| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۷۵: ۱۵جمادی الاولٰی ۱۳۲۰ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے گھر بیمار ہے اور اس کی زوجہ اس حالتِ بیماری میں اس کے پاس ہے، زوجہ زید کی برضا مندی اپنے شوہر کے اپنے گھرگئی اسی کو دوسرے روز پھر بلایا تو وہ عورت بلحاظ اس کے کہ میرا زیور وغیرہ نہ چھین لیں اور مجھ کو برا نہ کہیں نہ گئی اس کی وجہ یہ تھی کہ زید درحالت اصلی کہا کرتا تھا کہ میں سفر کولے جاؤں گا اور اس کے یعنی زوجہ کے والدین اس وجہ سے باہر جانے کے مانع ہوتے تھے کہ اس عورت یعنی زوجہ زید کو حمل تھا بوجہ زید کی زوجہ کے تکلیف کی غرض سے، اب وہ زید بیمار بعد تین دن کے مرگیا اور زوجہ زید کی اپنے والدین کے یہاں ہے بس وہ عدت کہاں ختم کرے اور دیگر یہ کہ اپنے شوہر کے یہاں بغرض نقصان اپنے مال یا اپنی جان بچانے کی وجہ سے وہاں جانا ناپسند کرتی ہے کہ مجھ کومیرے زوجہ کے متعلقین مارنہ ڈالیں یامیرا اسباب چھین لیں، پس اس صورت میں کیا حکم ہے اور مہر زوجہ کا کس کے ذمہ باقی ہے، اوریہاں تک اس کے والدین کو اندیشہ ہے کہ ہم باہر چلے جائیں گے تو شاید آبرو بچے ورنہ ناممکن، اور زوجہ زید اب تک حالتِ حمل میں ہے یعنی حمل اس کو قریب چھ ماہ کا ہے، ان صورتوں میں کیا حکم ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب زوجہ پر فرض ہے کہ اپنے شوہر کی خبر مرگ سنتے ہی فوراً اس کے گھر چلی جائے اور وضع حمل تک وہیں رہے اور غلط عذر درمیان میں نہ لائے، ایسا خیال بہت ناقابل قبول ہے کہ قتل کردی جائے گی، رہا مال اسے ساتھ نہ لے جائے، اپنے ساتھ اپنے اقارب سے کسی کو رکھے جس سے حفاظت متوقع ہو، ہاں اگر کوئی صورت ممکن نہ ہو اور واقعی سچا اندیشہ جان کا ہے جس کا تدارک اس کے قابو میں نہیں تونہ جانے کے لئے عذر صحیح ہے، اور اﷲ تعالٰی صحیح وغلط سب کو خوب جانتا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۶: از ملک موضع مہمانیہ سیری رامپور ضلع باریسال مرسلہ عبدالحمید صاحب ۲۴رمضان المبارک۱۳۲۵ھ سوال اینکہ زینب نابالغہ راکہ سنش بہ نہ سال نہ رسیدہ است وتخمیناً مدت نکاحش بدوسال رسیدہ زوجش طلاق دادہ خواہر زینب رازوج زینب بعد یکروز یا دو روز نکاح کرد حالانکہ زوج زینب می گوید کہ زینب را قبل دخول طلاق دادہ پس اکنوں نکاح کردن زوج زینب خواہر زینب را پیش از گزشتن عدت طلاق زینب موجب شرع شریف درست باشد یا چہ؟اگر نکاح مذکور زوج زینب را روا باشد پس عباراتِ درمختار وردالمحتار ودیگر کتب کہ عدت مطلقہ صغیرہ کہ سنش بہ نہ سال نہ رسیدہ است سہ ماہ است بلاقید دخول وبعد دخول آمدہ است مطالب آنہا چہ؟بینواتوجروا۔
سوال یہ ہے کہ زینب نامی لڑکی جس کی عمر ابھی نو سال نہیں ہوئی اس کا نکاح اندازاً دو سال قبل ایک شخص سے ہوا تو اس کے خاوند نے اسے طلاق دے کر ایک دو دن بعد اس کی بہن سے نکاح کرلیا جبکہ زینب کی عدت گزرنے سے قبل اس کی بہن سے نکاح بموجبِ شرع شریف درست ہوا یانہیں، اگر نکاح مذکور درست ہوا ہے تو پھر درمختار وردالمحتار اور دیگر کتب کی یہ عبارت کہ نابالغہ لڑکی جس کی عمر نو سال سے کم ہو اس کی عدت تین ماہ ہے جس میں دخول کے بعد یا قبل کی کوئی قید مذکور نہیں ہے،ا س کا مطلب کیا ہے؟بیان کیجئے اور اجر حاصل کیجئے۔
الجواب اگرمیان زن شو خلوت واقع شدہ بود اگرچہ خلوت فاسدہ باشد بعد ازاں شوہر بالغ آں دختر ہفت یا ہشت سالہ را طلاق داد عدت سہ ماہ واجب است ونکاح باخواہرش قبل انقضائے عدت ناجائز و حرام، اگر خلوت ہم نشدہ بود البتہ از عدت اثرے نیست واز بعد طلاقش خواہرش را بزنی تواں گرفت
قال اﷲ تعالٰی فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا۱؎
اگر زینب اور اس کے خاوند میں خلوت صحیحہ یا فاسدہ ہوچکی ہو تو اس کے بعد طلاق دی ہو اگرچہ زینب کی عمر سات یاآٹھ سال ہوتو عدت واجب ہے اور اس کی عدت گزرنے سے قبل اس کی بہن سے نکاح ناجائز ہے۔ اور اگر خلوت نہ ہوئی ہوتو پھر زینب پرکوئی عدت نہیں ہے اوراس کو طلاق دینے کے بعد اس کی بہن سے نکاح جائز ہے۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا تمہارے حق میں دخول سے قبل مطلقہ بیویوں پر عدت نہیں ہے جس کو تم شمار کرو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴۹ /۳۳)
د رکتب مذکورہ حکم عدت را مطلق نگزاشتہ اند بلکہ سابقاً ولاحقاً دو جا مقید بدخول یعنی ولو حکما کالخلوۃ ولو فاسدۃ۱؎ داشتہ اند،
کتب مذکور میں نابالغہ کی عدت کو عام قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس سے قبل اور بعد دونوں جگہ عبارت دخول کی قید سے مقید ہے اگرچہ وہ دخول حکمی ہو جیسے خلوت خواہ فاسد ہی کیوں نہ ہو
(۱؎ درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۶)
عبارت تنویر الابصار و درمختار بالتقاط واختصار این ست العدۃ سبب وجوبھا النکاح والمتأکدبالتسلیم وما جری مجراہ من موت او خلوۃ، وھی فی حق حرۃ تحیض بعد الدخول حقیقۃ او حکما ثلث حیض، وفی حق من لم تحض لصغر بان لم تبلغ تسعا او کبر ثلثۃ اشھران وطئت فی الکل ولوحکما کالخلوۃ ولو فاسدۃ ۲؎(ملخصاً)
تنویر الابصار اور درمختار کی عبارت ملتقطاً اور اختصاراً یوں ہے عدت کے وجوب کا سبب نکاح جو رخصتی یا اس کے قائم مقام موت یا خلوت سے پختہ ہوتا ہے اور وہ عدت آزاد حیض والی عورت کے لئے اس سے دخول حقیقی یا حکمی کے بعد ہوتو تین حیض ہے،اور جو عورت حیض والی نہ ہوتو اس کی عدت تین ماہ ہے، یہ تمام بیان مدخولہ عورتوں کےلئے ہے اگرچہ دخول حکمی ہو، جیسے خلوت اگرچہ فاسدہ ہو(ملخصاً)
(۲؎ درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۶۔۲۵۵)
درردالمحتار ست قولہ فی الکل یعنی ان التقیید بالوطی شرط فی جمیع مامر من مسائل العدۃ بالحیض و العدۃ بالاشھر کما افادہ سابقا بقولہ راجع للجمیع۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور ردالمحتار میں اس پر یوں ہے ماتن کاقول ''فی الکل'' یعنی وطی شرط ہے تمام مذکورہ مسائل عدت میں خواہ حیض والی کی عدت ہو یا مہینوں والوں کی، جیسا کہ ماتن اس کو پہلے بیان کرچکے ہیں اس قول کے ساتھ کہ''یہ سب کو شامل ہے''(یعنی عدت بالحیض وعدت بالاشہر دونوں کو شامل ہے)۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۰۲)