Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
41 - 175
بالجملہ زید اگر اقرار نیت طلاق کند طلاق بود ورنہ بہر حال در چشم قاضی ظہارباشد ودیگر ہیچ وزن دریں کار بمشابہ قاضی است لاشتراکھما کسائر الخلق فی قصر النظر علی الظہار واﷲ سبحنہ یتولی السرائرپس حمرا گر بگوشِ خود شنیدیا مرد عادل وثقہ اوراخبر رسانید کہ شوہرش ایں چنیں چانہ زدہ است ناچار خویشتن رازن مظاہر داند وتن بجماع در ند ہد و زید را بشہوت بوسہ چیدن ودر بر کشیدن ودست رسانیدن وشرمگاہ دیدن نگزار د نظر برفرج بے شہوت یا ہر غیر فرج اگرچہ سینہ وشکم اگرچہ بشہوت باکے نیست کما مرعن ردالمحتار پس اگر زید کفارہ ندہد وحمرا راازقصد جماع ودواعی جماع معاف نہ دارد وحمرا ہر چوں کہ تو اند خویشتن را از دست عہ اویعنی بعوض مہر خواہ ببدل مال دیگر طلاق از دستاند اگر بیند کہ طلاق ہم نمی دہد بپائے کہ دارد از خانہ گریزد وبحاکم رجوع آرد تا اورابالجبر بحبس وضرب بریکے از دو کار دارد
فامساک بمعروف او تسریح باحسان۱؎
کفارہ دہد یا طلاق وقد حرم علیہ ربہ ان یذرھا کالمعلقۃ
عہ : مسودہ میں بیاض ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ، زید اگر طلاق کا اقرار کرلے تو طلاق ہے ورنہ بہر حال قاضی کی نگاہ میں ظہار ہے اور کوئی بھی خواہ بیوی ہو وہ قاضی کی موافقت کرے گا کیونکہ وہ سب عام لوگوں کی طرح ظہار ہی سمجھیں گے، اور اﷲ تعالٰی ہی باطنی امور کا مالک ہے، پھر اگر حمرا نے اپنے کانوں سے سنا یا کسی عادل اور ثقہ آدمی نے اس کو اطلاع دی کہ اس کے خاوند نے یوں بات کی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو ظہار کی ہوئی سمجھے اور اپنے آپ کو زید سے جماع اور شہوت کے ساتھ اس کو ہاتھ لگانے، بوس وکنار کرنے اور شرمگاہ کو بنظر شہوت دیکھنے سے محفوظ رکھے، لیکن بغیر شہوت شرمگاہ یا کسی عضو کو مثلاً چھاتی، پیٹ اگرچہ شہوت سے چھوئے تو کوئی حرج نہیں جیسا کہ ردالمحتار کے حوالہ سے بیان گزرا ہے، پس اگر زید کفارہ نہ دے اور اس دوران حمرا سے جماع یا دواعی جماع کے متعلق باز نہ آئے تو پھر خود حمرا کو چاہئے کہ اپنے آپ کو اس کے قبضہ سے کسی مال کے عوض خواہ مہر کے بدلے طلاق حاصل کرے اور اگر طلاق نہ دے تو پھر جس طرح ممکن ہو اس کے گھر سے جدا رہے اور حاکمِ وقت سے شکایت کرے تاکہ وہ جبراً اس کو باز رکھنے کےلئے قید کرے یاسزا دے اور دو کاموں میں سے ایک پر اس کو مجبور کرے کہ رکھنا ہوتو شریعت کے مطابق رکھے ورنہ اس کو آزادکردے، یعنی کفارے یا طلاق پر مجبور کرے ان دو صورتوں کے بغیر کہ اس کو معلق چھوڑدے اﷲ تعالٰی نے حرام قرار دیا ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۲۹)
درردالمحتار فرمود المرأۃ کالقاضی اذا سمعتہ او اخبرھا عدل لایحل لھا تمکینہ والفتوی علی انہ لیس لھا قتلہ ولاتقتل نفسھا بل تفدی نفسھا بمال او تھرب، وفی البزازیۃ عن الاوزجندی انھا ترفع الامر للقاضی فان حلف ولابینۃ لھا فالاثم علیہ اھ قلت ای اذالم تقدر علی الفداء او الھرب ولاعلی منعہ عنھا فلاینافی ماقبلہ ۱؎اھ باختصار،
ردالمحتار میں ہے: جب عورت خود سن لے یا ثقہ عادل شخص اس کو مطلع کردے تو پھر عورت کو حلال نہیں کہ وہ خاوند کو جماع کا موقعہ دے اور اس معاملہ میں فتوی اس پر ہے کہ عورت کو مرد کا قتل کرنا یا خود کشی کرنا جائز نہیں، بلکہ عورت مال کے بدلے اپنے آپ کو آزاد کرائے یا اس کے گھر سے دورہوجائے، اس معاملہ میں عورت خود فیصلہ کرنے میں قاضی کا حکم رکھتی ہے، اور بزازیہ میں اوزجندی سے منقول ہے کہ بیوی اپنے معاملہ کو قاضی کے ہاں پیش کرے، پھرعورت کے گواہ نہ ہونے کی صورت میں اگر خاوند قسم دے دے تو پھر گناہ خاوند پر ہے اھ، میں کہتا ہوں یہ جب ہے کہ عورت خود کو فدیہ دے کر یا بھاگ کر نہ بچا سکے اور نہ ہی اپنے آپ کو خاوند سے روک سکے، لہذا بزازیہ کا بیان پہلے کلام کے منافی نہ ہوگا اھ اختصاراً،
 (۱؎ ردالمحتار     باب الصریح         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۳)
دردرمختار ست للمرأۃ ان تطالبہ بالوطی لتعلق حقھا بہ، وعلیہا ان تمنعہ من الاستمتاع حتی یکفر، وعلی القاضی الزامہ بہ بالتکفیر دفعا للضرر عنھا بحبس او ضرب الی ان یکفر او یطلق۲؎،
درمختار میں ہے:عورت کو وطی کے مطالبہ کا حق ہے کیونکہ عورت کا حق وطی کے ساتھ متعلق ہے اور اس کے ساتھ عورت پر لازم ہے کہ وہ کفارہ کے بغیر خاوند کو جماع سے باز رکھے، اور قاضی پر لازم ہے کہ مردکو کفارہ دے کر عورت کے حقوق کی ادائیگی پر مجبور کرے تاکہ عورت کا ضرر ختم ہوسکے، وہ یوں کہ قاضی اس کو قید کرکے یا سزادے کر طلاق یاکفارہ پر مجبور کرسکتا ہے،
 (۲؎ درمختار     باب الظہار         مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۴۹)
آری اگر زید خبر دہد کہ من کفارہا ادا کردم وپیشتر ازیں معروف بکذب ودروغ گوئی نبودہ باشد آنگاہ حمرارا می رسد کہ سخنش باورکردہ بااو بہم آید واز جماع وغیرہ اباننماید اگر در واقع زید بہ نیت ظہار آں سخن گفتہ وہنوز کفارہ نہ دادہ بغلط اظہار نمودہ است تا گناہ برگردن اوست حمر ا از جرم یکسوست فی الدرالمختار فان قال کفرت صدق مالم یعرف بالکذب۳؎۔
ہاں اگر زید قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے ظہار کا کفارہ دے دیا ہے جبکہ زید قبل ازیں دروغ گوئی اور جھوٹ بولنے میں معروف و مشہور نہیں ہے تو اس صورت میں حمرا کو جائز ہے کہ وہ زید کی بات کو تسلیم کرکے جماع وغیرہ کا موقعہ دے دے اور انکار نہ کرے اور اگر فی الواقع زید نے ظہار کی نیت سے وہ کلام کیا تھا اور ابھی تک کفارہ ادا نہ کیا ہو اور غلط بیانی کرتا ہو کہ میں نے کفارہ ادا کردیا ہے تو پھر گناہ زید پر ہوگا حمرااس گناہ سے بری ہوگی۔ درمختار میں ہے: اگر خاوند کہے کہ میں نے کفارہ دے دیا ہے تو اس کی بات تسلیم کی جائے گی بشرطیکہ وہ اس سے قبل جھوٹ بولنے میں معروف نہ ہو۔(ت)
(۳؎ درمختار     باب الظہار         مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۴۹)
فقیر گویم آں چناں کہ ایں بدترین تدبیرے است مر کسے را کہ در واقع ظہار کردہ وکفارہ ندادہ غلط اخبار ہمچناں نیکو بدترے ست مر کسے را کہ معروف بکذب نیست وسخن مذکور بے نیت طلاق وظہار و تحریم برزبانش آمد وبوجہ دلالت حالے چنانکہ ایں جاست، قضاء دعوی ارادہ بر مقبول نیفتا دکہ اگر کفارہ ندہد زن بجماع تن نہ دہد واگر راضی شود آثمہ گردد واگر ایں کس کفارہ دہد مالے بے سبب از دست مے رود یا مشقت روزہ دو ماہہ بر سر آید زیرا کہ دیانۃً بوجہ عدم موجب کفارہ برولازم نبودہ است پس باید کہ بسوئے مولیٰ سبحٰنہ وتعالٰی از شناعت آں قول منکر توبہ آرد ایں توبہ کفارہ اش خواہد شد باز زن را گوید من کفارہ ادا کردم او کفارہ معلومہ ظہار پندارد ورضا بجماع دادن براورا روا گر ددایں ست تنقیح حکم بروجہ کافی واﷲ تعالٰی اعلم۔
میں فقیر کہتا ہوں کہ یہ بہت بری تدبیر ہے کہ فی الواقع کوئی شخص ظہار کرکے کفارہ نہ دے کر غلط خبر دے اس سے زیادہ بر اوہ شخص ہے جو معروف بکذب نہ ہو اور کہے کہ میں نے ظہار، طلاق اور تحریم کی نیت کے بغیر وہ کلام کی ہے دلالت حال کی بنا پر جس طرح کہ اس مسئولہ صورت میں ہے تو قاضی اس کے اس دعوی کو قبول نہ کرے گا اور اگر کفارہ نہ دیا ہوتو عورت کو لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو خاوند کے جماع سے دور رکھے، اور اگر وہ اس پر راضی ہوئی تو گنہگار ہوگی، اور اگر فی الواقع وہ شخص سچا ہے تو اس کفارہ میں مال دینا  یا دو ماہ کے روزوں کی مشقت برداشت کرنا بے مقصد ہے کیونکہ دیانۃً اس پر کفارہ دینا واجب نہیں ہے، تو اسے چاہئے کہ وہ اﷲ تعالٰی کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس لغو بات پر توبہ کرے اور بخشش طلب کرے یہ توبہ  اس کے گناہ کا کفارہ ہے تو اس کے بعد بیوی کو کہے کہ میں نے کفارہ دے دیا ہے اور بیوی اس کو کفارہ ظہار سمجھتے ہوئے جماع پر راضی ہوجائے تو جائز ہوگا، یہ اس مسئلہ کی تنقیح ہے جو کافی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
Flag Counter