Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
49 - 175
مسئلہ۵۶: مولٰنا حافظ حشمت علی صاحب لکھنوی طالب علم مدرسہ اہلسنت بریلی ۱۰محرم ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو طلاق دے دی بوجہ اس کی بدچلنی کے۔ ہندہ طلاق کے بعد عمرو کے پاس رہی اور ہندہ کو عمرو سے حمل رہ گیا، عمرو نے ہندہ کے ساتھ بعد گزرنے ایام عدت نکاح کرلیا اور بعد نکاح عمرو کو اس بات کا علم ہواکہ ہندہ کو مجھ سے حمل ہے، آیا یہ نکاح جائز ہے اور یہ کہ بعد طلاق، نکاح کے واسطے عدت کا زمانہ کیا ہے؟
الجواب

طلاق کی عدت حیض والی کے لئے تین حیض ہیں جو بعد طلاق شروع ہوکر ختم ہوجائیں، اور جسے حیض ابھی نہیں آیا یا حیض کی عمر سے گزرچکی اس کے لئے تین مہینہ اور حمل والی کے لئے وضع حمل۔ یہ احکام قرآن عظیم میں منصوص ہیں اور عمرو نے جو قبل عدت اس سے تعلق کیا اور حسب بیان سائل اس سے حمل رہ گیا تو وہ کون سے ایام عدت تھے جو اس نے گزارے، اس کی عدت تین حیض تھے، اور حاملہ کو حیض آتا نہیں، اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے، اور ابھی وضع حمل ہوا نہیں، یہ نکاح فاسد ہوا، اس پر فرض ہے کہ عورت کو فوراً الگ کردے اور انتظار کیا جائے اگر یہ بچہ طلاق شوہر سے دو برس کے اندر پیدا ہوتو شوہر ہی کا ہے اور اب وہ عدت سے نکلی اس سے نکاح  ہوسکتا ہے اور دو برس کے بعد پیدا ہوتو شوہر کا نہیں اب نکاح ہر حال جائز ہوگا۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۷: از موضع کیسر پورضلع بریلی مسئولہ خدا بخش انصاری ۲ ربیع الآخر۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا نکاح ایک بیوہ عورت سے مقرر ہوا، جس وقت نکاح ہوا برادری کےلوگ جمع ہوئے اور ان کے روبرو عاقد نے دریافت کیا کہ اس عورت میں کوئی نقص یا جھگڑا تو نہیں ہے تو اس میں دو شخصوں نے کہا کہ کچھ نہیں بیوہ ہے آپ نکاح پڑھا دیں، آخر کلام نکاح ہوگیا اب جس وقت شب کو خلوت ہوئی تو معلوم ہوا کہ عورت حاملہ ہے، آخر پولیس کو خبر ہوگئی تو داروغہ پولیس نے عورت سے دریافت کیا، اس نے جس کا حمل تھا اس کو نہ بتایا اور شخص کانام لے دیا، پولیس نے اس کے سپرد کردیا،اور اہلِ برادری میں کئی شخص اس بیوہ کو جانتے تھے مگر پوشیدہ رکھا ظاہر نہ کیا، اب شرع شریف سے جس کے گھروہ عورت ہے اس کو کیا حکم ہے اور عاقد وکیل و شاہدوں کےلئے کیا حکم ہے؟
الجواب

سائل کا بیان ہے کہ شوہر کے انتقال کے ڈیڑھ برس ہوا اور حمل وہیں کا معلوم ہوتا ہے، اس صورت میں جس شخص سے اس کا نکاح ہوا ہے اس پر لازم ہے کہ عورت کو اپنے سے جدا دوسرے مکان میں رکھے اور بچہ پیداہونے کا انتظار کرے، اگر شوہر کی وفات سے پورے دو برس کے اندر بچہ پیدا ہوجائے تو یہ نکاح باطل محض ہوا اور جولوگ واقف حال شریک نکاح تھے سخت گنہ گار ہوئے، بعد بچہ پیداہونے کے پھر یہ شخص اس سے نکاح کرسکتا ہے، اور اگر وفاتِ شوہر کو دو برس کامل گزرجائیں اس کے بعد بچہ پیدا ہو تو یہ نکاح صحیح ہوگیا دوبارہ نکاح کی حاجت نہیں، بچہ پیداہونے کے بعد اسے ہاتھ لگانا بھی جائز ہوجائے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter