Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
47 - 175
با بُ العدّۃ

(عدّت کا بیان)
مسئلہ ۵۱: ۲۳رجب ۱۳۲۲ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت جس کی عمر اس وقت بارہ ۱۲ برس ہے کوئی علامت بلوغ کی پائی نہیں جاتی، اس حالت میں اس کو شوہر طلاق دے تو عدت بیٹھے گی یانہیں؟اور اس کی شادی کو عرصہ تین برس کاگزرا تھا۔ بینواتوجروا
الجواب

اگر اب تک شوہر سے خلوت نہ ہوئی تھی تو اصلاً عدت نہیں اسی وقت اس کا نکاح کیا جاسکتا ہے اور اگر شوہر اس کے پاس جا چکا تھا تو چار مہینے دس دن انتظار کرائیں، اگر اس مدت میں عورت کو حمل ظاہر ہوتو وضع حمل تک عدت بیٹھے،اور اگر حمل ظاہر نہ ہوتو عدت تین ہی مہینے گزشتہ گزرچکی آگے انتظار نہ کرایا جائے،
فی ردالمحتار فی البحر عن الامام الفضلی انھا اذاکانت مراھقۃ لاتنقضی عدتھا بالاشھر، بلایوقف حالھا حتی یظھر ھل حبلت من ذٰلک الوطی ام لا، فان ظھر حبلھا اعتدت بالوضع والافبالاشھر قال فی الفتح ویعتد بزمن التوقف من عدتھا اھ
ردالمحتار میں ہے کہ بحر میں امام فضلی سے منقول ہے کہ جب مطلقہ عورت مراہقہ ہوتو وہ اپنی عدت مہینوں کے حساب سے نہ گزارے بلکہ اس کی عدت کا حال اس بات پر موقوف رہے گا کیا اس کو حمل ٹھہرا ہے یانہیں، اگر واضح ہوجائے کہ حمل ہوا ہے تواس کی عدت وضع حمل قرار پائے گی ورنہ عدت تین ماہ شمارہوگی اور فتح میں ہے کہ توقف کا زمانہ بھی عدت میں شامل کیاجائے گا اھ
قلت یعنی اذاظہر عدم حبلھا یحکم بمضی العدۃ بثلاثۃ اشھر مضت ویکون زمن التوقف بعدھا لغوا حتی لوتزوجت فیہ صح عقدھا وفی نفقات الفتح فی الخلاصۃ عدۃ الصغیرۃ ثلثۃ اشھر الااذاکانت مراھقۃ فینفق علیھا مالم یظھر فراغ رحمھا کذافی المحیط اھ، من غیر ذکر خلاف وھو حسن اھ کلام الفتح، لکن ینبغی الافتاء بہ احتیاطا قبل العقد بان لایعقد علیھا الا بعدالتوقف لکن لم  یذکروامدۃ التوقف التی یظھر بھا الحمل،
قلت(میں کہتا ہوں) اگر حمل ظاہر نہ ہو تو گزشتہ تین ماہ کو عدت قرار دیا جائیگا اور ان تین ماہ کے بعد والا توقف بیکار ہوگا حتی کہ اگر اس نے تین ماہ کے بعد اور نکاح کرلیا تو وہ صحیح ہو گا اور فتح میں نفقات کی بحث میں خلاصہ سے منقول ہے کہ نابالغہ کی عدت تین ماہ ہے ہاں اگر وہ مراہقہ ہوتو پھر اس کو  خاوند اس وقت تک نفقہ دیتا رہے گا جب تک رحم کا خالی ہونا واضح نہ ہوجائے، محیط میں یوں ہی مذکور ہے اھ۔ اور اس میں اختلاف کو ذکر نہیں کیا، اور یہ بہتر کلام ہے، فتح کا کلام ختم ہوا، لیکن نکاح سے قبل اس پر فتوی مناسب ہے تاکہ توقف کے بغیر عدت کا فیصلہ نہ کردیا جائے، لیکن یہاں فقہاء نے توقف کی  عدت کو ذکر نہیں کیا وہ کتنی مدت ہے جس سے حمل ظاہر ہوسکے،،
وذکر فی الحامدیۃ عن بیوع البزازیۃ انہ یصدق فی دعوی الحبل فی روایۃ اذاکان من حین شرائھا اربعۃ اشھر وعشرلااقل، وفی روایۃ بعد شھرین وخمسۃ ایام وعلیہ عمل الناس اھ ومشی فی الحامدیۃ علی الاخیرۃ وفیہ نظر لان المراد من مسألتنا التوقف بعد مضی ثلثۃ اشھر فالاولی الاخذ بالروایۃ الاولی فاذامضت اربعۃ اشہروعشرولم یظھر الحبل علم ان العدۃ انقضت من حین مضی ثلثۃ اشھر۱؎اھ ملتقطا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
حامدیہ میں  مذکور ہوا کہ بزازیہ کے مسائل بیوع میں ہے کہ اگر لونڈی خریدی ہو تو ایک روایت کے مطابق مالک کے دعوی  حمل کی تصدیق تب کی جائے گی جب لونڈی کو خریدے ہوئے چار ماہ دس دن گزر چکے ہوں، اس سے کم مدت میں اس دعوی کی تصدیق نہ ہوگی،اور دوسری روایت میں ہے کہ دو ماہ پانچ دن کے بعد تصدیق ہوسکے گی جبکہ لوگوں کا عمل اسی پر ہے اھ۔ اور حامدیہ نے دوسری روایت پر عمل کیا ہے اور اس میں اعتراض ہے کہ ہماری بحث اس صورت میں ہے جب تین ماہ گزرجانے کے بعد توقف ہو لہذا پہلی روایت پر عمل بہتر ہوگا، تو جب چار ماہ دس دن گزرجائیں اور حمل ظاہر نہ ہوتو معلوم ہوگا کہ اس کی عدت گزرچکی ہے جب تین ماہ پورے ہوچکے تھے اھ ملتقطا، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب العدۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۶۰۱)
Flag Counter