Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
35 - 175
امام اجل برہان الملۃ والدین در ہدایہ فرمایدان کان الشرط لایعلم الا من جھتھا فالقول قولھافی حق نفسھا مثل ان یقول ان حضت فانت طالق وفلانۃ فقالت قد حضت طلقت ھی ولم تطلق فلانۃ ووقوع الطلاق استحسان، والقیاس ان لایقع لانہ شرط فلاتصدق کما فی الدخول، وجہ الاستحسان انہا امینۃ فی حق نفسھا اذلایعلم ذلک الامن جھتھا فیقبل قولھا کماقیل فی حق العدۃ والغشیان ولکنھا شاہدۃ فی حق ضرتھا بل ھی متھمۃ فلایقبل قولھا فی حقھا۱؎،
امام اجل برہان الملّۃ والدّین نے ہدایہ میں فرمایا اگر شرط ایسی ہو کہ اس کا علم صرف عورت کے بیان و اظہارپر موقوف ہوتو عورت کی بات معتبر ہوگی جس کا تعلق اس عورت کی ذات سے ہو، مثلاً کہا اگر تجھے حیض آئے تو تجھے طلاق ہے اور فلانی کو بھی، اب اس عورت نے کہ مجھے حیض آیا ہے، تو اس کو خود طلاق ہوجائیگی دوسری فلانی کونہ ہوگی، اس کو طلاق ہونا بطور استحسان ہے جبکہ قیاس یہ ہے کہ طلاق نہ ہو، کیونکہ یہ شرط ہے جبکہ شرط کے وقوع میں صرف عورت کی بات معتبر نہیں ہوتی جیسا کہ دخول وغیرہ کی شرط میں، استحسان کی وجہ یہ ہے کہ اپنے معاملہ میں وہ امین متصور ہوگی کیونکہ معاملہ ایسا ہے جس کا علم اس کے بیان پر موقوف ہے اس لئے اس کی ذات کے بارے میں اس کی بات معتبر ہوگی، جیسا کہ عدت اور اس سے وطی کے متعلق اس کی بات معتبر ہوتی ہے لیکن اس کی یہ بات سوکن کے حق میں شہادت بنتی ہے بلکہ تہمت متصور ہوتی ہے اس لئے سوکن وغیرہ دوسری عورت کے بارے میں اس کی یہ بات معتبر نہیں ہوگی اور قبول نہ کی جائےگی۔
 (۱؎ ہدایہ  باب الایمان فی الطلاق  المکتبۃ العربیۃ کراچی  ۲ /۳۶۶)
در فتح القدیر ست شہادتھا علی ذٰلک شہادۃفرد واختبارھا بہ لایسری فی حقھا مع التکذیب۲؎
فتح القدیر میں ہے: عورت کی گواہی دوسری عورت کے بارے میں یہ ایک فرد کی گواہی بنتی ہے تو اس لئے اس کی یہ بات دوسری پر اثر انداز  نہ ہوگی تہمت کی وجہ سے اس کو جھوٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔
 (۲؎ فتح القدیر     باب الایمان فی الطلاق          المکتبۃ العربیۃ کراچی    ۳ /۴۵۱)
علامہ آفندی شامی در ردالمحتار فرماید قال فی البحر قید بمحبتھا لانہ لو علقہ بمحبۃ غیرھا فظاھر مافی المحیط انہ لابد من تصدیق الزوج فانہ قال لوقال انت طالق ان لم تکن امک تھوی ذلک فقالت الام انا اھوی وکذبھا الزوج لاتطلق فان صدقھا طلقت لما عرف، وروی ابن رستم عن محمد انہ لوقال ان کان فلان مؤمنا فانت طالق لاتطلق لان ھذالایعلمہ الا ھو، ولایصدق ھوعلی غیرہ وان کان ھو من المسلمین یصلی ویحج، ولو قال الاٰخرلی الیک حاجۃ فاقضھا لی فقال امرأتہ طالق ان لم اقض حاجتک، فقال حاجتی ان تطلق زوجتک فلہ ان لایصدقہ فیہ ولاتطلق زوجتہ لانہ محتمل للصدق والکذب فلایصدق علی غیرہ اھ، قال الخیر الرملی وقد علم من ھذہ الفروع انہ ان علق بفعل الغیر لایصدق ذٰلک الغیر علیہ سواء، کان مما لایعلم الامنہ ام لاولابدمن تصدیق الزوج فیھما او البینۃ فیما یثبت بھا من الامر الذی یعلم۱؎ ایں عین جزئیہ مطلوبہ ماست، وﷲالحمد، واﷲ تعالٰی اعلم۔
علامہ آفندی شامی نے ردالمحتار میں فرمایا کہ بحر میں کہا ہے کہ بیوی کی محبت سے اس کو مقید کیا کیونکہ اگر کسی غیر کی محبت سے طلاق کو مشروط کیا جائے، تو محیط کے بیان سے ظاہر یہی ہے کہ خاوند کی تصدیق کے بغیرمحض بیوی کے کہنے پر طلاق نہ ہوگی کیونکہ وہاں یہ فرمایا ہے کہ اگر خاوند نے کہا، اگر تیری ماں یہ نہ چاہتی، اور خاوند نے ماں کی بات کو غلط قرار دیا تو طلاق نہ ہوگی ہا ں اگر خاوند ماں کی تصدیق کر د ے تو طلاق ہو جائے گی  جیسے کہ معلوم ہے۔ ابن رستم نے امام محمد سے نقل کیا کہ خاوند نے کہا اگر فلاں مومن ہے تو تجھے طلاق ہے، تو یہاں طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ دل کا معاملہ ہے جس کی اطلاع وہ فلاں شخص خود دے سکتا ہے لیکن اس کا بیان دوسرے کے خلاف قابلِ تصدیق نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ مسلمان نظر آئے نماز اور حج وغیرہ ادا کرتا ہو، اور اگر ایک نے دوسرے کوکہا مجھے تجھ سے ایک حاجت ہے تو میری حاجت پوری کردے، دوسرے نے کہا اگر میں تیری حاجت پوری نہ کروں تومیری بیوی کو طلاق، تو پہلے نے کہا میری حاجت یہ ہے کہ تو اپنی بیوی کو طلاق دے، تو دوسرے شخص کو حق ہے کہ وہ اس کی بات تسلیم کرنے سے انکار کردے تو بیوی کو طلاق نہ ہوگی کیونکہ پہلے کی بات جھوٹ اور سچ ہونے کا احتمال رکھتی ہے لہذا غیر کے خلاف یہ دلیل نہیں قرارنہیں دی جاسکتی اھ، خیرالدین رملی نے اس پر فرمایا کہ ان مسائل سے معلوم ہوا کہ اگر دوسرے کے فعل پر طلاق کو مشروط کیا ہوتو اس غیر کی تصدیق ضروری نہیں ہے خواہ غیر کا یہ فعل دوسروں کو معلوم ہوسکے یا صرف وہی اظہار کرسکتا ہو دوسری کو معلوم نہ ہوسکتا ہو، دونوں صورتوں میں خاوند کی طرف سے تصدیق کرنا ضروری ہے یا پھرگواہی سے ثابت ہوجائے وہ فعل جس پر دوسروں کو اطلاع ہو سکتی ہو، یہی ہمارا مطلوبہ جزئیہ ہے و ﷲالحمد، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب التعلیق     داراحیاءالتراث العربی بیروت     ۲ /۵۰۵)
Flag Counter