(۱؎ درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۴۸)
اور عورت تو اگر اعضائے شوہر کو بھی اپنے محارم کے اعضاء سے تشبیہ دے تو شوہر اس پر حرام نہیں ہوجاتا
کما فی الدرالمختار وظہارھاعہ منہ لغو فلاحرمۃ۲؎اھ۔
جیسا کہ درمختار میں ہے کہ عورت کاخاوند کو اپنے محرمات کے ساتھ تشبیہ دینا لغو کلام ہے اس سے حرمت نہ ہوگی(ت)
( ۲؎ درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۴۹)
عہ: علی قولہ محمد المصحح المفتی بہ قال فی العالمگیریۃ لاتکون المرأۃ مظاھرۃ من زوجھا عند محمد رحمہ اﷲ تعالٰی والفتوی علیہ وھوالصحیح کذافی السراج الوھاج ۳؎۱۲مفتی اعظم
عہ: یہ مسئلہ امام محمد کے تصیح شدہ اور مفتیٰ بہ قول پر ہے فتاوی ہندیہ میں ہے امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک عورت اپنے شوہر سے مظاہر نہیں ہوتی، فتوی اسی پر ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ سراج وہاج میں ہے۱۲مفتی اعظم (ت)
( ۳؎ فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی الظہار نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۰۷)
پس جبکہ اس کا قول خود اپنے حق میں مؤثر نہ ہوا تو حق شوہر میں کیا تاثیر کرے گا اور اپنے اعضاوعادات محارم شوہر سے تشبیہ دے گی تو کیونکہ اس پر حرام ہوجائے گی اور سبب کفارہ، ظہار ہے جب ظہار نہ پایا گیا تو کفارہ کہاں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴۶: از گوڈھوا ضلع پلاموں مرسلہ محمد اسمٰعیل صاحب سود اگر چرم۱۰جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
ایک شخص اہل اسلام نے اپنے گھر میں میاں بی بی سے جھگڑا اور غصہ کی حالت میں یہاں تک بیتاب ہوگیا کہ اپنی بی بی کو ماں کہہ بیٹھا اور اس کا سینہ منہ میں رکھ لیا اور بی بی نے بھی غصہ کی حالت میں کہا کہ اگر تو مجھ کو ماں کہتا ہے تو میں بھی تجھ کو بیٹا کہتی ہوں، بعد اس جھگڑے کے جب ان دونوں کاغصہ رفع ہوا تو اپنے اس کلام اور اس فعل سے نہایت نادم وشرمندہ ہوئے اور کہنے لگے کہ ایسا نہ ہو کہ اس کے مواخذہ میں ہم دونوں گنہگار ہوں،اور اسی وقت کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا سب علیحدہ کرلیا، اب وہ اس بات کے خواہشمند ہیں کہ اس بارے میں مطابق حکم خدا اور رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے علمائے دین کیا فتوی دیتے ہیں، آیا میاں بی بی ہیں یا نہیں؟اور یہ بھی دریافت کیا گیا ہے کہ بی بی کا دودھ شوہر کے منہ میں نہیں آیا تو بی بی نکاح کے اندر ہے یا باہر؟طلاق ہوا یانہیں؟
الجواب
صورت مذکورہ میں وہ اسے ماں اور اسے بیٹا کہنے سے دونوں گنہگار ہوئے،
قال اﷲتعالٰی وانھم لیقولون منکرامن القول وزورا۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ بیشک لوگوں کا (بیوی کو ماں بہن کہنا)بری بات اور جھوٹ ہے(ت)
مگر نکاح میں کچھ فرق نہ آیا، اور پستان منہ میں لینا تو کوئی چیز نہیں، اگر دودھ پی بھی لیتا تو وہ پینا حرام ہوتا، مگرنکاح میں اس سے خلل نہ آتا کہ ڈھائی برس کی عمر کے بعد دودھ سے حرمت نہیں ہوتی اور دونوں کو جدا رہنے کی کوئی حاجت نہیں،وہ بدستور زوج و زوجہ ہیں۔واﷲتعالٰی اعلم۔