| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
امام محقق علی الاطلاق در فتح القدیر کتاب الایمان فی مسائل متفرقہ فرماید، لو قال لامرأتہ کل امرأۃ اتزوجھا بغیراذنک طالق فطلق امرأتہ طلاقا بائنا اوثلاثا ثم تزوج بغیراذنھا طلقت لانہ لم تتقید یمینہ ببقاء النکاح لانہا انما تتقید بہ لوکانت المرأۃ تستفید ولایۃ الاذن والمنع بعقد النکاح۱؎۔
امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں کتاب الایمان کے مسائل متفرقہ میں فرمایا ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے جس عورت سے بھی تیری اجازت کے بغیر نکاح کروں تو اسے طلاق ہے، پھر اس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دی یا تین طلاقیں دے دیں پھر اس نے اس دوران پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کیا تو دوسری کو طلاق ہوجائے گی کیونکہ اس نے حلف میں دوسری عورت سے ناکح کو پہلی بیوی کے نکاح کے باقی رہنے سے مقید نہیں کیا، اس سے مقید تب ہوتا جب پہلی بیوی اپنے نکاح کے وقت اذن یا منع کااختیار حاصل کرتی۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب الایمان مسائل متفرقۃ مکتبہ نوریہ رضوریہ سکھر ۴/۴ ۶۸)
علامہ محقق زین بن نجیم د ربحرالرائق فرماید الاذن یطلع علیہ بالقول بخلاف المحبۃ۲؎ملخصاً،
علامہ محقق زین بن نجیم نے بحرالرائق میں فرمایا اذن پر صرف قول کے ذریعہ اطلاع ہوسکتی ہے بخلاف محبت کے،
(۲؎ بحرالرائق باب التعلیق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ /۲۶)
ہمدان ست حقیقۃ المحبۃ والبغض امر خفی لایوقف علیھا من قبل احد لامن قبلھا ولامن قبل غیرھا لان القلب یتقلب لایستقر علی شیئ۱؎۔
اسی میں یہ بھی فرمایا کہ محبت اور بغض کی حقیقت مخفی معاملہ ہے اس پر مرد یا عورت کسی کی طرف سے واقفیت نہیں ہوسکتی، کیونکہ یہ دلی کیفیت ہے جو بدلتی رہتی ہے کیونکہ دل بدلتے رہنے والی چیز ہے دل کو کسی ایک چیز پر قرار نہیں۔(ت)
( ۱؎ بحرالرائق باب التعلیق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ /۲۷)
امام حافظ الدین محمد کردری در وجیز کتاب الایمان فصل تاسع فرمایدان اذن ولم تسمع لایعتبر عند الامام ومحمد رحمہما اﷲ تعالٰی، وفی الصغری، لاتخرجی الابرضائی اوبغیررضائی فاذنھا ولم تسمع او سمعت ولم تفھم لایحنث بالخروج، بخلاف الاباذنی اوبغیر اذنی حیث یحنث لان الرضا یتحقق بلاعلمھا والاذن لایتحقق۲؎۔
امام حافظ الدین محمد کردری نے وجیز کتاب الایمان کی نویں فصل میں فرمایا: اگر اذن دیا اور دوسرے نے نہ سنا تو یہ اذن معتبر نہ ہوگا، یہ امام اعظم اور امام محمد رحمہمااﷲکا مسلک ہے، صغری میں ہے: خاوند نے بیوی کو کہا تو میری رضا کے بغیر باہر نہ جائیگی، تو اس کے بعد خاوند نے بیوی کو اجازت دی مگر بیوی نے نہ سنا، یا سنا ہے لیکن سمجھی نہیں تو بیوی نکل جانے سے حانث نہ ہوگی، اس کے برخلاف اگر اس نے بیوی کے نکلنے کو اذن پر موقوف کیا ہوتو مذکورہ صورت میں خلاف ورزی قرار پائے گی یعنی حانث ہوگی، کیونکہ رضابیوی کے علم کے بغیر بھی ہوسکتی ہے جبکہ اذن اس کے علم کے بغیر متحقق نہیں ہوسکتا۔(ت)
(۲؎ فتاوی بزازیۃ علٰی ھامش فتاوی ہندیۃ التاسع فی الیمین فی الاذن نورانی کتب خانہ کراچی ۴ /۲۹۴)
ہمدراں ست لایشرب الاباذنہ فناولہ القدح بیدہ ولم یقل بلسانہ شیأ فشرب یحنث لانہ دلیل الرضا، لاالاذن، لاتخرج امرأتہ الا بعلمہ فخرجت وھو یراھا لایحنث، وان اذن لھا بالخروج فخرجت بعدہ بلاعلمہ لایحنث۳؎۔
اسی میں ہے: ایک نے دوسرے کو کہا''تو میرے اذن کے بغیر نہ پئے گا'' اس کے بعد اس نے خود پانی کا پیالہ اس کے ہاتھ میں دے دیا لیکن زبان سے کچھ نہ کہا دوسرے نے پانی لیا تو خلاف ورزی ہوجائیگی اور وہ حانث ہوجائیگا(کیونکہ ہاتھ میں دینا رضا کی دلیل تو ہوسکتی ہے مگر اذن نہیں ہوسکتا) یونہی بیوی کو کہا''میرے علم کے بغیرباہرنہ جائے گی'' پھر اس کے دیکھتے ہوئے اس کی عورت نکلی تو حانث نہ ہوگا، اور اگر اس کے بعد نکلنے کی اجازت زبانی دے دی تو اب علم کے بغیر بھی نکل جائے تو حانث نہ ہوگا۔(ت)
(۳؎ فتاوی بزازیۃ علٰی ھامش فتاوی ہندیۃ التاسع فی الیمین فی الاذن نورانی کتب خانہ کراچی ۴ /۲۹۶)