Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
52 - 175
مسئلہ۶۲: از شہر بریلی ۱۱رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت رانڈ ہوگئی، رانڈ اپنے بہنوئی کے پاس گئی اور بہن بھی موجود تھی بہنوئی نے اس کا بھی نکاح اپنے ساتھ کرلیا، اب کئی سال سے اس عورت کو نکال دیا، استعفار وغیرہ نہیں دیا، اب وہ عورت اور جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے، نکاح جائز ہے یانہیں؟
الجواب

بہن کی موجودگی میں بہنوئی سے نکاح حرام حرام سخت حرام ہوا، بہنوئی نے کہ اس کو نکالا اگر کوئی لفظ ایسے کہے تھے اس وقت خواہ اس کے بعد، جن سے اس کا عزم اس پر سمجھا جائے کہ اب ا س عورت کو کبھی نہ رکھے گا اور ان الفاظ کے کہنے کے بعد اس عورت کو تین حیض شروع ہوکر ختم ہوگئے تو یہ اور جگہ نکاح کرسکتی ہے، اور اگر ایسے الفاظ ثابت نہ ہوں تو اب عورت کہہ دے میں نے اس نکاح کو رد کیا جو بہنوئی سے کرلیا تھا اس کے بعد حیض دیکھ کر دوسرے سے نکاح کرلے۔ درمختار میں ہے:
مبدؤھافی النکاح الفاسد بعد التفریق اواظہار العزم علی ترک وطئھا۱؎۔
نکاح فاسد کی عدت کی ابتداء تفریق کے بعد یا خود خاوند کے متارکہ کے بعد ہے، متارکہ یہ کہ خاوند نے عورت سے وطی کے ترک پر اپنے عزم کا اظہار کردیا ہو۔(ت)
 (۱؎ درمختار         باب العدۃ         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۵۸)
اسی میں ہے:
ویثبت لکل واحد منھما فسخہ ولو بغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح۲؎۔
خاوند اور بیوی دونوں کو فاسد نکاح میں فسخ کا اختیار ہے، دونوں کو یہ اختیار دوسرے کی موجودگی کے بغیر بھی ہے دخول کیا ہو یانہ، اصح روایت یہی ہے۔(ت)
 (۲؎ درمختار        باب المہر        مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۰۱)
ردالمحتار میں ہے:
قال فی البحر ورجحنا فی باب المھر انھا (ای المتارکۃ) تکون من المرأۃ ایضا اھ والمقدسی تابع البحر۳؎ اھ۔ اقول وحققنا فیما علقنا علیہ ان الفساد ان کان مقارنا کما ھٰھنا کان لکل فسخہ والمتارکۃ غیرہ وان کان طارئا تفرد بہ الزوج۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
بحر میں فرمایا ہے کہ ہم نے باب المہر میں عورت کی طرف سے متارکہ کو بھی جائز ہونے کی ترجیح ذکر کی ہے اھ اور مقدسی نے بحر کی اتباع کی ہے اھ اقول(میں کہتا ہوں) میں نے ردالمحتارکے حاشیہ میں یہ تحقیق کی ہے کہ اگر نکاح کا فساد ابتداءً نکاح سے  مقارن ہو جیسے  یہاں ہے تو پھر خاوند اور بیوی دونوں کو فسخ کا اختیار ہے اور متارکہ کا حکم علیحدہ ہے، اور اگر نکاح کا فساد بعد میں طاری ہوتو پھر صرف خاوند کا اختیار ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار         باب العدۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت۲ /۶۱۲)
مسئلہ۶۳: ۴رجب مرجب ۱۳۰۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو طلاق دی ایامِ عدت منقضی نہ ہوئے تھے صرف بیس پچیس دن بعد بکر نے اس سے نکاح کرلیا، چار برس بعد بکر نے بھی طلاق دی، اب شخص ثالث اس سے نکاح کیا چاہتا ہے، یہ نکاح طلاق کے چار مہینے دس دن بعد ہو یا فوراً ہوسکتا ہے کہ بکرنے قبل انقضائے عدت نکاح کرلیا تھا جو شرعاً نادرست تھا۔ بینواتوجروا۔
الجواب

اگربکر نے یہ جان بوجھ کر کہ ابھی عورت عدت میں ہے اس سے نکاح کرلیا تھا جب تو وہ نکاح نکاح ہی نہ ہوا زنا ہوا، تو اس کے لئے اصلاً عدت نہیں اگرچہ بکر نے صدہا بار عورت سے جماع کیا ہوکہ زنا کاپانی شرع میں کچھ عزت ووقعت نہیں رکھتا عورت کو اختیار ہے جب چاہے نکاح کرلے،
فی ردالمحتار عن البحرالرائق اما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر لانہ لم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا ولھذا یجب الحدمع العلم بالحرمۃ لکونہ زنا کما فی القنیۃ وغیرہا۔۱؎
ردالمحتار میں بحرالرائق سے منقول ہے کہ غیر کی منکوحہ بیوی یا غیر کی مطلقہ عدت والی سے نکاح کے بعد دخول سے عدت لازم نہ ہوگی بشرطیکہ اسے معلوم ہو کہ عورت غیر کی ہے کیونکہ اس نکاح کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں ہے لہذا یہ نکاح ہی اصلاً منعقد نہ ہوا، یہی وجہ ہے کہ یہ معلوم ہونے پرکہ یہ غیر کی منکوحہ ہے اس کے باوجود نکاح اور دخول پر حدِ زنا لازم ہوگی کیونکہ یہ زنا ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب العدۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۶۰۷)
اور اگر بکر نے انجانی میں نکاح کیا تو یہ دیکھیں گے کہ اس چار برس میں ا س نے عورت سے کبھی جماع کیا ہے یانہیں، اگر کبھی نہ کیا تو بھی عدت نہیں، بکر کے چھوڑتے ہی فوراً جس سے چاہے نکاح کرلے،
ففی البحر فی امثلۃ النکاح فسد ولم یبطل نکاح المعتدۃ ۲؎الخ وقیدہ الشامی بما اذالم یعلم بانھا معتدۃ لما مرعن البحر،
بحر میں ایسے نکاح جو فاسد ہو ں مگر باطل نہ ہو ں کی مثالوں میں غیر کی معتدہ کا نکاح ذکر کیا ہے ۔اھ اور علامہ شامی نے اس کو غیر کی معتدہ کا علم نہ ہونے کے ساتھ مقید کیا ہے جیساکہ بحر کے حوالے سے گزرا ،
 (۲؎ بحرالرائق  )
وفی الدرالمختار فی احکام النکاح الفاسد، تجب العدۃ بعد الوطی لاالخلوۃ وقت التفریق او متارکۃ الزوج ۱؎اھ ملخصاً۔
اور درمختار کے احکامِ نکاح فاسد میں مذکور ہے کہ فاسد نکاح میں وطی کے بعد عدت لازم ہوگی، صرف خلوت سے لازم نہ ہوگی اور یہ عدت یا خود خاوند کی طر ف سے متارکہ کے وقت سے شروع ہوگی اھ ملخصاً(ت)
 (۱؎ درمختار    باب المہر      مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۲۰۱)
اور جو ایک بار بھی جماع کرچکا ہے تو جس دن بکر نے چھوڑ ا اس دن سے عورت پر عدت واجب ہوئی جب تک اس کی عدت سے نہ نکلے دوسرے  سے نکاح نہیں کرسکتی، اور عدت طلاق کی چار مہینے دس دن نہیں یہ عدت موت کی ہے، طلاق کی عدت تین حیض کا مل ہیں یعنی بعد طلاق کے ایک نیا حیض آئے، پھر دوسرا، پھر تیسرا، جب یہ تیسرا ختم ہوگا اس وقت عدت سے نکلے گی اور اسے جس سے چاہے نکاح کرنا روا ہوگا،
قال اﷲ تعالٰی والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: مطلقہ عورتیں تین حیض مکمل ہونے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم     ۲ /۲۲۸)
Flag Counter