| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۴۷: از درؤ ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیزخاں۱۵رمضان المبارک ۱۳۳۶ھ زید کی عورت نے بحالتِ غصہ زید سے کہا کہ تمہارے نزد یک میری، ایک بال زیرِ ناف کے برابر بھی قدر نہیں۔ اس پر زید نے ازراہِ تمسخر اس سے یہ کہا کہ میں تجھ کو اپنے باپ اور دادا سے زیادہ سمجھتا ہوں۔ ایسی حالت میں زید پرظہار کا حکم لازم آتا ہے یانہیں؟
الجواب یہ لغو ومہمل الفاظ ہیں انہیں ظہار یا کفارے سے کوئی تعلق نہیں فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
التشبیہ بالرجل ای رجل کان لایکون ظہارا۲؎۔
عورت کو کسی بھی مردسے تشبیہ دینا ظہار نہیں ہوتا۔(ت)
( ۲؎ فتاوی قاضی خاں کتاب الظہار نولکشور لکھنؤ )
بدائع ونہر میں ہے:
من شرائط عہ الظہارکون المظاھر بہ من جنس النساء۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ظہار کی شرائط میں سے یہ ہے کہ ظہار میں جس سے تشبیہ دی جائے وہ عورت کی جنس ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ بدائع الصنائع فصل واماالذی یرجع الی المظاھر بہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۳۳)
عہ :لکن مافی العالمگیریہ فیہ تفصیل حیث قال لامرأتہ علی کظہر۳؎الخ۔
عہ :لیکن عالمگیری میں اس کے متعلق تفصیل ہے جہاں انہوں نے بیان کیا کہ کوئی بیوی کو کہے تو مجھ پر پیٹھ کی طرح الخ(ت)
( ۳؎ فتاوی ہندیۃ الباب التاسع فی الظہار نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۰۶)
مسئلہ ۴۸:ازلکھنؤ امین الدولہ پارک مرسلہ محمد ابراہیم ایس اینڈ سنگرکمپنی ۵شعبان ۱۳۳۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے رات کے وقت اپنی زوجہ کو واسطہ صحبت کے بلایا تو بیوی کے انکار کرنے پر زید نے یہ قسم کھائی کہ اب میں تم سے صحبت کروں تو اپنی ماں سے زنا کروں، بعدہ زید بہت شرمندہ ہوا اور توبہ واستغفار کیا، اس معاملہ میں زید کو کیا کرنا چاہئے؟بالفرض اگر زید نے اسی شب بعد استغفار صحبت بھی کی تو کیا کرنا چاہئے؟
الجواب اس نے بر اکیا براکیا، توبہ و استغفار کے سوا اور کچھ لازم اس پر نہیں، صحبت کی تو کچھ حرج نہ ہوا، نہ اس سے نکاح پر کچھ حرف آیا،
کمایظھر بمراجعۃ الفتح والدر وغیرہما
(جیسا کہ فتح اور در وغیرہ کو دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴۹: خاوند نے ماں بہن کہا، طلاق نہیں دی، یہ صورت مسئلہ ہے،لہذا عندالشرع کیا حکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب صورت مذکورہ میں طلاق ثابت نہیں، نہ یہ ظہار، صرف برا کہااور گناہگار ہوا، تو بہ کرے وبس،
قال اﷲ تعالٰی وانھم لیقولون منکرامن امن القول وزوراoوان اﷲلعفو غفور۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا اور وہ بیشک بری اور نری جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشک اﷲ ضرور معاف کرنیوالااور بخشنے والا ہے۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ القرآن ۵۸ /۲)
مسئلہ ۵۰: از شہر بریلی گڑھی مسئولہ عبدالکریم صاحب ۵ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے مکان پرجبکہ اس کی بیوی اپنے میکہ گئی ہوئی تھی، اپنے بھائی وغیرہ کے روبرو کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو اس وقت سے ماں بہن کے برابر جانتا ہوں اس کو خبر کردو کہ وہ اپنا ٹھکانا دوسری جگہ کرلے، اور یہ بات اس وقت اس نے کہی تھی کہ جب اس کی دوسرے شخص سے لڑائی ہوئی تھی اور لوگوں نے اس کو جھوٹی خبر دی تھی کہ تم کو تمہارے سسرنے پٹوایا ہے، یہ حالت سخت غصہ کی تھی، آیا اس کو اب نکاح کرنا چاہئے یا نکاح سابق جائزرہا؟
الجواب یہ لفظ کہ''اس کو خبر کردوکہ وہ اپناٹھکانا دوسری جگہ کرلے'' اگر بہ نیت طلاق نہ کہے جب تو طلاق نہ ہوئی اور اس کا قسم کھاکرکہہ دینا مان لیا جائے گا کہ اس کی نیت طلاق کی نہ تھی اور اگر بہ نیت طلاق کہے تو طلاق ہوگئی، نکاح جاتا رہا،نئے سرے سے اس کی مرضی سے اس سے نکاح کرسکتا ہے اگر پہلے دو طلاقیں نہ دے چکا ہو حلالہ کی حاجت نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔