Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
44 - 175
مسئلہ۴۴: از پیلی بھیت محلہ اشرف خاں مرسلہ عزیز الرحمان خاں ۱۶ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کی ماں سے یہ بات کہی کہ تیری لڑکی تاحیات تیری، مثل اپنی بہن کے سمجھتا ہوں، تو اس میں کیا حکمِ شرع ہے؟بینواتوجروا
الجواب

اگر ان لفظوں سے اس کی مراد ظہار یا تحریم تھی یعنی تیری حیات تک اپنی زوجہ سے ظہار کرتا ہوں یا تیری حیات تک اسے حرام سمجھتا ہوں، جب تو ظہار ہوگیا یعنی نکاح بدستور باقی ہے، مگر حیاتِ خوشدامن تک بے کفارہ دئے عورت کے پاس جانا بلکہ شہوت کے ساتھ ہاتھ لگانا بھی حرام ہوگیا، کفارہ ایک غلام آزاد کرنا، ار اس کی قدرت نہ تو دو مہینے کے لگاتارروزے، اس کی طاقت بھی نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کے مثل اناج یا اس کی قیمت دینا یا دونوں وقت پیٹ بھر کھانا کھلانا، جب تک ساس زندہ ہے بغیر کفارہ دئے عورت کو ہاتھ لگائے گا تو گنہگار ہوگا، تو بہ کرے، اور پھر نزدیک نہ ہو جب تک کفارہ نہ ادا کرلے، ہاں بعد انتقال خوشدامن ظہار جاتارہے گا، اور بے کفارہ عورت سے جماع حلال ہوجائے گا، پھر اگر ساس زندہ ہے اور یہ شخص کفارہ نہیں دیتا جس کے سبب عورت حلال ہوجائے تو منکوحہ اس پر دعوی کرسکتی ہے کہ یا تو کفارہ دے کر جماع کرے یا طلاق دے کہ عورت پر سے ضرر دفع ہو
فی تنویر الابصار فیحرم وطؤھا علیہ ودواعیہ حتی یکفر فان وطی قبلہ استغفر وکفر للظھار فقط ولایعود قبلھا۱؎الخ
تنویر الابصار میں ہے : ظہار کرنے والے پر بیوی سے وطی اور اس کے دواعی حرام ہوجاتے ہیں تا وقتیکہ وہ کفارہ دے، اگر اس نے کفارہ سے قبل وطی کرلی تو توبہ کرکے صرف ظہار کا کفارہ دے اور پھر کفارہ سے قبل ایسا نہ کرے الخ،
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار         باب الظہار         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۴۹)
وفیہ الکفارۃ تحریررقبۃ فان لم یجد صام شھرین متتا بعین قبل المسیس، فان عجز اطعم ستین مسکینا کالفطرۃ او قیمۃ ذٰلک وان غداھم و عشاھم جاز ۲؎اھ ملخصا،
اور اسی میں ہے ظہار میں کفارہ غلام کو آزاد کرنا ہے، اگر یہ نہ ہوسکے تو پھر وطی سے قبل دو ماہ کے روزے مسلسل پورے کرے، اگر یہ بھی نہ ہوسکے بلکہ عاجز ہوتو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے ہر مسکین کو صدقہ فطر کی مقدار دے یا اسکی قیمت دے ، اگر صبح وشام دو وقت کا کھانا پیٹ پھر کر کھلادے تو جائز ہے اھ ملخصاً،
 (۲؎ درمختار        باب الکفارۃ          مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۵۱۔۲۵۰)
وفی الدر لو قیدہ بوقت سقط بمضیہ ۳؎اھ فی ردالمحتار کفارۃ بحر۴؎اھ
اور درمختار میں ہے اگر ظہار کو کسی مقررہ وقت کے ساتھ مقید کیا ہو تو اس وقت کے گزرجانے پر ظہار ختم ہوجائیگااھ اس پر ردالمحتار میں ہے کہ اگر اس مقررہ وقت کے اندر جماع کرنا چاہے تو کفارہ دئے بغیر جائز نہیں بحر اھ
 (۳؎ درمختار             باب الظہار           مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۴۹)

(۴؎ ردالمحتار             باب الظہار        داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۵۷۶)
وفی الدر للمرأۃ ان تطالبہ بالوطی وعلی القاضی الزامہ بہ بالتکفیر دفعاللضرر عنھا بحبس او ضرب الی ان یکفر او یطلق ۵؎ اھ ملخصاً۔
اور درمختار میں ہے کہ ظہار میں بیوی کو جماع کے مطالبے کا حق ہے لہذا قاضی خاوند کو کفارہ ادا کرنے پو مجبور کرے تاکہ بیوی کے ضرر کا ازالہ ہوسکے یوں کہ قاضی اس کو قید کرے یا سزادے یہاں تک کہ خاوند کفارہ ادا کرے یا عورت کو طلاق دے اھ ملخصاً(ت)
 (۵؎ درمختار             باب الظہار      مطبع مجتبا ئی دہلی     ۱ /۲۴۹)
ظاہر ان لفظوں سے یہی نیت تحریم و ظہار ہوتی ہے خصوصاً جبکہ ایک وقت تک اسے محدود کردیا کہ تیری حیات تک ایسا سمجھتا ہوں، اس کا حکم وہ تھا اور شاید اس نے یہ الفاظ بارادہ طلاق کہے تھے تو ظاہراً ایک طلاق بائن ہوکر عورت نکاح سے نکل گئی کسی حد تک محدود کرکے طلاق دینا بھی طلاق دائم ہے اور وہ حد نامعتبرعہ
عہ: مسودہ میں بیاض ہے۱۲
واما''الحسبان'' ففی مثل الکلام انما یرادبہ التحقیق للتشبیہ لانفیہ عن نفس الامر کمن اراد الامتناع عن تناول شئی یقول احسبہ علی کالخنزیر فانما یرید انہ محرم علیہ کمثلہ، بخلاف مااذا قیل لہ اطلقت امرأتک فقال عدھا او احسبھا مطلقۃ حیث لایقع وان نوی وکذااحسبی انک طالق۱؎کمافی الخانیۃ فانہ ظاہر فی نفی الطلاق فی نفس الامروالفرق بینھما لایخفی علی من عرف العرف فافھم واعلم۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
''سمجھنا اور خیال کرنا'' اگر ایسے کلام میں ہوتو اس سے تشبیہ کو ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے اور واقع سے اس کا انتفاء مراد نہیں ہوتا، جس طرح کوئی شخص کسی چیز کو لینے سے  انکار کرتے ہوئے کہے کہ اس کو میں اپنے لئے خنزیر سمجھتا ہوں تو اس سے اس چیز کا اس پر قطعاً حرام ہونا مراد ہوتا ہے جس طرح خنزیر حرام ہے، اس کے برخلاف طلاق کے معاملہ میں جب کوئی پوچھے کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے، تو جواب میں یوں کہے''تو طلاق شمار کرلے، یا کہے تو اس کو مطلقہ خیال کرلے'' تو یہاں طلاق نہ ہوگی اگرچہ وہ طلاق کی نیت سے کہے اور یوں ہی حکم ہے اگر بیوی کو کہے کہ تو اپنے آپ کو طلاق والی سمجھ لے، جیسا کہ خانیہ میں مذکور ہے، کیونکہ یہاں یہ الفاظ ظاہری طور پر طلاق کے وقوع میں نفی پر دلالت کرتے ہیں اور دونوں مقاموں میں ان الفاظ کا فرق عرف کو جاننے والے پر مخفی نہیں ہے، سمجھو اور غور کرو۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 ( ۱؎ فتاوی قاضی خاں         کتاب الطلاق    نولکشور لکھنؤ     ۲/۲۱۰)
اور اگر کچھ نیت نہ تھی یا اعزازواکرام خواہ الفت ومحبت کی نیت تھی یعنی اپنی بہن کے برابر عزیز یا پیاری جانتا ہوں تو یہ الفاظ لغو و فضول ہیں عورت بدستور عورت اور کفارہ وغیرہ کچھ دینا نہیں مگر اگر اس وقت کی گفتگو وحالت شاہد ہو کہ یہ الفاظ اس نے بلانیت یا بہ نیت اعزاز و محبت نہ کہے تھے تو حاکم اس دعوے کو نہ مانے گا تو عورت اسے قبول کرسکتی ہے،
فان المرأۃ کالقاضی کما فی الفتح وغیرہ۲؎،
کیونکہ عورت اس معاملہ میں قاضی کا حکم رکھتی ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے،
 (۲؎ ردالمحتار             باب الکنایات     داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۸)
وفی الدرالمختار ان نوی بانت علی مثل امی اوکامی وکذالو حذف''علیّ'' خانیۃ، برااوظھارااوطلاقا صحت نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ والاینو شیأ او حذف الکاف لغا وتعین الادنی ای البر یعنی الکرامۃ۱؎اھ
اور درمختار میں ہے اگر بیوی کویوں کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی مثل یا میری ماں کی طرح ہے، اور یونہی اگر''علیّ'' (مجھ پر) کا لفظ حذف کرکے کہا ہو، خانیہ۔ ان الفاظ سے اگرتعظیم زوجہ یا طلاق یا ظہار کی نیت کی ہوتو اس کی نیت صحیح ہوگی اور نیت کے مطابق حکم ہوگا کیونکہ یہ کنایہ ہے(لہذا اگر خاوند نے طلاق کی نیت کی ہوتو طلاق بائنہ ہوگی) اور اگرکوئی نیت نہ کی ہو یا حرف تشبیہ کو ترک کردیا ہوتو یہ کلام لغو ہوکر احتمالات میں سے ادنی احتمال یعنی عزت وکرامت متعین قرار پائے گا اھ،
(۱؎ درمختار         باب اظہار         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۴۹)
وفی الھندیۃ عن الخانیۃ وان نوی التحریم اختلفت الروایات فیہ والصحیح انہ یکون ظہار عند الکل ۲؎اھ
اور ہندیہ میں خانیہ سے منقول ہے کہ اگر حرام کرنا مراد ہو تو اس میں روایات مختلف ہیں اور صحیح یہی ہے کہ سب کے ہاں ظہار ہوگا اھ،
 (۲؎ فتاوی ہندیہ     الباب التاسع فی الظہار    نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۵۰۷)
وفی ردالمحتار  عن العلامۃ خیر الدین الرملی وینبغی ان لایصدق قضاء  فی ارادۃ البراذاکان فی حالۃ المشاجرۃ و ذکر الطلاق۳ ؂اھ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے منقول ہے: مناسب ہوگا کہ اس صورت میں کرامت وعزت والااحتمال مراد لینے کی قضاءً تصدیق نہ کی جائے جبکہ لڑائی جھگڑے اور طلاق کے مذاکرہ کے وقت یہ الفاظ کہے ہوں اھ، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ ردالمحتار         باب الظہار         داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۷۶)
Flag Counter