Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
5 - 175
مسئلہ۷: از سیتاپور۶رمضان المبارک ۱۳۱۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ زن وشو میں باہم نزاع لفظی واقع ہوا اس پر شوہر نے کہا تو میری چیز کھائے تو طلاق ہے، شوہر کی مراد اس سے نقصان نکاح کی ہر گز ہرگز نہیں ہے غصہ میں ایک مہمل لفظ زبان سے نکل گیا ،اب زوجہ شوہر کی دی ہوئی کوئی چیز نہ لیتی ہے، نہ کھاتی ہے، نہ پہنتی ہے، نہ قریب آتی ہے، اور کہتی ہے کہ مجھ کو یہ خوف ہے کہ اگر میں کھاؤں تو مجھ پر شرعی نقصان پڑجائے گا، شوہر اس امر سے قطعی انکار کرتا ہے اس کا بیان ہے کہ غصہ میں میرے منہ سے نکل گیا ہے ہرگز میری یہ مراد نہ تھی، بقسم شرعی کہتا ہے، یومِ عقد سے گاہے اس نے ایسا لفظ بد منہ سے نہیں نکالا ہے بینواتوجروا۔
الجواب

اگر الفاظ اسی قدر تھے جو مذکور ہوئے جن میں کچھ ذکر نہیں کہ کون طلاق ہے کس پر طلاق ہے، اور ایسی حالت میں  شوہر کا بقسم بیان کہ ان الفاظ سے میں نے طلاق زوجہ کی نیت نہ کی تو صورت مذکورہ میں بموجب روایات کثیرہ فتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی خلاصہ وفتاوٰی بزازیہ وفتاوٰی ہندیہ وفتاوٰی ذخیرہ ومحیط امام  برہان الدین وقنیہ وبحرالرائق ودرمختار وغیرہا ان الفاظ سے نکاح پر کوئی اثر نہ اب ہے نہ آئندہ کسی چیز کے کھانے سے پیدا ہو، اور بنظر دقیق احتیاط یہ ہے کہ اگر الفاظ یہی تھے کہ میری چیز کھائے الخ جب تو جو چیز کھانے سے پہلے زوجہ کو شوہر ہبہ کردے کہ اب میری چیز کھانا صادق نہیں، اور اگرلفظ وہ ہیں جو کرامت نامہ میں ارشاد ہوئے کہ اب اگر میری لائی ہوئی کھائے الخ تو علاج یہ ہے کہ خود چیز نہ لائی جائے نوکر یا عزیز یا غیر اوروں سے منگواکردی جائے، یہ احتیاط صرف کھانے میں ہے اس کے سوا پہننا،بولنا،قریب آناجانا وغیرہا کسی فعل سے کوئی اثر ضرر نہیں اور ایک بار سہواً خواہ قصداً ایسا واقع ہوجائے کہ خلافِ شرط کھانا عمل میں آئے تو الفاظ مذکورہ سے بنظرِ احتیاط بھی صرف ایک طلاق رجعی کا حکم ہوگا کہ عدت کے اندر فقط زبان سے اتنا کہہ دینا کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیر لیا کفایت کرے گا، اس کے بعد وہ شرط باطل ہوجائے گی جو چاہے اور جتنی بارچاہے شوہر کی چیز اسی کی لائی ہوئی کھائے ہرگز طلاق نہ ہوگی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
نوٹ

اعلٰحضرت علیہ الرحمۃ کا یہ وہ مفصل فتوٰی ہے جس کا ذکر پیش لفظ میں گزرچکا ہے، یہ فتوٰی فتاوٰی رضویہ قدیم میں شامل نہ تھا، اس مسئلہ کی اہمیت اور اس باب سے متعلقہ ہونے کے پیش نظر اس مقام پر جلد ہذا میں شامل کرلیا گیا ہے۔
مسئلہ۸ :از انبٹھہ ضلع سہارن پور    مرسلہ فضل کریم انصاری 

بسم اﷲالرحمٰن الرحیم ط

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی فضل کریم نے اپنی زوجہ مسماۃ حسینہ بی کو بلایا، اس کی والدہ نے بھیجنے سے انکار کیا، فضل کریم اس کے پاس گیا اور سمجھایا، جب  دیکھا کہ وہ راضی نہیں ہوتی تو اس سے کہا کہ''اگر آج آپ عصر تک اپنے گھر نہ آئیں تو میں آپ کو اپنے نکاح  سے علیحدہ کردوں گا'' اور اثنائے راستہ میں بہنگام واپسی مکان خسر خود صدیق احمد یا تایا زوجہ خود کے مل جانے پر اس سے بھی فضل کریم نے کہا کہ''ان کو سمجھا کر بھجوادو میں کہہ آیا ہوں کہ عصر تک اپنے گھر نہ آئیں تو میں اپنے نکاح سے علیحدہ کردوں گا'' اس پر اہالیِ زوجہ نے اس کو روک رکھا اور لفظ یہ بتائے کہ فضل کریم یہ لفظ کہہ گیا تھا کہ ''اگر آپ عصر تک اپنے مکان میں نہ آئیں تو میری طرف سے جواب ہے'' اور یہ الفاظ فضل کریم نے بحالتِ غیظ وغضب کہے تھے نیز یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ فضل کریم نے باہر از مکان خسر خود تایا زوجہ خود سے کہا تھا کہ ''معافی نامہ مہر میرے پاس لکھا رکھا ہے اور میں کہہ آیا ہوں کہ ''اگر عصر تک آپ اپنے گھر نہ آئیں تو میری طرف سے جواب ہے'' فضل کریم ان الفاظ سے منکر ہے نیز بحلف شرعی کہتا ہے کہ بالفرض لفظ یوں ہوں یا کچھ ہوں جو کچھ ہوں میں نے کہا تھا اس سے زوجہ مذکور کو طلاق دینے کی نیت میری نہ تھی'' اس پر بعض صاحبان (عہ) نے بے تحکیم فضل کریم(بوجہ مراسم تایا مسماۃ حسینہ بی تایامذکور کے بلالانے پر) بطور خود حکم ہونے کا دعوٰی کیا اور یہ فیصلہ لکھ دیا کہ زوجہ فضل کریم مسماۃ حسینہ بی پر ایک طلاق بائن ہوگئی اور اس صورت میں کہ فضل کریم نے لفظ''جواب ہے'' کہا تھا نیت فضل کریم کی حاجت نہیں، اور زوجہ حسینہ بی اپنے معاملہ میں قاضی ہے،
عہ: یعنی جناب مولوی اشرفعلی صاحب تھانوی مصنف حفظ الایمان جن کی نسبت حسام الحرمین شریف میں علماء کرام حرمین شریفین کا حکم مشہور ومعروف ہے۱۲۱۲
اور یہ بھی لکھا کہ فضل کریم شہادت پیش کرنے سے قاصر رہاحالانکہ منجانب حسینہ بی اس کے رشتہ دار گواہ جو ثقہ اور عادل ہیں پیش ہوئے، اگر چہ فیصلہ  مذکور میں شہادت پیش شدہ غیر محدود صورت کے ساتھ ہے لیکن ایک اقربا حسینہ بی سے معلوم ہوا کہ تایا مذکور وچچی وتائی زوجہ مذکور نے اور ان کی ایک ماما غیر پردہ نشین نے بیان مسماۃ حسینہ بی کی تائید کی ہے۔
قابلِ استفتاء یہ امور ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا اور صورتِ مذکورہ میں طلاق کا حکم دینا شرعاً حق ہے یاباطل، اور عورت کو اس موقعہ پر کیا سمجھنے کا حکم ہے وُہ خودقاضی ہوسکتی ہے یانہیں، اور جن لوگوں نے ایسا فیصلہ دیا ان کی نسبت کیا حکم ہے اور ان ہردو اقوال میں فضل کریم شوہر کا قول معتبر ہے یازوجہ حسینہ بی اور اس کے اقربا مذکورہ کا، اور ان ہردو الفاظ سے شرعاًکسی قسم کی طلاق مذکورہ بالا صورت میں عائد ہوگی یانہیں، مدلل مرقوم فرمائیں، بینواتوجروا۔ احقر فضل کریم انصاری ساکن انبٹھہ ضلع سہارنپور
الجواب

اللّھم ھدایۃ الحق والصواب 

صورت مستفسرہ میں ہر گز حکمِ طلاق نہیں، یہاں شرعاً فضل کریم کا قول معتبر ہے کہ حسینہ طلاق کی مدعیہ ہے اور فضل کریم اس سے منکر اور قاعدہ شرع ہے کہ القول للمنکر والبینۃ علی المدعی(منکر کی بات معتبر ہے اور گواہی مدعی کے ذمہ ہے۔ت) اگر اس نے یہی لفظ کہے تھے کہ''نکاح سے علیحدہ کردوں گا''جب تو ظاہر ہے کہ یہ نراوعدہ ہے اور وعدے سے طلاق نہیں ہوتی۔ 

جواہر اخلاطی میں ہے:
طلاق میکنم طلاق بخلاف قولہ کنم لانہ یتمحض الاستقبال۱؎۔
طلاق میکنم، حال ہونے کی وجہ سے طلاق ہے اس کے برخلاف طلاق کنم، کہا تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ محض  استقبال ہے(ت)
(۱؎ جواہر الاخلاطی     فصل فی طلاق الصریح     قلمی نسخہ     ص۶۹)
اور اگر بالفرض اس نے وہی لفظ کہے  ہوں جواہالی زن بیان کرتے ہیں تو جبکہ وہ عدم نیت طلاق پرحلف کرتا ہے حکم طلاق محض باطل وخطا ہے، اولا لفظ جواب اگر چہ اردو میں بمعنے ترکِ تعلق بھی آتا ہے جس کے سبب طلاق سے کنایہ ہوسکتا ہے نوکر کو جواب دے دیا یعنی برخاست کردیامگر وہ اردوئےمعلّٰی بلکہ فارسی میں بھی بمعنی رد و انکار وعدمِ قبول شائع وذائع ہے گدارا جواب داد(فقیر کو جواب دیا۔ت) یعنی اس کا سوال رد کیا، دینے سے انکار کردیا، زید سے فلاں کام کو کہا اس نے جواب دیا یعنی نہ مانا، قبول نہ کیا، عمرو سے کوئی درخواست کی اس نے کہا میری طرف سے جواب ہے یعنی مجھے منظور نہیں۔
مخلص کا شی راست ؎

دریں زمانہ گدارنگ می تواند بست     اگر زخواجہ ممسک جواب میگیرد

(اس زمانہ میں گدا گر اپنے ڈنگ کا بختہ ہے اگر چہ بخل والاجواب بھی دے دے۔ت)

فصیح الملک ؎

نامہ برکہتا ہے اب لاتا ہوں دلبر کا جواب     سُن چکا میں چاردن پہلے مقدر کا جواب

اس قسم کے محاورات نظم ونثر میں بکثرت ہیں۔

تو کلمہ یقینا صالح رد ہے، اور جو کلمہ صالح رد ہو مطلقا ہر حال میں محتاجِ نیت ہے اگر چہ حالت غضب ہو اگر چہ حالتِ مذاکرہ طلاق ہو۔
درمختار میں ہے:
الحالات ثلثۃ رضی وغضب ومذاکرۃ والکنایات ثلث مایحتمل الرداومایصلح للسب اولا ولاففی الرضی تتوقف الثلثۃ علی نیۃ للاحتمال وفی الغضب الاولان وفی مذاکرۃ الطلاق الاول فقط۱؎۔
حالات تین ہیں: رضا، غصہ اور مذاکرہ طلاق، اور کنائے تین ہیں: رد کا احتمال نہ رکھتا ہو، تو رضا کی صورت میں تینوں احتمال ہوسکتے ہیں جس کی نیت کریگا وہی ہوگا، اورغصہ کی صورت میں پہلے دونوں اور مذاکرہ کی صورت میں صرف پہلا احتمال یعنی رد ہوسکتا ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار         باب الکنایات     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۴)
اور جب وُہ حلف کے ساتھ نیت کا انکار کرتا ہے تو یقینا اس کا قول ماناجائے گا۔ نہ قاضی حکمِ طلاق دے سکتاہے نہ عورت اپنے آپ کو مطلقہ سمجھ سکتی ہے۔ 

درمختار میں ہے:
والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ۲؎۔
قسم کے ساتھ خاوند کی بات معتبر ہوگی اور بیوی کا گھر میں اس سے قسم لے لینا کافی ہے۔(ت)
 (۲؎ درمختار         باب الکنایات     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۴)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ للاحتمال لما ذکرنا من ان کل واحدٍ من الالفاظ یحتمل الطلاق وغیرہ والحال لاتدل علی احدھما فیسأل عن نیتہ ویصدق فی ذلک قضاء بدائع۱؎۔
ماتن کے قول للاحتمال کی وجہ جو ہم نے ذکر کی کہ مذکور الفاظ میں سے ہرایک طلاق وغیر طلاق کا احتمال رکھتا ہے جبکہ حال کی دلالت کسی ایک پر نہیں لہذااس کی نیت پوچھی جائے گی اور قضاء اس کے بیان کی تصدیق کی جائے گی، بدائع۔(ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار         باب الکنایات         احیاء التراث العربی بیروت         ۲ /۴۶۵)
Flag Counter