| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
چہ می فرمایند علمائے دین دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ زید از ہندہ الفتے گیرد ودر خلوت اظہار محبت گرداند ہندہ بگوید کہ تو مرا چرا دو ست پنداری کہ حمر ازوجہ خود بداری زید در جواب او مکرر وسہ کررا ز ہندہ و پیش ہمچشماں خود بگوید کہ من در محبت تو حمرا زوجہ خود را بجائے مادر وہمشیرہ خود میدانم وترادو ست می انگارم وزید دیگر بارہم عند الاستفسار در مجمع بیان کند کہ وقتے کہ ہندہ از من پر سیدہ بود من واقعی نسبت حمرا زوجہ خود اطلاق مادروہمشیرہ کردہ ام دریں صورت حمر ادر نکاح زید ماندہ است یانہ، وحکم شرع دریں مسئلہ چیست براہ نوازش مربیانہ فتوی بہ تدقیق وتحقیق ارشاد شود۔ بینواتوجروا۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین دین ومفتیانِ شرع متین کہ زید ہندہ سے محبت کرتا ہے اور خلوت میں اس سے اظہار محبت کرتے ہوئے، ہندہ کے اس سوال کے جواب میں کہ، تو مجھ سے محبت کیوں کرتا ہے جبکہ حمراتیری بیوی موجود ہے، دوبار بلکہ تین بارہندہ اور دوسرے حاضرین کے سامنے زید نے کہا کہ میں تیری محبت میں اپنی بیوی حمرا کو اپنی ماں بہن کی جگہ سمجھتا ہوں اور تجھے پسند کرتا ہوں، اور پھر زید ایک بار مجلس میں پوچھنے پر بیان کرتا ہے کہ جب ہندہ نے مجھ سے پوچھاتھا تو واقعی میں نے حمرا کی بابت یہ بات کہی تھی کہ وہ میری ماں بہن ہے، تو کیا اس صورت میں حمرا زید کے نکاح میں باقی رہی یانہ؟ ا س مسئلہ میں شرعی حکم کیاہے؟ براہِ نواز ش تحقیق وتدقیق کے ساتھ فتوی ارشاد فرمائیں بینواتوجروا
الجواب در صورت مستفسرہ زید باطلاق ہمچو کلمات فساق آثم وبزہ کارست ،
قال تعالٰی ماھن امھاتھم ان امھاتھم الاالّٰئی ولدنھم وانھم لیقولون منکرامن القول وزو راo۱؎
مسئولہ صورت میں زید اپنے ان کلمات کی وجہ سے فاسق، گنہگاراور جھوٹا ہے، اﷲ تعالٰی نے فرمایا وہ (بیویاں)مائیں نہیں ہیں، مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے اور بیشک یہ بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵۸/ ۲)
ہمخواہ بہا مادراں ایشاں نیند، ہم مادراں شاں ہم آناں اند کہ ایناں را زائیدہ اند وبدرستی ہمچناں ست کہ ایشاں ہرزہ می لافند ودر وغ مے بافند، باز اگر زید بایں کلمہ ارادہ طلاق حمراداشت ودل برا خراجش از قید نکاح گماشت حمرا بیک طلاق بائن مطلقہ شد اگرچہ نوبت تکلم بایں کلمہ بسہ رسید باشد طلاق مغلظ نشود لان البائن لایلحق کما صرحوا بہ فی عامۃ الکتب،پس برضائے حمرابے حاجت تحلیل حمراء رابسلک نکاح خود میتواں کشید، واگر بقصد ظہار گفت مظاہر گشت کہ حمرا ہمچناں در نکاح است اماجماع حمرا وبوسہ شہوت ودست بخواہش بہ تنش سودن ونگاہ رغبت بفرجش نمودن ہمہ ہا بروحرام شد وتن باینہا دادن برحمراحرام، تاآنکہ زید کفارہ ظہار ادانماید، واو بندہ آزاد کردن ست کہ فائت جنسے از اجناس منفعت نیست ہمچو سمع وبصرو بیہوش وہردودست یا ہردو پایا یک دست وپاازیک جانب بریدہ وامثال اینہا در کفارہ بکار نیایند، واگر بندہ نیابد دو ماہ پے در پے بے فصل روزے پیش ازجماع آں زوجہ روزہ دارد اگر در مدت صیام بآں زن نزدیکے نمود اگرچہ شبانہ اگرچہ بسہوتا روزہا از سرگیرد واگر نہایت پیرانہ سالی یا مرضے قوی بے امید بہی طاقت اور اگر روز ہائے پیہم بروہ است شصت مسکین را طعامے ہمچو صدقہ فطر رساند یعنی بہر مسکین صاعے از جو یانیم صاع گندم یا قیمت اینہا تملیک کند یا شصت مسکین را کہ خوراک معتاد انسان جوان خوردن توانند شاموپگاہ شکم سیر خوراند چوں ایں چنیں کند حمرابر وحلال شود واگر مراوزید بایں کلمات مجرد حرمت حمرا بر خود بود بے قصد طلاق وظہار یعنی اورادر محبت تو برخود چناں حرام میدانم تاہم ظاہر خواہد شد وہماں احکام کفارہ در کار، واگر ہیچ نیت نہ داشت ہمیں سخنے بود کہ بے قصد معنی برزبان راند آنگاہ ہیچ لازم نیا ید حمرا بدستور در نکاح وجماع ودواعی جملگی مباح ہمچناں اگر کلام مذکور بایں قصد گفت کہ زن خود در بروکرامت بجائے مادر وخواہر خویش میدانم تاہم چیزے لازم نیست۔
پھر اگر زید نے ان کلمات سے بیوی کو طلاق دینے کا اراد ہ کیا اور دل میں بیوی حمرا کا نکاح سے خارج کردینے کا ارادہ کررکھا تھا تو حمرا کو ایک بائنہ طلاق ہوگئی، اگرچہ کلمات تین بار کہے ہوں ایک ہی طلاق ہوگی، تین طلاقوں سے مغلظہ نہ ہو گی، کیونکہ بائنہ کے بعد بائنہ طلاق نہیں ہوتی، جیسا کہ عام کتب میں اس کی تصریح ہے، لہذا زید دوبارہ حمرا سے بغیر حلالہ حمرا کی رضا مندی سے نکاح کرسکتا ہے، اور اگر زید نے یہ کلمات ظہار کی نیت سے کہے ہوں تو ظہار ہوگا، لہذا اس صورت میں حمرا زید کے نکاح میں بدستور رہے گی لیکن حمرا سے جماع یا بوس وکنار، شہوت کے ساتھ چھونا، شہوت کے ساتھ ا سکی شرمگاہ کو دیکھنا یہ تمام چیزیں زید پر حرام ہیں اور بیوی پر خاوند کو جماع کا موقعہ دینا حرام ہے تا وقتیکہ زید کفارہ ظہار ادا نہ کردے، اور کفارہ ظہار یہ ہے کہ غلام ایسا آزاد کرے جو کسی عیب سے متصف نہ ہو جس کی وجہ سے اس کی کوئی جسمانی منفعت ختم ہوگئی ہو مثلاً سمع، بصر، عقل وغیرہ منفعت ختم نہ ہو، لہذا نابینا، بہرا، مجنون، بے ہوش، دونوں ہاتھ یا دونوں پاؤں یا ایک ہی جانب کا ایک ہاتھ اور پاؤں کٹا ہوا، اور اس قسم کے دیگر عیب والا غلام کفارہ کی ادائیگی میں کار آمد نہ ہوگا، اور اگر غلام نہ ملے تو پھر پے درپے مسلسل بغیر ناغہ دو ماہ کے روزے اپنے بیوی کے ساتھ جماع سے قبل رکھے گا، اگر اس دوماہ کے روزوں میں بیوی سے دن یارات کو بھول کر یا قصداً جماع کرلیا تو نئے سرے سے پھر دوماہ کے روزے مسلسل رکھنے پڑیں گے، نہایت بڑھاپے یا کسی قوی مرض جس کے ختم ہونے کی امید نہ ہو اور روزہ رکھنے کی طاقت بحال ہونے کی امید بھی نہ ہوتو پھر ایسا شخص ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی مقدار کھانا دے یعنی ہر مسکین کو ایک صاع جویانصف صاع گندم یا ان کی قیمت کا مالک بنائے یا ساٹھ مسکینوں کو صبح و شام پیٹ بھر کر کھانا کھلائے، جب یہ کام کرلے تو اس کی بیوی حمرااس کے لئے حلال ہوجائے گی، اور اگر زید نے ان کلمات سے صرف حمرا کا حرام ہونا مراد لیا ہو، اور طلاق یا ظہار کی نیت نہ کی ہو یعنی یوں کہاتیری محبت میں اس کو میں اپنے اوپر حرام جانتا ہوں۔ تو بھی ظہار ہی ہوگا اور کفارہ لازم ہوگا، اور اگر اس نے ان کلمات سے طلاق، ظہار یا حرام ہونا کچھ مراد نہ لیا اور صرف زبان پر یہ کلمات بغیر نیت جاری ہوگئے تو پھر زید کے ذمہ کچھ نہ ہوگا، اور حمرابدستور اس کی بیوی ہوگی اس سے جماع اور دواعی جماع سب مباح ہوں گے، اور اگر زید نے ان کلمات سے یہ نیت کی ہو کہ حمرا میرے لئے ماں اور بہن کی طرح کرامت والی ہے تو بھی کچھ لازم نہ آئے گا۔(ت)
در تنویر الابصار ودرمختار و ردالمحتار فرمودہ اند ان نوی بانت علی مثل امی اوکلامی وکذا لوحذف علی''خانیۃ'' برااوظہارا او طلاقا صحت نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ (قال فی البحر واذانوی بہ الطلاق کان بائنا، وقال خیرالرملی و کذا لو نوی الحرمۃ المجردۃ ینبغی ان یکون ظہارا،وینبغی ان لایصدق قضاء فی ارادۃ البر، اذاکان فی حال المشاجرۃ وذکر الطلاق اھ) والاینوشیأ لغا وتعین الادنی ای البر یعنی الکرامۃ۱؎انتھت ملخصات ،
تنویر الابصار، درمختار اور ردالمحتار میں فرمایا ہے اگر بیوی کو یوں کہاکہ تو مجھ پر میری ماں کی مثل یامیری ماں کی طرح ہے او یوں ہی اگر ''علی''(مجھ پر) کا لفظ حذف کردے خانیہ۔ ان الفاظ سے اگر تعظیم زوجہ یا طلاق یا ظہار کی نیت کی تو اس کی نیت صحیح ہوگی اور نیت کے مطابق حکم ہوگا کیونکہ یہ کنایہ ہے۔ (بحرمیں فرمایا خاوند نے جب طلاق کی نیت کی تو طلاق بائنہ ہوگی۔ اور خیرالدین رملی نے فرمایا: یوں ہی اگر صرف حرام ہونے کی نیت کی تو ظہار ہوگا، اور جھگڑے ومذاکرہ طلاق میں اگر یہ بات کہی ہو اور خاوند کہے کہ میں نے اس سے ماں کی طرح عزت وکرامت والی مرادلی ہے، تو قاضی کو چاہئے کہ وہ اس کی تصدیق نہ کرے اھ) اور اگر یہ بات کرتے وقت کوئی نیت نہ تھی تو کلام لغو ہوگا، اور ادنیٰ احتمال یعنی کرامت والا متعین ہوگا، عبارات کی تلخیص ختم ہوئی۔
(۱؎ درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۴۹ ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت۲ /۷۷۔۵۷۶)
وفیھمایصیربہ مظاھرا فیحرم وطؤھا علیہ ودواعیہ (من القبلۃ والمس والنظر الٰی فرجھا بشہوۃ اماالمس بغیر شہوۃ فخارج بالاجماع نھر) وکذا یحرم علیھا تمکینہ ولایحرم النظر (ای الٰی طھرھا وبطنھا ولاالی الشعر والصدر بحرای ولو بشھوۃ بخلاف النظر الی الفرج بشہوۃ) وعن محمد لوقدم من سفر لہ تقبیلھا للشفقۃ(افادان التقبیل لایحرم الا اذا کان عن شہوۃ)حتی یکفر۲؎انتھت تلخیصا ،
درمختار وردالمحتار میں ہے: ان الفاظ سے وہ شخص ظہار کرنے والاقرارپائے گا لہذا خاوند پر بیوی سے وطی اور اس کے دواعی یعنی بوس وکنار، شہوت سے شرمگاہ کو دیکھنا وغیرہ حرام ہوں گے، تاہم بغیر شہوت چھونا بالاجماع حرام ہونے سے خارج ہے، نہر۔ یونہی بیوی پر حرام ہے کہ وہ خاوند کو جماع کا موقعہ دے، اور ظہار میں خاوند کو بیوی کی پیٹھ، پیٹ، بال اور چھاتی کو دیکھنا حرام نہیں ہے بحر، یعنی دیکھنا اگرچہ شہوت سے ہو، اس کے برخلاف شرمگاہ کو شہوت سے دیکھنا حرام ہے۔ امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے منقول ہے کہ اگر خاوند سفر سے واپس آئے اور ازراہِ شفقت بیوی کو بوسہ دے دے تو جائز ہے (اس سے معلوم ہوا کہ بوسہ لینا صرف شہوت سے حرام ہے) یہ حرمت کفارہ کی ادائیگی تک ہوگی اھ تلخیصاً۔
(۲؎ درمختار باب الظہار مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۴۹ ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۷۶۔۵۷۵)
وفیھما الکفارۃ تحریررقبۃ ولو صغیرارضیعا او اصم ان صبیح بہ یسمع، والا لا، لافائت جنس المنفعۃ(ای البصر والسمع والنطق والبطش والسعی والعقل قھستانی، والمراد فوت منفعۃ بتمامھا) کالاعمی ومجنون الذی لایعقل والمقطوع یداہ اورجلاہ اویدورجل من جانب فان لم یجد مایعتق صام شہرین متتابعین قبل المسیس فان وطئھا ای المظاھر منھا فیھما ای الشھرین لیلااو نھارا عامدااو ناسیا استأنف الصوم فان عجز لمرض لایرجی برؤہ او کبر اطعم ای ملک ستین مسکینا کالفطرۃ قدر او مصرفا او قیمۃ ذٰلک وان اراد الاباحۃ غداھم وعشاھم جاز(ولوکان فیمن اطعمھم صبی فطیم لویجیزہ لانہ لایستوفی کاملا، المراد بالفطیم من لایستوفی فی الطعام المعتاد)۱؎انتھت بالتلخیص۔
درمختار وردالمحتار میں ہے کہ کفارہ یہ ہے کہ غلام آزاد کرے اگرچہ غلام دودھ پینے والا بچہ یا ایسا جو بلند آواز کو سن سکے اور جو کوئی آواز نہ سن سکے تو وہ جائز نہیں اور بدنی منفعت (مثلاً دیکھنا، سننا، بولنا، پکڑنا، چلنا اور عقل سے کلیۃً محروم، جائز نہیں، قہستانی، اور بدنی منفعت فوت ہونے سے مراد یہ ہےکہ وہ کلیۃً فوت ہو) جیسے نابینا، مجنون بے عقل، دونوں ہاتھ، دونوں پاؤں یا ایک پاؤں یاا یک ہی جانب سے ایک ہاتھ اور پاؤں کٹا ہو، اور اگر غلام نہ پائے تودوماہ کے روزے پے درپے جماع سے قبل رکھے، اور اگرظہار والے نے ان دوماہ کے دوران دن یا رات کو، بھول کر یا قصداً جماع کرلیا تو پھر نئے سرے سے دوبارہ دوماہ کے روزے رکھے، پھر اگر وہ مظاہر کسی ختم نہ ہونے والی مرض یانہایت بڑھاپے کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو کھانا ملک کرے، اور یہ کھانا فطر کی مقدار ہے اور مصرف بھی صدقہ فطر والا ہوگا یا اتنی مقدار غلہ کی قیمت دے دے اور اگر کفارہ کی مقدار کو مسکینوں کی ملکیت کی بجائے دو وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھلادے تو جائز ہے(اگر مسکینوں میں کوئی شیرخواری سے فارغ بچہ ہوتو اس کو شمار نہ کرے کیونکہ وہ پوری خورا ک نہیں کھاسکتا، اور شیر خواری سے فارغ بچے سے مراد یہ ہے کہ وہ پوری عادیخوراک نہ کھاسکے) اھ، ملخصاً(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الکفارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۷۹ ودرمختار باب الکفارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۰)