| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ ۳۶: ۱۳ شعبان معظم ۱۳۱۱ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایلاء کسے کہتے ہیں اور اس کا کیا حکم ہے اور اس سے طلاق مغلظہ پڑتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب ایلاء کے یہ معنی کہ مرد اپنی عورت سے جماع کی قسم کھا لے یا تعلیق کرے یعنی یوں کہے کہ اس سے جماع کروں تو مجھ پر یہ جزالازم آئے، اور یہ قسم وتعلیق یا تومطلق ہوں مثلاً واﷲ میں تجھ سے جماع نہ کروں گا، یا تجھ سے جماع کروں تو مجھ پر روزہ لازم، یا موبد یعنی صراحۃً، ہمیشہ کے لئے ہوں مثلاً خدا کی قسم میں تجھ سے کبھی صحبت نہ کروں گا، یا تجھ سے کبھی صحبت کروں تو مجھ پرحج واجب ہو، یا کسی خاص مدت کے لئے ہوں تو وہ مدت چار مہینے سے کم نہ ہو مثلاً مجھے قسم ہے چار مہینے تک تیرے پاس نہ جاؤں گا، یا پانچ مہینے تک تجھ سے وطی کروں تو مجھ پر سو رکعت نماز لازم، اور تعلیق کی صورت میں یہ بھی ضرور کہ وہ امر جس کا لازم آنا کہے اس میں مشقت ہو جیسے امثلہ مذکورہ، یا یہ کہ میرا غلام آزاد ہے، یا تجھ پر طلاق ہے، یا میرا مال خیرات ہے، یامجھ پر قسم کا کفارہ ہو وغیر ذلک، اور وہ شرعاً تعلیق کہے سے بھی لازم آسکتا ہو جیسے نماز، روزہ، حج، صدقہ، اعتکاف، عمرہ، طلاق، کفارہ، وغیرہا، نہ مثل وضو وغسل وتلاوت قرآن وسجدہ تلاوت واتباعِ جنازہ وغیرہ کے یہ چیزیں نذر وتعلیق سے لازم نہیں ہوجاتیں، اور یہ قسم وتعلیق ایسے طور پر واقع ہو کہ بے کسی چیز کے لازم آئے اصلا مفر نہ رہے، ایسی صورت نہ نکل سکے کہ یہ اس عورت سے جماع کرے اور کچھ لازم نہ آئے، جب یہ پانچوں باتیں جمع ہوں گی ایلاء ہوگا اور ایک بھی کم ہوئی تو نہیں، مثلاً نہ قسم کھائی نہ تعلیق، خالی عہد کرلیا کہ عمر بھرتیرے پاس نہ جاؤں گا یہ کچھ بھی نہیں کہ خالی عہد سے کچھ نہیں ہوتا، یا قسم تعلیق توذکر کی مگر مدت چار مہینے سے کم رکھی اگرچہ ایک ہی ساعت کم، یہ ایلاء نہ ہوا، جتنی مدت کی قید لگائی ہے اس کے اندر جماع کیا تو بصورت قسم خاص کفارہ اور بصورت تعلیق روزہ وغیرہ جو کچھ لازم آنا کہا تھا خواہ مثل قسم کفارہ لازم آئے گا کہ یہ حکم تو اس قسم و تعلیق کا ہے، مگر مدت بے جماع گزرگئی تو عورت نکاح سے نہ نکلے گی جو خاص حکم ایلاء ہے، یونہی اگر تعلیق میں دو رکعت نماز لازم آنی کہے تو ایلاء نہیں کہ دورکعت میں کچھ مشقت نہیں، اگر مدت کے اندر پاس گیا تو دو رکعتیں پڑھنی ہوں گی اور مدت خالی گزرگئی تو کچھ نہیں، اور اگر تعلیق میں تلاوت قرآن وغیرہ اشیائے غیر لازمہ ذکر کیں تو محض مہمل، نہ مدت گزرنے پر طلاق پڑی نہ مدت کے اندر صحبت کرنے سے کچھ لازم، اسی طرح اگر یوں کہا کہ واﷲ میں اس میں تجھ سے وطی نہ کروں گا یا اس شہر میں تجھے کبھی ہاتھ لگاؤں تو مجھ پر سوحج لازم، یہ بھی ایلاء نہیں کہ جب اس گھر یا شہر کی تخصیص ہے توبغیر کچھ لازم آئے مفر موجود ہے جب چاہے اس گھر یاشہر سے باہر لے جاکر جماع کرسکتا ہے کچھ بھی لازم نہ آئے گا، بس بے جماع چار مہینے نہیں کتنی ہی مدت گزرجائے طلاق نہ ہوگی، ہاں وہ قسم یا تعلیق جھوٹی کی تو اس کا جرمانہ اسی طرح دیناہوگا کہ قسم خاص کفارہ اورتعلیق میں اختیار ہے چاہے وہ چیز بجالائے جو لازم مانی تھی چاہے قسم کے مثل کفارہ دے لے علی ہذا القیاس جس جس صورت میں بغیر کچھ لازم آئے مفر ملتی ہو ایلا نہیں، ان سب قیود واحکام کی تصریح وتفصیل درمختار وردالمحتار میں ہے من شاء فلیرا جعھما(جس کا جی چاہے ان کی طرف رجوع کرے۔ت) پھر جب ایلاء متحقق ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ چار مہینے کے اندر اس عورت سے جماع کیا تو بتفصیل معلوم قسم کا کفارہ یا وہی امر شاق جس کا لازم آنا کہا تھا لازم آئے گا اور چار مہینے گزرگئے کہ اس سے جماع نہ کیا یا جماع مثلاً بوجہ مرض یا حبس یا دوری مسافت کہ مدت کے اندر عورت تک نہیں پہنچ سکتا ناممکن تھا تو زبانی رجوع نہ کیا مثلاً یوں نہ کہہ لیا کہ میں نے اپنی عورت کی طرف رجوع کی یا اپنے اس کہنے سے پھر گیا یا میں نے ایلاء باطل کردیا تو اس صورت میں عورت پر ایک طلاق بائن پڑجائے گی جس سے وہ خود مختار ہوجائے گی،
فی الدرحکمہ وقوع طلقۃ بائنۃ ان بر ولم یطأولزم الکفارۃ او الجزاء المعلق ان حنث بالقربان۱؎
در میں ہے کہ ایلاء کا حکم یہ ہے کہ اگر قسم پر قائم رہا اور وطی نہ کی تو طلاق بائنہ ہوجائے گی اور جماع کرنے پر کفارہ لازم ہوگا یا اگر کسی چیز کو معلق کیا تھا تو جماع کرنے پر وہ جزاء لازم ہوگی۔
(۱ درمختار باب الایلاء مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۴۲)
فی ردالمحتار قولہ ولم یطأعطف تفسیر والمراد بالوطی حقیقتہ عند القدرۃ او مایقوم مقامہ کالقول عند العجز فالمراد ولم یفئی ای لم یرجع الی ماحلف علیہ۱؎اھ
ردالمحتار میں اس پر فرمایا کہ ماتن کا قول''ولم یطأ''(اور وطی نہ کی) عطف تفسیری ہے، اور وطی سے حقیقی جماع مراد ہے اگر قدرت ہو، اگر قدرت نہ ہو تو جماع کے قائم مقام مثلاً یہ کہنا کہ میں نے بیوی سے رجوع کرلیا، کہے، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی قسم پر قائم نہ رہے اور قسم کو پورا نہ کرے تو کفارہ لازم آئے گا اھ،
(۱ردالمحتار باب الایلاء دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۴۶
وفی الدر عجز عجز احقیقیا لاحکمیا کا حرام لکونہ باختیارہ عن وطئھا لمرض باحدھما او صغرھا او جبہ او عنتہ او بمسافۃ لایقدر علی قطعھا فی مدۃ الایلاء او لحبسہ لابحق ففیؤہ نحوقولہ بلسانہ فئت الیھا او ر اجعتک او ابطلت الایلاء او ر جعت عما قلت ونحوہ اھ۲؎ملخصا۔
اور در میں ہے''عاجز ہوجائے'' سے مراد حقیقی عجز ہے حکمی عجز نہیں جیسا کہ احرام کی حالت میں ہونا عجز حکمی ہے کیونکہ یہ عجز اختیاری ہے، بیوی سے وطی کے عجز کا مطلب یہ ہے کہ خاوند یابیوی کو مرض لاحق ہو، یا بیوی صغیرہ ہو، یا خاوند نامرد یا آلہ سے محروم ہے، یا اتنی دور مسافت ہے کہ قسم کی مدت میں اس کو طے کرنا، قدرت میں نہیں ہے، یا ناحق قید میں ہے، تو ان صورتو ں میں بیوی سے رجوع زبانی کرے اور یوں کہے کہ میں نے بیوی سے رجوع کرلیا ہے یا میں نے ایلاء یعنی قسم کو باطل کردیا ہے، یا کہے میں نے قسم کھائی اس سے میں نے رجوع کرلیا ہے یا اس کی مثل الفاظ کہہ دے، اھ ملخصاً(ت)
(۲ درمختار باب الایلاء مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۴۳)
مگر ایلاء طلاق مغلظہ نہیں کہ حلالہ کی ضرورت ہو،عدت میں خواہ بعد عدت جب چاہیں باہم نکاح کرسکتے ہیں، ہاں اس سے پہلے کبھی دو طلاقیں دے چکا تھا تو آپ ہی حلالہ درکار ہوگا کہ اب یہ تیسری مل کر تین طلاقیں ہوگئیں یہ جدا بات ہے یا اگر (مدت عہ)کی قید نہ تھی بلکہ مطلق یا صراحۃً موبد تھا اور چار مہینے بے رجوع گزر گئے کہ ایک طلاق بائن پڑی پھر اس سے نکاح کرلیا اور پھر چار مہینے خالی گزرگئے تو دوسری پڑے گی پھر نکاح کرلیا اور یونہی چار مہینے گزرگئے تو تین طلاقیں ہوجائیں گی اور اب بے حلالہ نکاح میں نہ لاسکے گا،
(عہ: اصل میں کرم خوردہ ہے)
فی التنویر فی الحلف باﷲ وجبت الکفارۃ وفی غیرہ وجب الجزاء وسقط الایلاء والابانت بواحدۃ وسقط الحلف لو مو قتا لالوکان موبدافلو نکحھا ثانیا وثالثا ومضت المدتان من وقت التزوج فان نکحھا بعد زوج اٰخرلم تطلق وان وطئھا کفر لبقاء الیمین ۱؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
تنویر میں ہے: ایلاء میں، اگر اﷲ کی قسم، کہ تو اس سے رجوع کرنے پر کفارہ لازم ہوگا، اور اگرکوئی شرط رکھی تھی تو وہ جزاء لازم آئے گی، اور ایلاء ساقط ہوجائیگا ورنہ قسم کو پورا کرنے پر بیوی ایک طلاق سے بائنہ ہوجائیگی اور حلف مقررہ وقت کیلئے ہو تو ختم ہوجائے گا اور اگر حلف ابدی ہوتو ختم نہ ہوگا، لہذا دوبارہ اور سہ بارہ نکاح کرنے پر ایلاء کی مدت پورا ہونے اور رجوع نہ کرنے پر دوسری اور تیسری طلاق سے بائنہ ہوتی رہے گی اور قسم کی مدت کا اعتبار نکاح کے وقت ہوگا لہذا اگر بیوی حلالہ کے بعد واپس اس کے نکاح میں آئے تو طلاق نہ ہوگی تاہم وطی کرنے پر کفارہ ضرور لازم ہوگاکیونکہ قسم ابدی ہونے کی وجہ سے باقی ہے، واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الایلاء مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۴۳۔ ۲۴۲)
مسئلہ۳۷: ڈالور فرسٹ ایچ روڈمکان ۱۰۱ مسئولہ ابوبکر ۷شوال ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کہتاہے کہ میں نے کتاب میں دیکھاہے کوئی شخص حنفی مذہب کے موافق اپنی عورت سے کسی معاملہ میں ان بن ہوگئی اور چہارحیض تک کچھ تعلق نہ رہا تو ایک طلاق ہوگی، پھر اس پر ایک اور حیض گزرنے سے دوسری طلاق ہوگی پھر ایک اور حیض گزرنے سے تیسری طلاق ہوگی، یہ صحیح ہے یانہیں؟
الجواب یہ محض بے اصل ہے اس کا پتا نہ مذہب حنفی میں ہے نہ کسی مذہب میں، اصل حکم جو ہے کہ یہ شخص اپنی عورت سے قربت کی قسم کھائے،رب عزوجل نے اسے چار مہینے کی مہلت دی ہے، اگر چار مہینے کے اندر قربت کرلے گا تو عورت نکاح سے نہ نکلے گی کفارہ دیناہوگا، اور اگر چار مہینے کامل گزرجائینگے تو ایک طلاق بائن ہوجائے گی، عورت نکاح سے نکل جائے گی، پھر دوسرے یا تیسرے مہینے کوئی طلاق نہ ہوگی،
قال اﷲ تعالٰی للذین یؤلون من نساءھم تربص اربعۃ اشھرفان فآؤا فان اﷲ غفور رحیمo۱؎وان عزمو االطلاق فان اﷲ سمیع علیمo۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: وہ لوگ جو بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں ان کی قسم کی مدت چار ماہ ہے اگر اس دوران رجوع کرلیں تو اﷲ تعالٰی بخشنے والا، رحم فرمانے والاہے، اور اگر وہ (رجوع نہ کرکے) طلاق کا عزم کئے ہوں تو اﷲ تعالٰی سننے والا جاننے والا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۲۶) (۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۲۷)