Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
48 - 175
مسئلہ۵۲: از بنگالہ مسئولہ مولوی عبدالغفور صاحب ۱۹ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ صغیرہ مطلقہ ہو یا متوفیہ الزوج مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ شرعاً اس کے لئے عدت ہے یانہیں اور حدِ صغر کہا ں  تک ہے؟بینواتوجروا(بیان کرکے اجر حاصل کرو)
الجواب

وفات کی عدت عورت غیر حامل پر مطلقا چار مہینے دس دن ہے خواہ صغیرہ ہو یاکبیرہ، مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ اور طلاق کی عد ت  غیر مدخولہ پر اصلاً نہیں اگرچہ کبیرہ ہو اور مدخولہ پر یعنی جس سے خلوت واقع ہولی اگرچہ خلوت فاسد ہو یانکاح فاسد میں حقیقۃً وطی کرلی غیر حیض والی کےلئے تین مہینے ہیں خواہ صغیرہ ہو کہ ابھی حیض آیا ہی نہیں یا کبیرہ آئسہ کہ اب عمر حیض کی نہ رہی۔ درمختار میں ہے:
العدۃ فی حق من لم تحض لصغر بان لم تبلغ تسعا اوکبر بان بلغت سن الایاس ثلثۃ اشھر ان وطئت فی الکل ولو حکماً کالخلوۃ ولو فاسدۃ والعدۃ للموت اربعۃ اوکتابیۃ تحت مسلم ولو عبدافلم یخرج عنھا الاالحامل۲؎والخلوۃ فی النکاح الفاسد لاتوجب العدۃ۳؎ اھ ملتقطا۔
بچپن کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو کہ وہ ابھی نو سال سے کم عمر ہے یا بڑھاپے کی وجہ سے کہ وہ عمر رسیدہ ہوگئی ہے جس کی وجہ سے وہ حیض والی نہیں ہے توان کی عدت تین ماہ ہوگی جبکہ حقیقۃً وطی یا حکماً یعنی خلوت ہوچکی ہو، اگرچہ خلوتِ فاسدہ ہو، اور موت والی کی عدت مطلقاً چار ماہ دس دن ہے بیوی مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ اگرچہ نابالغہ ہو یا کتابیہ مسلمان کے نکاح میں اگرچہ مسلمان غلام ہو موت کی عدت کا یہی حکم ہے اس حکم سے صرف حاملہ بیوی خارج ہے کہ اس کی عدت وضع حمل ہے، اور فاسد نکاح میں خلوت سے عدت واجب نہیں ہوتی اھ ملتقطا(ت)
 (۲؎ درمختار           باب العدۃ     مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۵۶۔ ۲۵۵)

(۳؎ درمختار           باب العدۃ     مطبع مجتبائی دہلی         ۱/۵۶۔ ۲۵۵)
عورت کے لئے حد صغر ۹ سال کی عمر تک ہے اس سے کم عمر میں جوانی ہر گز نہیں ہوتی، اس کے بعد ۱۵ سال کی عمر تک احتمال ہے اگر آثارِ بلوغ حیض آنا یا احتلام ہونا یا حمل رہ جانا پایا جائے تو بالغہ ہے ورنہ جب ۱۵ سال کامل کی عمر ہوجائے گی جوانی کا حکم کردیں گے اگرچہ آثار کچھ ظاہر نہ ہوں بہ قال وعلیہ الفتوی کما فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر(یہی کہا اور اسی پر فتوی ہے جیسا کہ در وغیرہ مشہور کتب میں ہے۔ت)واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۵۳: از ٹھاکر دوارہ ضلع مرادآباد بازار گنج مرسلہ نجیب اﷲ صاحب عطار ۹ شوال ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایک عورت کو اس کے خاوند نے اپنے گھر سے نکال دیا اور کہہ دیا کہ تجھ کو نہیں رکھتا، یہاں تک کہ اس عورت نے اپنے خاوند کے ڈرانے کی غرض سے خود کشی کا قصد کیا اور کچہری سے بجرم خودکشی تیس روپیہ جرمانہ عورت پر ہوئے، اس کے خاوند کو کچھ سروکار نہ ہوا بلکہ کچہری میں بیان کیا کہ میں نے عورت کو چھوڑدیا مجھ سے کچھ غرض نہیں، اس روز سے وہ عورت دوسرے مرد کے پاس ہے، اس کے خاوند سے چند بار کہا گیا کہ عورت اپنی کو طلاق دے، وہ کہتا ہے میں طلاق کو نہیں جانتا میں نے عرصہ پانچ سال کا ہوا چھوڑ دیا۔ اب نکاح دوسرے آدمی کے ساتھ جس کے ساتھ وہ رہتی ہے جائز ہے یا نہیں؟
الجواب

اگر واقعی کچہری میں اس نے وہ الفاظ کہے کہ''میں نے اس کو چھوڑ دیا'' تو اسی وقت سے طلاق ہوگئی، اس وقت سے اگر تین حیض شروع ہوکرختم ہوگئے تو دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور اگر ابھی ختم نہ ہوئے تو جب ختم ہوجائیں اس کے بعد کرسکتی ہے اور یوں جو عزیزوں کے یہاں رہتی ہے یہ حرام ہے، اور وہ جو اس نے کہا''پانچ برس سے چھوڑچکا ہوں'' اس کا اعتبار نہیں اگرچہ کچہری میں ''چھوڑنے'' کا لفظ پہلے کہا تھا تو جب سے عدت ہے اور اگر یہ لفظ پانچ برس سے چھوڑنے کا پہلے کہا تھا تو جب سے ہے غرض جو لفظ کہا ہو اس کے بعد تین حیض شروع ہوکر ختم ہونا درکار ہے بغیر اس کے دوسری جگہ نکاح حرام ہے، وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۵۴: از میونڈی ڈاکخانہ شاہی ضلع بریلی مرسلہ سید امیر عالم حسن صاحب ۱۶ شوال ۱۳۳۷ھ 

کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عدت بیوی کی کتنی ہے اور مطلقہ کی کتنی؟
الجواب

حاملہ کی عدت وضع حمل ہے مطلقہ ہو یا بیوہ، اور غیر حاملہ بیوہ کی عدت اگر خاوند کسی مہینے کی پہلی شب یا پہلی تاریخ میں مرا اگرچہ عصر کے وقت، چار مہینے دس دن ہیں یعنی چار ہلال اور ہوکر اس پانچویں ہلال پر وقت وفات شوہر کے اعتبار سے دس دن کامل اور گزرجائیں اورپہلی تاریخ کے سوا اور کسی تاریخ میں مرا تو ایک سوتیس۱۳۰ دن کامل لئے جائیں اور مطلقہ اگر حیض والی ہے تو بعد طلاق تین حیض شروع ہوکر ختم ہوجائیں اور اگر صغیرہ کہ ابھی حیض نہیں آتا یا کبیرہ کہ حیض آنے کی عمر گزرگئی تو عدت تین مہینے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۵۵: از شہر یکم ذیقعدہ ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک لڑکی کانکاح نابالغی میں کردیا تھا چونکہ لڑکی اس لڑکے کے قابل نہ تھی لہـذا اس نے ہرطرح کی تکلیفیں پہنچائیں؟لڑکی کے والدین نے اسے اپنے گھررکھ لیااس لڑکے نے چار بار برادروں کو جمع کرکے کہا میں طلاق دے دوں لیکن برادروں نے اسے باز رکھا، اب جبکہ اس نے دوسرا نکاح کرلیا تو برادروں نے طلاق دلوادی، تو ایسی صورت میں عدت معتبر ہوگی یانہیں؟
الجواب

اگر لڑکی قابل جماع تھی اگرچہ خاص اس مرد کے قابل نہ ہو اور خلوتِ صحیحہ ہوچکی تھی عدت لازم ہے ورنہ نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter