مگر اس سے نہ نکاح میں خلل آئے نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہو، درمختار میں ہے:
الاینو شیئا او حذف الکاف لغا وتعین الادنیٰ ای البر یعنی الکرامۃ ویکرہ قولہ انت امی ویاابنتی ویااختی ونحوہ۲؎۔
اگر کوئی نیت نہ کی یا حرف تشبیہ (کاف) کو ذکر نہ کیا ہوتو یہ نیت لغوہے اور احتمالات میں سے ادنیٰ احتمال یعنی عزت وکرامت متعین ہوگا اور یہ کہنا کہ تو میری ماں ہے یا میری بیٹی ہے یا میری بہن ہے یا اس کی مثل الفاظ، مکروہ ہیں۔(ت)
(۲؎ درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۴۹)
قولہ حذف الکاف بان قال انت امی ومن بعض الظن جعلہ من باب زید اسد در منتقی عن القہستانی قلت ویدل علیہ مانذکرہ عن الفتح من انہ لابد من التصریح بالاداۃ۳؎۔
قولہ کاف تشبیہ کو حذف کرنا مثلاً یوں کہتا ہے تو میری ماں ہے نہ کہ جیسے بعض نے گمان کیا کہ" زید اسد"کی طرح حرف تشبیہ کو محذوف ماناجائے، اور تشبیہ بلیغ ہے جیسا کہ درمنتقی میں قہستانی سے منقول ہے قلت میں کہتا ہوں کہ حرف تشبیہ کے بغیر ہونے پر دلیل وہ ہے جو ہم عنقریب فتح سے نقل کریں گے کہ ظہار کےلئے حرف تشبیہ کا ذکر ضروری ہے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۵۷۷)
انت امی بلاتشبیہ فانہ باطل وان نوی۴؎۔
حرف تشبیہ کے بغیر''تومیری ماں ہے'' کہنا اگرچہ طلاق کی نیت سے کہا باطل ہے۔(ت)
(۴؎ ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۷۴)
ہاں اگر یوں کہا ہو کہ تو مثل یا مانند یا بجائے ماں بہن کے ہے تو اگر بہ نیت طلاق کہا تو ایک طلاق بائن ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی اور بہ نیت ظہار یا تحریم کہا یعنی یہ مراد ہے کہ مثل ماں بہن کے مجھ پر حرام ہے تو ظہار ہوگیا اب جب تک کفارہ نہ دے لے عورت سے جماع کرنا یا شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لینا یا بنظر شہوت اس کے کسی بدن کو چھونا یا بنگاہِ شہوت اس کی شرمگاہ دیکھنا سب حرام ہوگیا،اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ جماع سے پہلے ایک غلام آزاد کرے، اسکی طاقت نہ ہوتو لگاتار دو مہینہ کے روزے رکھے، اس کی بھی قوت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی طرح اناج یا کھانا دے
کما امربہ المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی فی القراٰن العظیم
(جیسا کہ اﷲ سبحانہ وتعالٰی نے قرآن عظیم میں حکم فرمایا ہے۔ت) اور اگر ان میں سے کوئی نیت نہ تھی تو یہ لفظ بھی لغو ومہمل ہوگا جس سے طلاق یا کفارہ وغیرہ کچھ لازم نہ آئے گا۔
ان نوی بانت علیّ مثل امی وکامی وکذا لوحذف ''علیّ'' خانیۃ ،برا اوظہارا اوطلاقا صحت نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ والالغا۔۱؎
اگر (طلاق کی) نیت کرے گا تو بیوی بائنہ ہوجائیگی، جب یوں کہے تو مجھ پر میری ماں کی مثل یا ماں کی طرح ہے، یاحرف علیّ(مجھ پر) کو حذف کرکے کہے، خانیہ۔ ان الفاظ سے کرامت زوجہ یا ظہار یا طلاق کی نیت کرے تو اس کی نیت صحیح ہوگی جو بھی نیت کرے وہی حکم ہوگا کیونکہ یہ کنایہ ہے اور اگر کوئی نیت نہ کی ہوتو یہ بات لغو ہوگی۔(ت)
( ۱؎ درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۴۹)
ان نوی التحریم اختلف الروایات فیہ والصحیح انہ یکون ظہارا عند الکل۲؎، واﷲ تعالٰی سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اگر اس سے صرف تحریم کی نیت کی تو اس میں روایات مختلف ہیں، صحیح یہ ہے کہ سب کے نزدیک ظہار ہوگا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی الظہار نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۰۷)