| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۵۸: از جلیسر ضلع ایٹہ بالائے قلعہ مسئولہ حکیم محمد احسن صاحب ۴رمضان ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ہندہ نے نکاح کیا جس کو ابتک چھ ماہ ہوئے، بعد تین ماہ کے اس کا خاوند مرگیااور اس کو خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی اب تک اپنے ماں باپ کے یہاں ہے، مدت عدت وفات کی دو صورتیں ہیں،یاوہ بعد وفات کے حاملہ ہے یا حمل کا انتظار ہے، بہر حال اس کو حمل نہیں ہوا، نیز ایام معمولی آتے ہیں، مدت چار ماہ دس دن محض اس غرض سے تھی کہ اس عرصہ میں ظہور حمل ہوجائے گا، اس صورت میں وہ قبل از عدت وفات عقدِ ثانی کرلے یا بعد گزرنے چارماہ دس دن کے نکاح کرے، عدت طلاق تین قروء ہیں، اگر اس کو خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی تو اس کو تین قروء کی ضرورت نہیں، بعد طلاق فوراً عقد کرسکتے ہیں، علیٰ ہذا صورت مسئولہ کی شکل بھی یہی ہے، جبکہ وہ خاوند کے یہاں نہیں گئی اور خلوتِ صحیحہ نہیں نصیب ہوئی تو پھر عدتِ وفات کی کیاضرورت ہے، بہر حال دونوں صورتیں ایک ہیں، لہذا جو حکم شرع ہے وہ سرآنکھوں پر کوئی دلیل عقلی ضرور ہونی چاہئے تاکہ دونوں صورتوں میں تمیز ہوجائے کوئی مسئلہ شرعی ایسا نہیں جو کسی اصول پر مبنی نہ ہوعقل کاحکم تو یہی ہے کہ جو عورت ہمبستر نہ ہو اس پرعدت کی ضرورت نہیں پھر چار ماہ دس دن کے انتظار کی کیاضرورت
یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا۱؎
(وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۳۴)
محض ظہور حمل کےلئے چار ماہ دس دن کا انتظار ہے، سو صورت ہذا میں نہ خلوت نہ حمل فتاوی عالمگیری اکثر جزئیات سے مملو ہے جو جزئی چا ہو اس میں نکال سکتے ہیں شاید اس میں اس خاص جزئی کا ذکر ہو لیکن دلیل عقلی کی ازحد ضرورت ہے۔بینواتوجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب اس پر چار مہینے دس دن عدت فرض ہے اس سے پہلے نکاح بلکہ نکاح کی گفتگو بھی حرام ہے۔ درمختار میں ہے:
وللموت اربعۃ اشھرو عشرا مطلقا وطئت اولاولوصغیرۃ اوکتابیۃ تحت مسلم ولو عبد افلم یخرج عنھا الاالحامل۲؎۔
موت کی عدت مطلقا چارماہ دس دن ہے بیوی مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ اگرچہ نابالغہ ہویا کتابیہ مسلمان آزاد کے نکاح میں ہو یا مسلمان غلام کے نکاح میں، صرف حاملہ کا حکم اس سے علیحدہ ہے کہ اس کی عدت وضع حمل ہے(ت)
(۲؎ درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۶)
احکام الٰہی میں چون وچرا نہیں کرتے، الاسلام گردن نہادن نہ کہ زبان بجرأت کشادن(اسلام، سر تسلیم خم کرنا ہے نہ کہ دلیری سے لب کشائی کرنا۔ت) بہت احکام الٰہیہ تعبدی ہوتےہیں اور جو معقول المعنی ہیں ان کی حکمتیں بھی من وتو کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ صبح کو دو، مغرب کی تین، باقی کی چار چار رکعتیں کیوں ہیں، تعرف براءت رحم کےلئے ایک حیض کافی تھا تین اگر احتیاطاً رکھے گئے تو عدت وفات حیضوں سے بدل کر مہینے کیوں ہوئی اور ہوتی تو تین مہینے ہوتی جس طرح آئسہ وصغیرہ میں تین حیض کی جگہ تین مہینے قائم فرمائے ہیں ایک مہینہ دس دن اور زائد کیوں فرمائے گئے، غرض ایسے بیہودہ سوالوں کا دروازہ کھولنا علوم وبرکات کا دروازہ بند کرنا ہے، مسلمان کی شان یہ ہے:
سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر۳؎۔
ہم نے سنا اور اطاعت کی، تیری بخشش کے طلبگار ہیں اور تیری طرف ہی لوٹنا ہے(ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۲ /۲۸۵)
صور ت طلاق تعرف براء ت رحم کے لیے ہے قبل خلوت براءت خود معلوم پھر عدت کیوں ہو اور عدتِ وفات میں صرف یہی مقصود نہیں بلکہ موت شوہر کا سوگ بھی۔ اور اس میں خلوت ہونے نہ ہونے کو کچھ دخل نہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایحل لامرأۃ تؤمن باﷲ والیوم الاٰخر ان تحد علی میت فوق ثلث لیا ل الاعلی زوج اربعۃ اشھر وعشرا۱؎۔ رواہ البخاری ومسلم عن ام المومنین ام حبیبۃ و زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اﷲاورآخر پر ایمان رکھنے والی عورت کےلئے حلال نہیں کہ وہ خاوند کی موت کے بغیر کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے، صرف خاوند کے موت کے لئے چار مہینے دس دن سوگ ہے۔ اس کوبخاری اور مسلم نے ام المومنین ام حبیبہ اور زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب وجوب الاحداد فی عدۃ الوفاۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۸۶)