| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۶۴: ازمتھرا محلہ مہوپورہ مرسلہ رمضان خاں ۱۳شعبان ۱۳۱۲ھ کیافر ماتے ہیں علمائے دین کہ ایک شخص کی زوجہ منکوحہ ایک عرصہ سے بوجہ کسی خاص رنجی کے بلاطلاق اپنے شوہر سے علیحدہ ہوکر اور خلافِ مرضی اس کے کہیں چلی گئی اور کسی غیر شخص سے اپنا عقد کرلیا بالفعل وہاں سے بھی نکل کر پھر شوہر اول سے عقد چاہتی ہے اور طلاق ہر دو شوہروں کی جانب سے ثابت نہیں، پس قابلِ استفسار یہ امر ہے کہ اب شوہر اول سے عقد قائم رہے گا یا عقدِ جدید کی ضرورت ہے یا اس کے سوا کوئی اور شرعی صورت ہے؟بینواتوجروا
الجواب عقد قدیم قائم ہے جدید کی کچھ حاجت نہیں، دوسرا شخص جس نے اس منکوحہ غیر سے نکاح کیا اگر آگاہ تھا کہ یہ منکوحہ غیر ہے جب تو عدت کی بھی ضرورت نہیں کہ یہ زنا تھا اور زنا کی عد ت نہیں، درمختار میں ہے:
لاعدۃ للزّنا ۳؎
(زنا کی عدت نہیں ہوتی۔ت)
(۳؎ درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۵)
ور اگر وہ واقف نہ تھا عورت کو خالی و حلال سمجھ کر نکاح میں لایا تو اس پر فرض قطعی ہے کہ عورت کو ترک کردے وقت ترک سے عورت تین حیض کی عدت کرے اس کے بعد شوہر اول بے حاجت تجدید نکاح اس سے مترتب کرسکتا ہے،یہ اس تقدیر پر کہ شخص ثانی نے عورت سے صحبت یعنی مجامعت کرلی ہو، ورنہ حاجتِ عدت نہیں، درمختار میں ہے:
لاعدۃ لو تزوج امرأۃ الغیر ووطئھا عالما بذٰلک وفی نسخ المتن ودخل بھا ولابد منہ وبہ یفتی ولہذا یحد مع العلم بالحرمۃ لانہ زنا والمزنی بھا لاتحرم علی زوجھاالخ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
غیر کی منکوحہ سے نکاح کے بعد وطی کرنے سے عدت لازم نہ ہوگی بشرطیکہ اسے معلوم ہو کہ عورت غیر کی ہے اور متن کے نسخوں میں''دخل بھا'' (اس نے دخول کیا ہو) کا لفظ ہے جبکہ یہ قید ضروری ہے۔ اور فتوی اسی پر دیا جائے گا۔ اس لئے علم کے باوجود اس حرام کاری پر حد لگائی جائے کیونکہ یہ زناہے اور زناوالی عورت اپنے خاوند پر اس وجہ سے حرام نہیں ہوتی الخ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
( ۱؎ درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۹)
مسئلہ۶۵: از موضع ٹانڈا پر گنہ بہیٹری معرفت پیارے میاں ۲۱جمادی الاخری ۱۳۱۵ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین، ایک شخص اپنی قضا سے فوت ہوگیا اور اس کی بیوی کو حمل تھا،بعد اس کے مرجانے کے ایک مہینہ کے بعد وہ حمل ساقط ہوگیاتو اس عورت کو عدت کرنا چاہئے یااس حمل کے گرجانے سے عدت جاتی رہی اور وہ حمل چار یا پانچ مہینہ کا تھا اہلِ شرع کیا فرماتے ہیں ؟
الجواب سائل نے ظاہر کیا کہ اس کے ہاتھ پاؤں بن گئے تھے تو ا س کے گرجانے سے عدت تمام ہوگئی اب عدت کی حاجت نہیں،
فی ردالمحتار اذااسقطت سقطا ان استبان بعض خلقہ انقضت بہ العدۃ لانہ ولد والافلا۔۲؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے حاملہ کا حمل ساقط ہوجائے تو اگر بچے کے کچھ اعضاء کی تخلیق ظاہر ہوتی ہوتو پھر اس سے عدت ختم ہوگئی کیونکہ یہ مکمل بچہ شمار ہوتا ہے اور اگر ابھی اعضاء ظاہر نہ ہوئے ہوں تو عدت ختم نہ ہوگی۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۰۴)