(جیسا کہ اس نے یہ بھی کہا۔ت)بائنہ تھی تو زید پرلازم ہے کہ عدت پوری ہونے تک اپنے ہی مکان میں اسے جگہ دے اور بوجہ زوال نکاح اس سے پردہ کرے، اور اگر زید ظلماًاپنے گھر میں نہ رہنے دے تو کوئی اور مکان بتائے جس میں وہ عدت پوری کرے اور اگر وہ مکان کرایہ کا ہوتو اختتامِ عدت تک کرایہ زید کے ذمہ ہے، اور جب زید اپنے مکان میں رہنے دے یادوسرا مکان اس کے لئے بتائے تو ہندہ پر لازم ہے کہ فوراً اس مکان میں چلی جائے اور ختم عدت تک ہرگز ا س سے باہر نہ آئے،
فی الخانیۃ المعتدۃ عن الطلاق تستحق النفقۃ والسکنی کان الطلاق رجعیا او بائنا او ثلثا۱؎الخ،
خانیہ میں ہے کہ طلاق کی عدت والی نفقہ اور سکنٰی کی مستحق ہے خواہ طلاق رجعی یا بائنہ یا تین طلاقوں والی ہو الخ
(۱؎ فتاوی قاضی خاں فصل فی نفقۃ العدۃ نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۰۰)
وفی الدرالمختار طلقت او مات وھی زائرۃ فی غیر مسکنھا عادت الیہ فورا لوجوبہ علیھا وتعتدان ای معتدۃ طلاق وموت فی بیت وجبت فیہ(ھوما یضاف الیھما بالسکنی قبل الفرقۃ الخ شامی)ولایخرجان منہ الاان تخرج(وشمل اخراج الزوج ظلما الخ شامی فتخرج لاقرب موضع الیہ وفی الطلاق الی حیث شاء الزوج (وحکم ماانتقلت الیہ حکم المسکن الاصلی فلاتخرج منہ شامی۱؎اھ) ملخصاً، واﷲتعالٰی اعلم۔
اور درمختار میں ہے عورت جب گھر سے باہر کسی کو ملنے گئی ہواور اس دوران اس کو طلاق ہوجائے یا خاوند فوت ہوجائے تو فوراً گھر واپس آجائے کہ یہ اس پر واجب ہے، اور دونوں یعنی طلاق اور موت کی وجہ سے عدت والی عورتیں اس گھر میں عدت بسر کریں جس گھر میں عدت واجب ہوئی ہے (یہ وہ گھر ہے جو فرقت سے قبل ان کی رہائش کےلئے منسوب ہے الخ شامی) اور وہ اس گھر سے منتقل نہ ہوں الّایہ کہ ان کو جبراً نکالا جائے(اس میں خاوند کا ظلماً نکالنا بھی شامل ہے الخ شامی) موت کی عدت والی کو اگر مجبوراً نکلنا پڑے تو قریب ترین مکان میں منتقل ہوجائے اور طلاق کی عدت والی خاوند جس مکان میں چاہے وہاں منتقل ہوجائے(اور جب دوسرے مکان میں منتقل ہوتو پھروہی اصل مسکن کے حکم میں ہوگا لہذا عورت وہاں سے نہ نکلے الخ شامی) ملخصاً، وا ﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل فی الحداد داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۲۱
درمختار فصل فی الحداد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۰)