Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
51 - 175
مسئلہ ۵۹: ازقصبہ کریالی تحصیل کھاریاں ضلع گجرات پنجاب ڈاکخانہ سرائے اورنگ آباد مسئولہ  غلام یسین صاحب ۱۱ محرم ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر شیر خوارہ مسماۃ نور بانو کا نکاح ہمراہ مسمی عمرو جس کی عمر پچیس سال ہے کردیا، بعد نکاح کے اس دختر شیر خوارہ کو اس کی والدہ ایک مکان میں جہاں عمرو جس کے ساتھ مسماۃ نور بانو شیرخوارہ کا نکاح ہوا تھا مع عمرو کے چھوڑ کر کہیں باہر چلی گئی اس کے بعد جب والدہ  شیر خوارہ واپس آئی عمرو نے اس شیرخوارہ منکوحہ خود کو طلاق بائن دے دی، آیا خلوتِ صحیحہ ثابت ہوئی یا نہ؟ اور اس مطلقہ شیرخوارہ پر عدت لازم ہوئی یانہ اور مستحقِ مہر ہوئی یانہ؟بینواتوجروا
الجواب

خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی، نہ عدت لازم آئی، نصف مہر دینا ہوگا، درمختار میں ہے:
لاعدۃ بخلوۃ الرتقاء۲؎
 (ناقابل جماع بیوی کی خلوت پر عدت نہیں ہے۔ت)
(۲؎ درمختار      باب العدۃ     مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۲۵۵)
جامع الرموز میں ہے:
لوطلقھا قبل  الدخول او بعد الخلوۃ الفاسدۃ والفساد لعجزہ عن الوطی حقیقۃ لم تجب العدۃ ۱؎اھ وانظر ما کتبنا علی ردالمحتار۔
اگر جماع سے پہلے یا خلوتِ فاسدہ کے بعد طلاق دی ہو اور فساد مثلاً یہ کہ خاوند وطی سے حقیقۃً عاجز ہو تو اس صورت میں عدت لازم نہ ہوگی اھ یہاں ردالمحتار پر میرا حاشیہ دیکھو۔(ت)
(۱؎ جامع الرموز    فصل العدۃ         مکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران     ۱ /۵۷۸)
مسئلہ۶۰: ازموضع دیورنیا ضلع بریلی مسئولہ عنایت حسین صاحب ۲۹رجب ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مطلقہ عورت کی عدت تین ماہ  ہو یا زائد؟
الجواب

مطلقہ اگر حاملہ ہوتو عدت وضع حمل ہے۔ اور اگر نابالغہ ہو یا کبرسن کے سبب اب حیض نہیں آتا تو عدت تین ماہ ہے ورنہ تین حیض خواہ دومہینے ہوں یامثلاً دو برس میں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۶۱: از قصبہ میترانوالی ڈاکخانہ گلکہرریلوے ضلع گوجرانوالہ مرسلہ میاں امیر احمد صاحب ۷محرم الحرام ۱۳۰۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے عورت مطلقہ کو بلانکاح دو سال تک اپنے گھر میں رکھا بلکہ اس سے اولاد بھی ہوئی پھر وہ شخص فوت ہوگیا تو اس کے برادر حقیقی نے اس عورت کے ساتھ بغیر عدت گزرے نکاح کرلیا اس عورت پر عد ت لازم ہے یانہیں؟بعض کہتے ہیں کہ زنا کی کوئی عدت نہیں اور بعض کہتے ہیں وہ مثل عورت خاوند کے دو سال تک رہے واسطے استبراء رحم کے عدت لازم ہے بینواتوجروا(بیان کیجئے اجر پائیے)
الجواب

اگروہ دونوں ایک مکان میں مثل زن وشوہر رہتے اور باہم انبساط زوج وزوجہ رکھتے، مرد اسے بیبیوں کی طرح رکھتا، عورت اس کے پاس ازواج کی مانند رہتی تو وہ دونوں شرعاً زوج و زوجہ ہی سمجھے جائیں گے یہاں تک کہ جس نے ان کی یہ حالت دیکھی اسے قاضی شرع کے حضور زن و شوہر ہونے پر گواہی دینی حلال اگرچہ نکاح ہوتے نہ دیکھا ہو، ہدایہ میں ہے:
اذارأی رجلا وامرأۃ یسکنان بیتا وینبسط کل واحد منھما الی الاٰخر انبساط الازواج وسعہ ان یشھد انھا زوجتہ۲؎۔
جب کوئی شخص مرد و عورت کو ایک مکان میں رہتے ہوئے اور خاوند بیوی والی بے تکلفی کے طور پر دونوں کو رہتے ہوئے دیکھے تو ایسے شخص کو جائز ہے کہ وہ شہادت دے کہ یہ دونوں خاوند بیوی ہیں(ت)
 (۲؎ ہدایہ         باب مایتحملہ الشاہد    مطبع یوسفی لکھنؤ        ۳ /۱۵۸)
اپنے سامنے نکاح نہ ہونے کو نکاح نہ ہونا سمجھ لینا سخت سفاہت ہے، عدم علم، علم عدم نہیں۔ دنیا میں بے شمار زوج وزوجہ ہیں کیا ہم سب کے عقد میں حاضر تھے۔ پھر ہم کیونکر انہیں ناکح و منکوحہ سمجھتے ہیں، شرع مطہر بدگمانی کو سخت حرام فرماتی ہے، اور جب وہ شرعاً زن وشوہر قرار دئے گئے تو بے انقضائے عدت نکاح بنصِ قطعی قرآن ناجائز وحرام۔ یہاں تک کہ بعض علماء نے فرمایا کہ اس عقد پر اصلاًکوئی حکم نکاح مترتب نہ ہوگا کہ معتدہ غیر سے دانستہ نکاح کرناباطل محض ہے۔ردالمحتار میں ہے:
فی البحر عن المجتبٰی اما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر لانہ لم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا۱؎۔
بحر میں مجتبٰی سے منقول ہے کہ غیر کی منکوحہ بیوی یا غیر مطلقہ عدت والی سے نکاح کے بعد دخول سے عدت لازم نہ ہوگی بشرطیکہ وہ جانتا ہو کہ یہ غیر کی منکوحہ یا معتدہ ہے کیونکہ اس نکاح کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں ہے لہذا یہ نکاح ہی اصلا منعقد نہ ہوا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب العدۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۶۰۷)
ہاں اگر صورتِ مذکورہ نہ ہواور ان کا زانی وزانیہ ہونا متحقق ہو تو بیشک یہ نکاح صحیح ہوگیا کہ زنا کے پانی کی شرع میں کوئی حرمت نہیں نہ زانیہ پر زنا کی عدت، یہاں تک کہ جس عورت کو  زنا کا حمل ہوغیر زانی کو بھی باوجود حمل اس سے نکاح جائز، البتہ ازانجا کہ حمل غیر ہے تاوضع حمل جماع ناجائز ہے، درمختار میں ہے:
صح نکاح حبلی من زنا وان حرم وطؤھا حتی تضع لئلایسقی ماءہ زرع غیرہ۲؎۔ واﷲسبحنہ وتعالٰی اعلم۔
زنا سے حاملہ عورت کے ساتھ نکاح جائز ہے اگرچہ نکاح کے بعد وطی حرام ہے تاوقتیکہ بچے کی پیدائش ہو تاکہ غیر کی کھیتی کواپنے پانی سے سیراب کرنے والا نہ بنے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ درمختار     کتاب النکاح     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۸۹)
Flag Counter