغیر رضاھا بحیث صارفارا و مات فی عدتھا فعدتھا ابعد الاجلین، ولو ابانھا برضاھا بحیث لم یصرفارا، تعتد عدۃ الطلاق فقط، ولوطلقھا بائنا فی صحتہ ثم مات لاتنتقل عدتھا اتفاقااھ۱؎ملخصاً واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے خاوند نے اپنی مرض الموت میں بیوی کی مرضی کے بغیر طلاق دے دی عورت کے وارث بننے سے فرار اختیار کرتے ہوئے پھر وہ خاوند مطلقہ بیوی کی عدت میں فوت ہوجائے توایسی صورت میں عورت کی عدت، موت یا طلاق کی عدت میں سے جو بھی طویل ہو وہی قرار پائے گی۔ اور اگر مرض موت میں عورت کی رضامندی سے طلاق دی ہو کہ اس سے وہ عورت کے وارث ہونے سے فرار اختیار کرنے والا نہ ہوگا تو ایسی صورت میں عورت کی فقط طلاق والی عدت ہوگی، اور اگر خاوند نے اپنی صحت میں طلاق بائنہ دی ہو پھر بیوی کی عدت کے دوران خاوند فوت ہوجائے تو اس صورت میں بالاتفاق طلاق والی عدت ہوگی اور موت کی وجہ سے عدت تبدیل نہ ہوگی اھ ملخصاً، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب العدۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۶۰۵)
Flag Counter