Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
55 - 175
مسئلہ۶۷تا۷۳:از شہر کہنہ بریلی 

حضور والا! مسمّی جمن کا بیان ہے کہ(۱) میری لڑکی نابالغ کا نکاح میرے حقیقی بھائی نے بلارضا مندی میرے کردیا اور مجھ کو راضی کرکے رخصت کرادی، وہ لڑکی اپنے اس خاوند کے پس رہی اور نوبت مجامعت کی پہنچی، اس کے یہاں سے بعد کو رخصت ہوکرجس وقت کہ وہ اپنے باپ کے مکان پر آئی کہ اس کو عرصہ تین سال کا ہوا پھر کبھی نہ گئی حتی کہ نوبت نالش تک پہنچی، بالآخر اس نےا س کو فیصلہ پنچایت سے طلاق دی،اب اس کا نکاح درمیان عدت طلاق کے ہوسکتا ہے یانہیں؟(۲)اور یہ نکاح اول جو نابالغی میں بلااستر ضا باپ کے ہوا، جائز تھا یا نہیں؟فقط، اس قوم میں نابالغ لڑکیوں کا نکاح نابالغ لڑکوں کے ساتھ بولایت اکثر ہوتا ہے اور حالتِ بلوغ تک پہنچنے سے پہلے کسی مخالفت سے طلاق ہوجاتی ہے،(۳) اس صورت میں عدت طلاق کی لازم آتی ہے یانہیں؟ (۴)اور مہر کس قدر دلایا جاسکتا ہے؟(۵) بحالت خلوت صحیحہ اور مجامعت کے کیاحکم ہے؟(۶)اور بحالت طلاق اس کا کیاحکم ہے؟(۷)اگر بحالت لازم آنے عدت کے نکاح ہوجائے اور وہ اپنے خاوند سے علیحدہ رہ کر تین ماہ تمام کرے تو یہ نکاح صحیح رہے گا یا پھر نکاح کرنا چاہئے؟فقط
الجواب

نکاح اول کہ بے اجازت پدر چچا نے خود کردیا تھا اجازت پدر پر موقوف تھا، اگر اس نکاح کے بعد اس نے کوئی لفظ نامنظوری اور رد کرنے کا کہاتھا تو باطل ہوگیا اور زن وشوہر میں کوئی علاقہ نہ رہا تھا، اس کے بعد جو رخصت ہوئی محض حرام ہوئی اور جو مجامعت ہوئی نری زنا ہوئی فان الاجازۃ لاتلحق المفسوخ (کیونکہ فسخ شدہ کو اجازت لاحق نہیں ہوتی۔ت) طلاق کی کوئی حاجت نہیں نہ اس فراق کی عدت اذلانکاح فلاطلاق فلاعدّۃ(اس لئے کہ نکاح ہی نہیں ہوا تو طلاق اور عدت کا ہے کی۔ت)جس وقت چاہے نکاح کرے اور اگر نکاح کے بعد قبل اظہار نامنظوری باپ نے کوئی لفظِ منظوری کہا یا بھائی کے اصرار سے لڑکی کو رخصت کردیا(کہ رخصت کردینا بھی صحتِ نکاح کو کافی ہے جبکہ نامنظوری نہ ظاہر کرچکا ہو) تو اب یہ نکاح صحیح ہوگیا اور یہ طلاق طلاق ہوئی اور اس کی عدت لازم ہے، عدت گزرنے سے پہلے جو نکاح کیا جائیگا باطل محض ہوگا، نابالغ لڑکا اہلِ طلاق نہیں، نہ اس کے دئے سے طلاق ہوسکتی ہے نہ اس کی طرف سے اس کا ولی طلاق دے سکتا ہے، بلوغِ پسر سے پہلے جوبوجہ مخالفت طلاق دلوالیتے ہیں محض باطل ہے، نہ اس کی عدت ہے نہ اس کے بعد دوسرے سے نکاح کسی طرح حلال ہوسکتا ہے، ہاں عاقل بالغ جو طلاق دے اگر قبل خلوت صحیحہ دی نصف مہر لازم آئے گا اور بعد خلوت صحیحہ دی تو پھرپورا مہر، عدت کے اندر نکاح محض باطل ہے وہ نکاح ہی نہ ہوگا اگرچہ عدت تک اس دوسرے مرد سے جدا رہے، بعد ختم تحصیل زوجیت کے لئے دوبارہ نکاح فرض ہوگا ورنہ زنا ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۴: مسئولہ مولوی عبدالرشید صاحب مدرس اول مدرسہ اکبریہ ۲۸ربیع الآخر ۱۳۱۶ھ

کیافرماتے ہیں علما ئے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بی بی سے کہا کہ اگر تو میکے سے میرے گھر نہ آئی تو تجھ کو طلاق دے دوں گا، عورت دوبرس اپنے میکے میں رہی، پھر اس عورت نے دوسرے مرد کے ساتھ نکاح ثانی کرنے کا قصد کیا، شوہر نے کہا کہ میں نے تجھے طلاق نہیں دی تو نکاح کیسا کرتی ہے اگر مجھ کو سو۱۰۰روپےدے تو میں تجھے طلاق دے دوں، عورت نے  سو۱۰۰ روپے دے دئے شوہرنے طلاق دے دی، اب اس پر عدت پوری کرنا چاہئےیا نہیں ؟ بینواتوجروا
الجواب

ضرور، اور اس کا دوبرس خواہ دس برس شوہر سے جدا رہنا مسقط عدت نہیں ہوسکتا،
لاطلاق قولہ تعالٰی
والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ اﷲ تعالٰی کا قول کہ''مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض مکمل ہونے تک روک رکھیں'' مطلق ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 ( ۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۲۸)
Flag Counter