فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
4 - 175
جواب سوال سوم: دوسری کو مگر انہیں شرائط سے جوجواب اول میں گزریں کہ پہلاوہ نکاح جو بعد نکاح ہندہ بحیات ہندہ اگرچہ بعد افتراق ہندہ بے اجازت ہندہ کسی عورت سے کرے گا اس عورت کو طلاق ہوگی، اصل یہ ہے کہ یہ لفظ کہ''تو میرا نکاح باطل" مجمل ومحتمل تھا کہ اس میں بیان نہ کیا کہ کون نکاح باطل، اگر بعد نکاح ہندہ یہ الفاظ کہتا یاقبل نکاح یوں کہا ہوتا کہ اگر ہندہ سے نکاح کروں اور اس کے بعد کسی عورت سے بے اس کی اجازت کے نکاح ثانی کروں تو میرا نکاح باطل، تو اسے اختیار تھا کہ زوجہ اولیٰ یا ثانیہ جس کی طرف چاہے پھیردے کہ دونوں اس تعلیق تطلیق کی صالح تھیں،
الاولی لتحقق الملک وفی الاخری کا لاخری فیھما لحصول الاضافۃ۔
پہلی کو اس لئے کہ وہ ملکیت نکاح میں ہے اور دوسری کے لئے اسکےلئے کہ یہ پہلی کے بعد دوسری ہے اور اضافت نکاح موجود ہے(ت)
فتح القدیر پھر ہندیہ میں ہے:
لوقال لامرأۃ ان تزوجت علیک ماعشت فالطلاق علی واجب ثم تزوج علیھا تقع تطلیقۃ علٰی واحدۃ منھما یصرفھا الی ایتھما شاء ۲؎اھ ملخصاً۔
اگر کسی عورت کوکہا''جب تک تو زندہ ہے تجھ پر نکاح کروں تو مجھ پر طلاق واجب ہے'' اس کے بعد خاوند نے اس پر دوسرا نکاح کرلیا تو یہ طلاق ان بیویوں میں سے ایک پر پڑجائے گی، دونوں میں سے جس کی طرف چاہے طلاق کو پھیردے اھ ملخصاً(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ فصل الثالث فی تعلیق الطلاق الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۴۲۶)
(فتاوٰی قاضیخاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۳۷)
یہاں کہ قبل نکاحِ ہندہ یہ لفظ کہا اور اس میں نکاحِ ہندہ کی طرف وہ اضافت بھی نہیں جو یہاں کام دے یعنی صریح الفاظِ شرط کہ زنِ معینہ میں اسی کی حاجت ہے معنی شرط کافی نہیں،
کما فی الفتح وغیرہ قال فی الدر یکفی معنی الشرط الّا فی المعینۃ باسم او نسب او اشارۃ الخ۱؎۔
جس طرح فتح وغیرہ میں ہے، در میں کہا کہ شرط کا معنی کافی ہے ماسوائے نام یا نسب یا اشارہ کے ساتھ معین کردہ عورت کے۔(ت)
(۱؎ درمختار با ب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۳۰)
غرضیکہ صرف نکاح ثانیہ کی طرف اضافت اورصحت تعلیق کئے سے وجود ملک یا اضافت بملک لازم تو ہندہ اس تعلیق کی اصلاً محل نہیں، لاجرم زوجہ ثانیہ متعین ہوگئی، بالجملہ ہندہ اس تعلیق میں اجنبیہ محض ہے بخلاف ثانیہ، تو اجنبیہ کی طرف پھیرنے کی کوئی راہ نہیں،
لما فیہ من اھمال الکلام ھو محترز عنہ مھما امکن اعمالہ۔
کیونکہ اس میں کلام کو مہمل بنانا لازم آتاہے جبکہ اس سے حتی الامکان بچنا ہوتا ہے(ت)
یہ تو ایسا ہو اجیسے اپنی عورت اور ایک اجنبیہ کو ملاکر کہا میں نے تم دونوں میں سے ایک کو طلاق دی خواہی نخواہی اس کی عورت ہی پرطلاق پڑے گی اجنبیہ کی طرف پھیرنے کا اختیار نہ دیا جائے گا کہ اسے طلاق دینا اس کے قابو میں نہ تھا،
فی الھندیۃ لوضم الٰی امرأتہ امرأۃ اجنبیۃ وقال احدٰکما طالق او قال ھذہ طالق او ھذہ لاتطلق امرأتہ الا بالنیۃ لان الاجنبیۃ محل لذٰلک خبراو ان لم تکن محلا لہ انشاء وھذہ الصیغۃ بحقیقتھا اخبار ولو قال فی ھذہ الصورۃ طلقت احدٰکما طلقت امرأتہ من غیرنیۃ ذکرہ فی طلاق الاصل ۲؎اھ
ہندیہ میں ہے : اگر خاوند نے اپنی بیوی کے ساتھ اجنبی عورت کو ملا کر کہا تم دونوں میں سے ایک کو طلاق، یایوں کہا اس کو یا اس کو طلاق ہے، تو اس کی بیوی کو بغیر نیت کئے طلاق نہ ہوگی، کیونکہ اجنبی عورت اگرچہ انشاءِ طلاق کے محل نہیں لیکن طلاق کی خبر وحکایت کا محل ہے جبکہ خاوند کا کلام حقیقۃ خبر ہے، ہاں اگر یوں کہے میں نے تم دونوں میں سے ایک کو طلاق دی، تو بیوی کو نیت کے بغیر طلاق ہوجائے گی، اس کو مبسوط کے طلاق میں ذکرکیا ہے اھ،
وانت تعلم ان التعلیق انشاء التعلیق وان الاولی لیست محلالہ لترک الاضافۃ فوجب الصرف الی المحل لابقاء العمل وھذا کلہ واضح جدا، واﷲتعالٰی اعلم۔
آپ کو معلوم ہے کہ معلق کرنا، تعلیق کا انشاء ہے، جبکہ اجنبیہ اسکا محل نہیں کیونکہ وہ نہ نکاح میں ہے اور نہ اس سے نکاح کی طرف نسبت ہے اس لئے محل کی طرف پھیرنا ضروری ہے تاکہ کلام بامقصد بن سکے، اور یہ تمام خوب واضح ہے، واﷲتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے بعوض ہزار روپیہ کےنکاح کیا اور قبل نکاح درمیان نکاح کے یہ شرط کی کہ نصف مہر یعنی پانسو روپیہ اگر عند الطلب زوجہ ادا نہ کروں تو ہند ہ پرتین طلاقیں ہیں، پس نکاح کے بعد ہندہ مذکور نے روپیہ طلب کیا زید نے روپیہ مذکورہ اس وقت ادا نہ کیا اور شرط مذکورہ ایجاب میں ہوا تھا اور ایجاب جانب عورت سے اور قبول جانب مرد سے، اب اس صورت میں ہندہ پر طلاق واقع ہوگی یانہیں؟
الجواب
صورتِ مستفسرہ میں ہندہ پر تین طلاقیں ہوگئیں،
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
تزوج علٰی انھا طالق ذکر محمد رحمہ اﷲتعالٰی انہ یجوز النکاح والطلاق باطل قال الفقیہ ابواللیث رحمہ اﷲتعالٰی ھذا اذاابدأ الزوج فقال تزوجتک علٰی انک طالق وان ابتدأت المرأۃ فقالت زوجت نفسی منک علی انی طالق فقال زوجت نفسی منک علی انی طالق فقال قبلت جازالنکاح ویقع الطلاق الخ۱؎واﷲتعالٰی اعلم۔
مرد نے کہا میں تجھ سے اس شرط پر نکاح کرتا ہوں کہ تجھے طلاق ہے، امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا تو نکاح صحیح اور طلاق باطل ہوگی، فقیہ ابولیث رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا یہ جب ہے کہ یہ بات خاوند پہلے کہے، اگر عورت نے ابتداء کرتے ہوئے یوں کہا''میں نے اپنے آپ کو تیرے نکاح میں اس شرط پر دیا کہ مجھے طلاق ہو، تو خاوند کے قبول کرنے پر نکاح صحیح ہوکر طلاق ہوجائے گی الخ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں فصل فی النکاح علی الشرط نولکشور لکھنؤ ۱ /۱۵۲)
مسئلہ۶: از مدراس محلہ جمکنڈی مسیت مکہ مرسلہ مولوی عبد الرزاق صاحب ۷ محرم ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص حنفی نے یمین مضاف کی ہواس طرح پر کہ اگرمیں تجھ سے نکاح کروں تو طلاق ہے وطلاق ہے وطلاق ہے، آیا اس کو تقلید مذہب شافعی کی جائز ہے تاکہ وطی اس عورت کی بلاتردد ہوجائے کیونکہ عند الشافعی یمین مضاف میں طلاق نہیں واقع ہوتی،
کمافی الدرالمختار فی المجتبی عن محمد فی المضافۃ لایقع وبہ افتی ائمۃ خوارزم انتہی وھو قول الشافعی۱؎
جیسا کہ درمختا رمیں ہے کہ مجتبی میں امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی سے مروی ہے کہ جس عورت کے نکاح سے کوئی شرط منسوب کی جائے تو طلاق نہ ہوگی، اسی پر ائمہ خورازم کا فتوٰی ہے اھ، یہی امام شافعی رحمہ اﷲتعالٰی کا قول ہے یانہیں۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۳۱)
الجواب
ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲعنہم کا اجماع ہے کہ یمین مضاف منعقد ہے اور ایسی صورت میں نکاح کرتے ہی فوراً طلاق بائن ہوجائے گی، وُہ روایت ضعیفہ کہ مجتبٰی میں امام محمد رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ سے جس کا پانا بیان کیا قطع نظر اس سے کہ زاہدی چنداں موثوق فی النقل نہیں وہ خود بھی اس کے ضعف کا معترف ایسی روایات شاذہ ساقطہ پر فتوٰی دینا جائز نہیں، ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں کہ نہ مفتی کو اس روایت پرافتا کی مجال، نہ کسی کو اس پر عمل حلال۔ درمختار میں عبارت منقولہ سائل کے بعد ہے:
ھذا یعلم ولایفتی بہ۲؎
(اس کو معلوم کرلیاجائے لیکن اس پر فتوٰی نہ دیا جائے۔ت)
بزازیہ میں ہے اورصدر سے مروی ہے میں کہتا ہوں کہ کسی کو یہ کام حلال نہیں، اورحلوانی نے فرمایا معلوم کرلیا جائے لیکن اس پر فتوٰی نہ دیا جائے تاکہ جاہل لوگ مذہب کے خلاف نہ مصروف ہوجائیں اھ بحر۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب التعلیق الطباعۃ المصریۃ بمصر ۲ /۴۹۶)
اُسی میں ہے:
فلیس للمفتی الافتاء بالروایۃ الضعیفۃ وکونھا افتی بھا کثیر من ائمۃ خوارزم لاینفی ضعفھا ولذاتقدم عن الصدر انہ لایحل لاحدان یفعل ذٰلک وکذا ماتقدم عن الحلوانی من انہ یعلم ولایفتی بہ فلو تثبت ھذہ الروایۃ عن محمد وکانت صحیحۃ لبنوا الحکم علیھا ولم یحتاجوا الی بنائہ علی مذھب الشافعی فھذا یدل علی انھا روایۃ شاذۃ کما یشیر الیہ کلام المجتبٰی المار۱؎۔
مفتی کو ضعیف روایت اختیار نہیں کرنی چاہئے، اور ائمہ خوارزم کا اس پر فتوٰی اس کے ضعف کو ختم نہیں کرسکتا، اسی لئے صدر سے منقول گزرا کہ کسی کو یہ کام حلال نہیں، اور یوں ہی علامہ حلوانی سے منقول گزرا کہ اس کو جان لیاجائے مگر فتوٰی نہ دیا جائے، تو اگر یہ بات امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی سے صحیح ثابت ہو تو پھر چاہئے تھا کہ اس قول محمد رحمہ اﷲتعالٰی کو مبنیٰ حکم بناتے اور امام شافعی کے قول کے محتاج نہ ہوتے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ روایت شاذ ہے جیسا کہ اس پر گزشتہ مجتبی کا کلام اشارہ کررہا ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التعلیق الطباعۃ المصریۃ بمصر ۲ /۴۹۷)
پھر اگر مخلص چاہے تو کچھ تقلید امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حاجت نہیں، خو داپنے مذہب میں مخلص موجود ہے مثلاً صورتِ مستفسرہ میں اس عورت سے نکاح کرلے، نکاح کرتے ہی طلاق پڑجائے گی، اور ازانجاکہ عورت غیر مدخولہ ہے اور اس نے تین طلاقیں بتفریق ذکر کی ہیں کہ طلاق ہے وطلاق ہے وطلاق ہے لہذا ایک ہی واقع ہوگی،
فی الدرالمختار وان فرق بوصف او خبر اوجمل بعطف اوغیرہ بانت بالاولی لاالی عدّۃ ولذالم تقع الثانیۃ بخلاف الموطوۃ حیث یقع الکل۔۲؎
درمختار میں ہے: اگر طلاق کو متفرق وصف یا خبریا حکم کے ساتھ متفرق کرے خواہ عطف کے ذریعہ یا بغیر عطف تو عورت پہلی طلاق سے ہی بائنہ ہوجائے گی اور عدت نہ ہوگی، اسی وجہ سے دوسری طلاق واقع نہ ہوگی، اس کے برخلاف اگر وطی شدہ بیوی کو ایسے کہا تو سب طلاقیں واقع ہوں گی۔(ت)
(۲؎ درمختار باب طلاق غیر المدخول بہا مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۳)
پس اسی وقت پھر اس سے نکاح کرلے اب طلاق نہ پڑے گی کہ یمین ایک بار سے کھل گئی،
فی التنویر الفاظ الشرط ان واذا واذا ماوکل وکلما ومتٰی ومتٰی ما تنحل الیمین اذا وجد الشرط مرّۃ الافی کلما فانہ ینحل بعد الثلاث۔۱؎
تنویر میں ہے: عربی شرط کے الفاظ یہ ہیں: ان، اذا، اذاما، کل، کلما، متٰی، متٰی ما،ان تمام الفاظ کی شرط جب پائی جائے تو قسم ختم ہوجائے گی ماسوائے لفظ''کلما'' کیونکہ اس میں شرط تین طلاقوں کے بعد ختم ہوگی۔(ت)
(۱؎ درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۳۱)
مگر اتنا ہوگا کہ عورت پر صرف دو طلاقوں کا مالک رہے گا کہ ایک تو نکاح پیش میں پڑچکی اب اگر کبھی دو طلاقیں دے گا مغلظہ ہوجائے گی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی ذی علم کے سامنے تذکرہ کہے کہ میں نے یوں حلف کرلیا ہے کہ مجھے نکاح فضولی کی حاجت ہے یا کیا اچھا ہوتا کہ کوئی شخص بے میری تو کیل کے بطور خود میرا نکاح اس سے کردے تا ذی علم مذکور خود یا کسی اور اسے کہہ کر عورت کا نکاح اس سے کردے جب اس شخص کو نکاح کی خبر پہنچے یہ زبان سے کچھ نہ کہے بلکہ کوئی فعل ایسا کرے جس سے اس نکاح موقوف کی اجازت ہوجائے، مثلاً عورت کو مہر بھیج دے یا لوگوں کی مبارکباد قبول کرے کہ اس صورت میں نکاح ہوجائے گا اور طلاق اصلاً واقع نہ ہوگی،
فی درالمحتار عن البحر عن البزازیۃ ینبغی ان یجیئ الی عالم ویقول لہ ماحلف واحتیاجہ الی نکاح الفضولی فیزوجہ العالم امرأۃ ویجیزبالفعل فلایحنث وکذااذا قال لجماعۃ لی حاجۃ الٰی نکاح الفضولی فزوجہ واحد منھم، اما اذا قال لرجل اعقد لی عقد فضولی یکون توکیلا۲؎اھ
ردالمحتار میں بحر سے منقول اور وہاں بزازیہ سے منقول ہے کہ مناسب ہے کہ کسی عالم کے پاس آکر جو اس نے قسم اٹھائی ہے اس کو بیان کرے اور کسی ایسے فضولی شخص (جو اس کی بیوی کو پہچانتا ہو) کی ضرورت کو بیان کرے تو وہ عالم اس کا کسی عورت سے نکاح کردے اور یہ اس عالم کی کارروائی کو کسی اپنے عمل سے جائز کردے تو حانث نہ ہوگا اور یونہی کسی ایسی جماعت کے سامنے اپنے لئے فضولی کے نکاح کی ضرورت کو پیش کرے تو اس جماعت میں کوئی شخص خود اس کا نکاح کردے البتہ خاص کسی شخص کو فضولی بننے کےلئے نہ کہے کیونکہ کسی کو کہنا کہ تو فضولی بن میرا نکاح کردے، تو یہ فضولی نہ ہوگا، بلکہ یہ تو اس کو وکیل بنانا ہوا، اھ(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب التعلیق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۹۷)