اور دوسری جگہ عالمگیری سے مفہوم ہوتا ہے کہ اگرچہ بعد خلوت صحیحہ کے ہو عدت واجب نہیں،
اربع من النساء لاعدۃ علیھن المطلقۃ قبل الدخول۲؎الخ۔
چار عورتیں ہیں جن پر عدت نہیں ان میں سے ایک قبل از دخول طلاق والی ہے الخ(ت)
(۲؎ فتاوی ہندیہ باب العدۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۲۶)
اور کلام مجید میں ایک جگہ یوں ہے:
اذانکحتم المؤمنٰت ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن، فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا۳؎۔
جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرکے قبل از دخول ان کو طلاق دے دو تو تمہارے حق میں ان عورتوں پر عدت نہیں۔(ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۴۹ /۳۳)
الجواب
صورت مستفسرہ میں عدت واجب ہے اور عالمگیری کی دونوں عبارتوں میں تنافی نہ آیہ کریمہ عبارت اولٰی کی نافی، اصل یہی ہے کہ موجب عدۃ مس ودخول یعنی وطی ہے مگر نکاح صحیح میں مجرد خلوت اگرچہ صحیحہ ہو ایجاب عدت کے لئے قائم مقام وطی ہے،
تنویر میں ہے:
الخلوۃ کالوطء فی العدۃ ۴؎(ملخصاً)۔
عدت کے معاملے میں خلوت کا حکم وطی والاہے(ت)
(۴؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۹۔۱۹۸)
وجوبھا من احکام الخلوۃ سواء کانت صحیحۃ ام لاط ای اذاکانت فی نکاح صحیح اما الفاسد فتجب العدۃ بالوطء کما سیأتی۔۱؎
عدت کا وجوب خلوت کے احکام میں سے ہے خلوت صحیحہ ہویا فاسدہ ہو، طحاوی، یعنی صحیح نکاح میں یہ حکم ہے لیکن فاسد نکاح میں صرف وطی سے عدت لازم ہوتی ہے، جیسا کہ عنقریب آئے گا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۴۱)
من قبل ان تمسوھن والخلوۃ الصحیحۃ کالمس۲؎ اھ ورأیتنی کتبت علی ھامشھا الاولی ان یقول قدس سرہ والخلوۃ فی النکاح الصحیح کالمس فیقید النکاح بالصحیح ویطلق الخلوۃ لان الخلوۃ وان فسدت توجب العدۃ اذاصح النکاح، اماالفاسد فلاعدۃ فیہ الا بحقیقۃ الوطء کمافی الدر وغیرہ۳؎، واﷲتعالٰی اعلم۔
قبل ازیں کہ تم ان کو مس کرو(یعنی جماع کرو) اور خلوتِ صحیحہ بھی جماع کی طرح ہے اھ اور مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پر یہ لکھا ہے کہ بہتر تھا کہ صاحب مدارک یوں کہتے اور خلوت نکاح صحیح میں جماع کی طرح ہے اس طرح نکاح کو صحیح کی قید سے مقید اور خلوت کو مطلق قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ جب نکاح صحیح ہو تو خلوت فاسدہ بھی عدت کو لازم کرتی ہے لیکن نکاح فاسد میں صرف حقیقی وطی سے ہی عدت لازم ہوتی ہے جیسا کہ در وغیرہ میں ہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ مدارک التنزیل تحت سورۃ الاحزاب دارالکتاب العربیہ ۳ /۳۰۸)
(۳؎ حواشی مدارک اعلٰحضرت رحمۃ اﷲ علیہ)