| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
این ست تفصیل صورایں قول منکر زید باارادہ کہ داشت نیکو داناست وخدائے اودانا تر ازو، از خدائے ترسد وبہرارادہ کہ ایں سخن گفتہ باشد حکمش ازیں تفصیل برآرد براں کار بند واینہا حکم دیانت بودفاما قضاءدرمسئلہ دائرہ صورت آخرہ را گنجائش نیست طرز کلام وسیاق وسباق وحال آں وقت ہمہ گواہ عدل ست کہ زیدآن ہنگام از ارادہ برو کرامت حمرا بمراحل دو ربود وضابطہ کلیہ شرع ست کہ از محتملات سخن ہرچہ خلاف ظاہر باشد زنہار قضاء پذیر انیفتد خاصۃ کہ دراں تحفیفے باشد مرمدعی را ودر نظر تحقیق سقوط ایں احتمال موجب سقوط احتمال چہارم نیز ست زیرا کہ ہم از ضوابط شرع ست کہ تاتوانند کلام عاقل بالغ رامہمل نگزارند لما فیہ من الحاقہ بالبھائم وقد عقد لذٰلک فی الاشباہ والنظائر قاعدۃ مستقلۃآخر ندیدی کہ در مختار بحالت عدم نیت چوں کلام را لغو بمعنی غیر مثمرحکم کردند ہمچناں مہمل وبیمعنی نہ گزاشتند بلکہ برادنیٰ محتملات یعنی معنی بروکرامت فرود آوردند حیث قال والاینو شیأ لغاویتعین الادنی ای البر۱؎
یہ زید کے ناپسندیدہ قول کی تفصیل ہے اور وہ اپنی نیت کے متعلق بہتر جانتا ہے اوراﷲتعالٰی زیادہ بہتر جانتا ہے اس لئے نیت کے بیان میں وہ اﷲ تعالٰی کا خوف کرے، اس نے جو بات کی ہے اور جس ارادہ سے کی، اس تفصیلی حکم کے مطابق اس پر عمل کرے، یہ تمام بحث دیانۃً حکم کی تفصیل ہے لیکن قضاء اس کی اس بات میں آخری احتمال یعنی ماں جیسی عزت وکرامت والی، مراد لینا جائز نہ ہوگا، اس کی گنجائش، انداز کلام اور اس کے سیاق سباق اور حال کی وجہ سے نہیں ہوسکتی کینوکہ یہ تمام امور اس بات کی شہادت ہیں کہ یہاں وہ حمرا بیوی کو ماں جیسی عزت وکرامت دینے کے درپے نہیں ہے بلکہ یہ احتمال بعید ترہے،اور شریعت کا ضابطہ کلیہ ہے کہ کلام میں وہ احتمال ساقط قرار پائیگا جو ظاہر کے خلاف ہوگا، خصوصاً جبکہ وہ احتمال قائل کےلئے تخفیف کا باعث بھی ہو، اور تحقیق نظر میں اس احتمال کا یہاں ساقط قرار پانا احتمال چہارم یعنی نیت نہ ہونے پر لغو ہونا، کو بھی ساقط کردے گا، کیونکہ یہ بھی شرعی ضابطہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو عاقل بالغ کے کلام کو مہمل ہونے سے بچایا جائے، کیونکہ اس کی بات کو مہمل قرار دینا گویا اس کو حیوان قرار دینا ہے اشباہ ونظائر میں اس کے لئے مستقل قاعدہ بیان کیاگیا ہے، کیا آپ نے درمختار کو دیکھا نہیں کہ اس کلام میں کوئی بھی نیت نہ ہونے کو لغو بمعنیٰ غیر ثمر آور قرار دیتے ہوئے یونہی مہمل اور بے معنی قرار نہ دیا بلکہ اس کو ادنیٰ احتمال قرار دے کر عزت وکرامت کے معنیٰ پر محمول کیا__________ اور یوں کہا اگر کوئی نیت نہ کی تو لغو ہو کر ادنیٰ معنیٰ متعین قرار پائیگا، یعنی عزت وکرامت مراد ہوگا،
(۱؎ درمختار باب الظہار مطبع متجبائی دہلی ۱ /۲۴۹)
ایں جاچوں معنی بررابار نیست چنانکہ شنیدی لاجرم برادنی البواقی کہ ظہار وتحریم ست تنزیل کردہ آید، وخود چہ گونہ گو ارائے عقل سلیم باشد کہ زید بکرات ومرات درجواب ہندہ وبخطاب مرد ماں ایں کلام گوید وہیچ گاہ ارادہ ہیچ معنی بدل ندارد بلکہ ہمچناں بے قصد معنے در رنگ ہذیان برزبان آرد ہیچ احتمالے بعید تر ازیں احتمال می شناسی باز ہنگام استفسار سپید وآشکار اقرار مے کند کہ واقعی ہمخوابہ خود را برابر مادر خواہر نہادہ ام ونمی گوید کہ بفضولے سخنے بیمعنے بے نیت وقصدے بر د ادہ ام، لاجرم قضاءً از اں پنج صور ہمیں سہ صورت پیشین را مساغ ست پس اگر زید اعتراف بہ نیت یکے از انہا کند حکمش پیدا ست ورنہ انکارش قضاء نا مسموع وحمل بریکے ازانہا لازم فاما طلاق کہ اعلیٰ وابعد ست وہیچ دلیلے براں نے از میاں رود، وظہار یا مجرد تحریم کہ حاصل ہر دو یکبست باقی ماند، واگر نیکو بنگری ملاحظہ حال عوام ہمیں معنی تحریم را متعین میکند اگر تفتیش ہمانا بینی کہ جزیں معنی ایں کلام را در ذہن ایشاں کمتر محملے بودہ باشد۔
جب یہاں عزت و کرامت والامعنیٰ نہیں بن سکتا جیساکہ آپ سن چکے تو باقی پہلے تین احتمالات میں ادنیٰ معنیٰ مراد ہوگا، جو کہ ظہار یا تحریم ہے، زید چونکہ کئی مرتبہ ہندہ کے جواب میں اور لوگوں سے خطاب میں یہ بات کہہ چکا ہے تو عقل سلیم کیسے یہ گوارا کرلے کہ اس نے یہ بات بغیر نیت اور کوئی معنیٰ مراد لئے بغیر بطور ہذیان زبان سے کہہ دی ہے، تو اس احتمال سے بعید اور کوئی احتمال نہیں ہوسکتا۔ پھر زید نے استفسار کرنے پر واضح طور پر اقرارکیا ہے کہ واقعی میں نے اپنی بیوی کو ماں اور بہن کے بر ابر قرار دیا ہے اور یہ نہیں کہا کہ میں نے فضول اور بے معنیٰ بات کی ہے، تو لازم طور پر قضاء پانچ مذکورہ صورتوں میں سے پہلی تین صورتوں کو ہی متعین کیا جائے، لہذا اگر زید ان تین میں سے کسی ایک کے ارادہ کرنے کا اعتراف کرے تو وہ حکم اس پر نافذ ہوجائے گا، ورنہ ان سب سے انکار قضاءً قابل قبول نہ ہوگا، بلکہ کسی ایک احتمال پر کرنا ضروری ہوگا،ان میں طلاق کا احتمال تو آخری بات ہے اور بعید ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے تو ظہار یا تحریم جن دونوں کا حاصل ایک ہی ہے باقی رہ جاتے ہیں، اور قاضی اگر بہتر سمجھے تو عوام کے حال کو ملاحظہ کرتے ہوئے تحریم والامعنیٰ متعین قرار دے گا کیونکہ غور کرنے سے معلوم ہوجائے گا عوام اس لفظ سے تحریم سے کم معنی مراد نہیں لیتے اور کم از کم یہی مراد ہوتا ہے۔(ت)