| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۴۰: از بہیڑی پنچم محرم الحرام ۱۳۰۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی عورت پرغصہ ہوکر زوجہ سے یہ لفظ کہے کہ میں تجھ کو طلاق دے دوں گا میں تجھے بجائے ماں بہن کے سمجھتا ہوں اگر تجھ سے کلام کروں تو اپنی بہن سے کلام کروں۔ اس صورت میں عورت اس کے نکاح سے خارج ہوگئی یانہیں؟تو اس کی نسبت کیاحکم ہے۔بینواتوجروا
الجواب پہلا لفظ کہ ''میں تجھے طلاق دے دوں گا'' محض نامعتبر ہے کہ صرف وعدہ ہی وعدہ ہے اس سے کچھ نہیں ہوتا، یونہی پچھلا لفظ کہ''میں تجھ سے کلام کروں تو اپنی ماں بہن سے کلام کروں'' کوئی چیز نہیں اگرچہ کلام کرنے سے ہمبستری ہی کرنا مراد لیا ہو،
فی الھندیۃ لو قال ان وطئتک وطئت امی فلاشئی علیہ کذافی غایۃ السروجی۱؎۔
ہندیہ میں ہے کہ اگرخاوند نے کہا اگر میں تجھ سے وطی کروں تو اپنی ماں سے وطی کروں، تو خاوند پر کچھ لازم نہیں۔ غایۃ السروجی میں یونہی مذکورہے(ت)
(۱؎ فتاوٰ ی ہندیہ الباب التاسع فی الظہار نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۰۷)
رہابیچ کا لفظ، اس کی نسبت سائل مظہر کہ میری مراد اس کہنے سے یہ تھی کہ تجھے مثل اپنی ماں بہن کے اپنے اوپر حرام سمجھتا ہوں طلاق دینا میری نیت میں نہ تھا، اگر یہ بیان واقعی ہے تو صورت ظہارکی ہے،
فی العالمگیریۃ لو قال لھا انت علی مثل امی ان نوی التحریم اختلفت الروایات فیہ والصحیح انہ یکون ظہاراعند الکل کذافی فتاوٰی قاضی خاں اھ۱؎ ملخصا،
عالمگیری میں ہے: اگر خاوند نے کہا''تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے'' اگر اس سے حرام کرنے کی نیت کی ہوتو اس میں روایات کا اختلاف ہے، اور صحیح روایت یہ ہے کہ یہ ظہار ہوگا سب کے نزدیک جیسا کہ فتاوٰی قاضی خان میں ہے اھ ملخصاً،
(۱؎ فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی الظہار نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۰۷)
وفی ردالمحتار عن البحر منی وعندی ومعی کعلی ۲؎اھ اقول وانت تعلم ان " سمجھتا ہوں"، بلساننا یودی مؤدی "عندی" بلسان العرب۔
اور ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ ''اگر تو مجھ پر'' کی بجائے ''مجھ سے، میرے ہاں، میرے ساتھ'' کے الفاظ کہے تو وہ بھی ''مجھ پر'' کے حکم میں ہوں گے۔اقول (میں کہتا ہوں) ہماری زبان میں ''سمجھتا ہوں'' کا لفظ عربی زبان میں''عندی'' کے قائم مقام ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۷۵)
پس صورت مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ عورت نکاح سے نہ نکلی مگر اسے اس کے ساتھ صحبت کرنا یا شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لینا یا شہوت سے اس کے بدن کو ہاتھ لگانا یا اسی طور پر اس کی شرمگاہ دیکھنا یہ سب باتیں حرام ہوگئیں اور ہمیشہ حرام رہیں گی جب تک کفارہ ادا نہ کرے،
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار یصیربہ مظاھر افیحرم وطؤھا علیہ ودواعیہ من القبلۃ والمس والنظر الی فرجھا بشھوۃ اما المس بغیر شھوۃ فخارج بالاجماع نھر، وکذا یحرم علیھا تمکینہ ولایحرم النظر الٰی ظھرھا اوبطنھا ولاالی الشعر والصدر بحرای ولو بشہوۃ بخلاف النظر الی الفرج بشہوۃ، عن محمد لوقدم من سفرلہ تقبیلھا للشفقۃ، حتی یکفر غایۃ لقولہ فیحرم۱؎اھ ملخصۃ۔
تنویر الابـصار، درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ ان الفاظ سے وہ شخص ظہار کرنے والا قرار پائے گا، لہذا بیوی سے وطی اور وطی کے دواعی اس پر حرام ہوجائیں گے، وطی کے دواعی بوس وکنار اور شہوت سے بیوی کی شرمگاہ پر نظر ڈالنا وغیرہ ہیں لیکن بغیر شہوت چھونا اس حکم سے بالاجماع خارج ہے، نہر اور یونہی بیوی پر خاوند کو جماع کا موقعہ دینا حرام ہے، اوربیوی کی پشت، پیٹ، چھاتی اور بالوں کو دیکھنا حرام نہیں ہے بحر یعنی اگرچہ شہوت سے ہو، اس کے برخلاف بیوی کی شرمگاہ کو شہوت سے دیکھنا حرام ہے اور امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ سے روایت ہے کہ اگر سفر سے آئے اور بیوی کو شفقت سے بوسہ دے لے تو جائز ہے حتی یکفر(کفارہ دینے تک) یہ ماتن کے قول فیحرم(پس حرام ہے) کی غایت ہے(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۷۶۔۵۷۵)
اور کفارہ اس کا یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے اور اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو دو مہینے کے روزے لگاتاررکھے، ان دنوں کے بیچ میں نہ کوئی روزہ چھوٹے نہ دن کو یارات کوکسی وقت عورت سے صحبت کرے ورنہ پھر سرے سے روزے رکھنے پڑیں گے، اور جو ایسا بیمار یا اتنا بوڑھا ہے کہ روزوں کی طاقت نہیں رکھتا وہ ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا ساٹھ مسکینوں کو گیہوں دے فی مسکین بریلی کی تول سے پونے دوسیرآٹھ آنے بھر زائد یا اس قدر کی قیمت ادا کرے، جب تک اس کفارہ سے فارغ نہ ہو ہر گز عورت کو ہاتھ نہ لگائے،
فی الدرالمختار، ھی تحریررقبۃ فان لم یجد مایعتق، صام شھرین ولوثمانیۃ وخمسین یوماً بالھلال والافستین یوما متتابعین قبل المسیس، فان افطر بعذراو بغیرہ اووطئھا فی الشھرین مطلقالیلااو نھارا عامدااوناسیا استأنف الصوم، لاالاطعام فان عجز عن الصوم لمرض لایرجی برؤہ او کبر اطعم ستین مسکینا ولو حکما کالفطرۃ او قیمۃ ذٰلک، وان غداھم وعشاھم واشبعھم جازا کمالواطعم واحداستین یوما لتجدد الحاجۃ۲؎اھ ملتقطا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے: کفارہ غلام کو آزاد کرنا ہے، اگر یہ نہ ہوسکے تو جماع سے قبل دوماہ کے روزے رکھے، اگرچہ چاند کے حساب سے یہ کل روزے اٹھاون۵۸ بنیں، ورنہ دنوں کے حساب سے ساٹھ روزے مسلسل پورے کرے، پھر اگر درمیان میں کوئی روزہ چھوڑدیا عذر کی بناء پر خواہ بغیر عذر، یا ان دوماہ میں بیوی سے جماع کرلیا،دن یا رات میں، قصداً یا بھول کر، جیسے بھی ہوتو پھر نئے حساب سے ساٹھ روزے رکھے، اگر طعام کی صورت میں کفارہ ادا کرے اور کھانا کھلانے کے دوران بیوی سے جماع کرلیا تو نئے سرے سے کھانا کھلانا لازم نہیں آئے گا، پھر اگر کسی ایسے مرض کی وجہ سے جس سے برأت کی امید نہیں، روزہ نہ رکھ سکے، یابڑھاپے کی وجہ سے روزے پر قدرت نہ ہوتو پھرساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اگرچہ کھلانا حکمی ہو یعنی غلہ بمقدار فطرا نہ دے دے یا اس کی قیمت دے دے، اور اگر صبح وشام دو وقت کھانے سے مسکینوں کو سیر کردیا تو یہ جائز ہوجائیگا، جس طرح ایک ہی مسکین کو ساٹھ روز صبح وشام سیر کرکے کھلادیا تو بھی جائز ہے کیونکہ ایک مسکین کو بھی روزانہ نئی حاجت ہوتی ہے اھ ملتقطا، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ درمختار باب الکفارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۱۔۲۵۰)