| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۴۳: از کلکتہ امام باغ لین نمبر۴۱ مسجدمرسلہ حافظ عزیز الرحمان صاحب ۲۹جمادی الآخرہ ۱۳۱۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص طلاق کے معنی و مطالب سے آگاہ نہ ہو اور وہ بالعوض طلاق بائن کے اپنی زوجہ سے یوں کہے کہ تو ماں ہے میری، اور اس کو مطلقہ لوگوں میں مشہور کرے اور اپنے اوپر حرام سمجھے تو آیا اس شخص کی زوجہ مطلقہ ہوگی یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب عورت کو یوں کہنے سے کہ تو اس شخص کی ماں بہن یا بیٹی ہے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیت طلاق کہے، ردالمحتار میں ہے:
انت امی بلاتشبیہ فانہ باطل وان نوی۱؎۔
اگر تشبیہ کے بغیر''تو میری ماں ہے'' کہا تو یہ باطل ہے اگرچہ طلاق کی نیت سے کہے(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۷۴)
لوگوں میں اسے مشہور کرنا اور اپنے اوپر حرام سمجھنا اگر انہیں لفظوں کی بناء پر تھا تو عنداﷲ یہ بھی محض باطل کہ بربنائے غلط فہمی تھا، اسی طرح اگر اس کے بیان سے ظاہر تھا کہ یہ اقرار طلاق انہیں الفاظ کی بناء پر ہے تو عند الناس بھی طلاق نہ ہوئی، ہاں اگر بیان و قرائن سے یہ امر ظاہر نہ ہو تو مطلقہ مشہور کرنے سے عندالناس اس پر طلاق مانی جائے گی اپنے اقرار پر ماخوذ ہوگا۔ فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل طلق امرأتہ وھو صاحب برسام فلما صح قال قد طلقت امرأتی، ثم قال انی کنت اظن ان الطلاق فی تلک الحالۃ کان واقعا، قال مشائخنا رحمھم اﷲ تعالٰی حین مااقر بالطلاق ان ردہ الی حالۃ البرسام وقال قد طلقت امرأتی فی حالۃ البرسام فالطلاق غیر واقع وان لم یرد الی حالۃ البرسام فھو ما خوذبذٰلک قضاء۲؎۔
کسی نے مرض برسام کی حالت میں بیوی کو طلاق دی جب تندرست ہوا تو اس نے طلاق کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ میرا گمان تھا کہ اس مرض کی وجہ سے طلاق ہوجاتی ہے، تو ہمارے مشائخ نے فرمایا کہ اقرار طلاق کے وقت اگراس نے طلاق کو مرض برسام کی طر ف منسوب کیا اور کہا میں نے اپنی عورت کو برسام کی حالت میں طلاق دی ہے تو طلاق نہ ہوگی اور اگر اس وقت اس نے طلاق کو مرض برسام کی طرف منسوب نہ کیا، تو قضاءً طلاق ہوجائے گی۔(ت)
(۲؎ فتاوی قاضی خاں کتاب الطلاق نولکشور لکھنؤ ۲ /۲۱۳)
اسی میں ہے:
صبی قال ان شربت فکل امرأۃ اتزوجھا فھی طالق فشرب وھو صبی، فتزوج وھو بالغ وظن صھرہ ان الطلاق واقع، فقال ھذا البالغ آرے حرام است برمن قالواھذا اقرار منہ بالحرمۃ فتحرم امرأتہ وھو الصحیح لانہ ما اقربا لحرمۃ ابتداء وانما اقر بالسبب الذی تصادقا علیہ وذٰلک السبب باطل۱؎، انتہی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایک نابالغ بچے نے کہا اگر میں نوش کروں تو جس عورت سے بھی میں نکاح کروں اس کو طلاق ہےاس کے بعد اس نے نابالغی میں نوش کرلیا پھر اس نے بالغ ہونے پر نکاح کیا اور اس کے سسرال نے گمان کیا کہ اس کہنے پر طلاق ہوگئی، اس پر اس لڑکے بالغ نے کہا ہاں بیوی مجھ پر حرام ہے، تو فقہاء نے فرمایا چونکہ لڑکے نے حرام ہونے کا اقرار کیا ہے لہذا اس کی بیوی اس پر ابتداءً حرام ہوگئی، اور بعض نے فرمایا کہ حرام نہ ہوگی، اور یہی صحیح ہے کیونکہ اس نے ابتداء حرام ہونے کا اقرار نہیں کیا بلکہ سسرال کی بات پر اس نے یہ کہا ہے، اور سسرال والوں کے کہنے کا سبب بچپن کی بات ہے جوکہ باطل ہے کیونکہ نابالغ کی طلاق نہیں ہوتی انتہی، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ فتاوی قاضی خاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ۲ /۲۳۵)