Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
33 - 175
مسئلہ۳۵: از رامپور محلہ فرنگن محل بزریا ملاظریف مرسلہ مولوی ریاست حسین خاں صاحب ۲۲شوال۱۳۱۵ھ
چہ می فرمایند اصحاب شرع وار باب ورع اندرینکہ شخصے بعد ایجاب وقبول نکاح خودرا اقرارنامہ ایں عبارت تحریر نمود کہ منکہ یونس علی پسر حسین علی مرحوم حال ساکن ناکندیہ علاقہ تھانہ منکنڈ وضلع ارکانم منمقر در حالت صحت ذات وثبات عقل بلااجبارواکراہ بخوشی مہر النساء دختر غلام علی مرحوم را بچند شرائط بنکاح خود آوردم:
کیافرماتے ہیں اصحابِ شرع وتقوٰی اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنے نکاح میں ایجاب وقبول کے بعد اقرار نامہ میں یہ تحریر کیا کہ منکہ یونس علی پسر حسین علی مرحوم ساکن ناکند یہ علاقہ تھانہ منکنڈ وضلع اراکانم،اپنی صحت اور بقائمی عقل بغیر جبر واکراہ اپنی خوشی سے اقرار کرتا کہ مسماۃ مہر النساء دختر غلام علی مرحوم کو چند شرائط کے ساتھ اپنے نکاح میں لاتا ہوں:
شرط اوّل اینکہ مسماۃ مذبورہ را در باب تعلیم احکام شرعیہ مثل نماز وروزہ وغیرہ امور دینیہ کوشش کما حقہ بکار آرم(الی ان قال) شرط، ہشتم بغیر رضا ورغبت مسماۃ مذکورہ زنے دیگر بنکاح خود نیارم اگر آرم برثانیہ سہ طلاق واقع خواہد شد۔ شرط نہم اگر زشرطے ازیں شرائط مرقومہ بالاانحراف ورزم آنگہ اختیار مسماۃ موصوفہ را است کہ بتوسل کاغذ ہذا نفس خود را از زوجیتم سہ طلاق کردہ بنکاح دیگر پرداز دیا بنکاح ماند انتہی نقل اقرار نامہ بعینہ۔
پہلی شرط یہ کہ مسماہ مذکورہ کو شرعی تعلیم بابت نماز، روزہ وغیرہ امور دینیہ دینے میں پوری کوشش کروں گا، حتی کہ یہ کہا آٹھویں شرط یہ ہے کہ مسماۃ مذکورہ کی مرضی کے بغیر کسی دوسری عورت سے اپنا نکاح نہ کروں گا، اگر کروں تو دوسری بیوی کو تین طلاق ہوں گی، اور نویں شرط یہ کہ اگر مذکور شرائط میں سے کسی شرط سے انحراف کروں تو مسماۃ موصوفہ کو اختیار ہوگا کہ اس کاغذ اور تحریر کے بموجب اپنے آپ کو تین طلاق کے ساتھ میری زوجیت سے خارج کرکے دوسرے شخص سے نکاح کرلے یا میرے نکاح میں رہے، نقل بعینہ اقرار نامہ ختم ہوئی۔
اکنوں یونس علی مسماۃ مہر النساء راسہ طلاق دادہ بلارضا ورغبت مہر النساء بزنِ دیگر نکاح نمود است دریں صورت مرقومہ بزوجہ ثانیہ یونس علی سہ طلاق واقع خواہد شد یا نہ، جناب فیضماب مولانا صاحب دام اقبالہم وفیضہم بعد سلام عرض اینکہ جواب سوال بزودی عنایت فرمودہ ممنون فرمایند چنانکہ نختین ہم مرہون منت وممتاز دارین فرمودہ بودند دریں باب نیز علماء مختلف اند بعضے طلاق ثانیہ قائلے ست وبعضے بعد مش مصر فیصلہ چیست و مفتی بہ ومختار کدام، نزدم کتب مختلفہ موجود نیست بناء علیہ مکلف شدم عفو فرمایند، والسلام۔
اب اس کے بعد یونس علی نے مسماۃ مذکور کو تین طلاقیں دے کر مہرالنساء کی رضا ورغبت کے بغیر دوسرانکاح کرلیا، تو مسئولہ صورت میں یونس علی کی دوسری بیوی کو تین طلاقیں ہوئیں یانہیں،جناب فیض مآب مولانا صاحب! آپ کا فیض واقبال ہمیشہ قائم رہے، سلام کے بعد وعرض ہے کہ اس سوال کا  جواب  جلدی عنایت فرماکر ممنون فرمائیں تاکہ ہم ہمیشہ ممنون احسان رہیں، اس مسئلہ میں دوسرے علماء بھی اختلاف کررہے ہیں، بعض دوسری بیوی کی طلاق پر مصر ہیں اور بعض اس کی طلاق نہیں مانتے، آپ کا فیصلہ اور فتوی کیا ہے اور مختار قول کیا ہے میں اپنے مختلف کتب نہ ہونے کی بناء پر تکلیف دے رہا ہوں، تکلیف پر معافی چاہتا ہوں، فقط، والسلام۔
الجواب :
اللّٰھم ھدایۃ الحق والصواب درصورت مستفسرہ قضیہ نظر فقہی تفصیل ست، اگر مہر النساء گوید کہ یونس علی ایں نکاح دوم بے رضا ورغبت من کردہ است، ویونس علی دریں معنی تصدیق بیانش کند زن پسیں ہم از وقت نکاح سہ طلاق شود ورنہ ہیچ طلاق وفراق نیست۔
اے اﷲتجھ سے حق وصواب (درستگی) کی رہنمائی کا طلبگار ہوں، مسئولہ  صورت میں شرعی فیصلہ فقہی نظر میں تفصیل طلب ہے، اگر مہرالنساء کہے کہ یونس علی نے یہ دوسرا نکاح میری رضاورغبت کے بغیر کیا ہے اور یونس علی اس کی تصدیق کرتا ہے تو دوسری بیوی کو نکاح کے وقت سے ہی تین طلاقیں ہوگئیں، ورنہ کوئی طلاق اور جدائی نہ ہوگی،
اقول وباﷲالتوفیق تحقیق مقام آنست کہ طلاق زن ثانیہ معلق بوقوع نکاحش متلبس باعدمِ رضاورغبت مہر النساء ست، پس ہم وقت نکاح ایں عدم بایدوتحقق شرط کہ مستلزم تحقق جزا وزوال عصمت است تسلیم او مرہون ثبوت شرعی است کہ اقرار زوج باشد یا اظہار بینہ اما البینۃ فلانھا کاسمھا مبینۃ، اما اعتراف الزوج فلانہ یملک الانشاء فلایزاحم فی الاخبار،
اقول وباﷲالتوفیق(اﷲ کی توفیق سے میں کہتا ہوں کہ)اس مقام کی تحقیق یہ ہے کہ دوسری بیوی کی طلاق، مہر النساء کی رضاورغبت کے معدوم ہونے سے مشروط ہے، تو شرط کا پایا جانا جزاء کے پائے جانے کو مستلزم ہوگا جس سے نکاح ختم ہوجائے گا لیکن اس کو تسلیم کرنا شرعی ثبوت پر موقوف ہے اور ثبوت شرعی خاوند کا اقراریا شہادت ہے، شہادت اس لئے ضروری کہ وہ معاملہ کو واضح کرتی ہے، اور زوج کا اقرار اس لئے کہ خاوند ہی طلاق کو نافذکرنے کا مالک ہے، لہذا حال کی خبر وہ خود ہی دے سکتا ہے ،
تنہا بیان مہر النساء در حق زوجہ ثانیہ شنودن ندارد کہ بیان یک زن حجت شرعیہ نیست خاصۃدر حق ضرہ کہ محل تہمت ست واقدام یونس علی بریں عقد بے استئذان مہر النساء مثبت شرط نتواں شد کہ شرط عدم رضا بود نہ ترک استرضا، وشتان ماہما، ولہذا علماء گفتہ اند کہ در تعلیق بالرضاعلم برضا در کار نیست، مثلاً شوہر حلف بطلان کردہ مرزنش را گوید کہ بے رضائے من بیروں نروی باز آہستہ گفت برو، زن نشنید یا شنید ونفہمید وبیروں رفت طالق نہ شود کہ بے رضا نرفتہ است، گوخود برضا مطلع مباش بخلاف اذن کہ او نباشد الابقول مسموع ومفہوم تاآنکہ دلائل واضحہ رضانیز آں جابکار نیا یدمثلا حلف کند بے اذنِ زن نیا شامم زن کا سہ بدست خود گرفتہ نو شاند وبرزبان ہیچ نگفت یا گفت وشوے نشنود یا مفہومش نشد حانث شود کہ اذن متحقق نگشت،
تنہا مہر النساء کا بیان دوسری بیوی کے متعلق قابل سماعت نہیں ہے کیونکہ ایک عورت کا بیان شرعی حجت نہیں ہے خاص کر اپنی سوکن کے بارے میں کہ تہمت کا احتمال ہے اور یونس علی کا مہر النساء سے اجازت طلب کئے بغیر یہ دوسرا نکاح کرنا طلاق کی شرط کے پائے جانے کے لئے کافی  نہیں ہے کیونکہ طلاق کی شرط مہر النساء کی عدم رضا ورغبت ہے نہ کہ اس سے اجازت طلب کرنا، جبکہ ان دونوں میں بڑا فرق ہے، اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ رضا کے ساتھ مشروط امر کے پائے جانے میں رضا کا علم ضروری نہیں بلکہ رضا کا پایا جانا ہی کافی ہے، مثلا ایک شخص نے طلاق کا حلف کہتے ہوئے اپنی بیوی کو کہا کہ تو میری رضاکے بغیر باہر مت جا۔ پھر آہستہ سے کہا جا، بیوی نے نہ سنا، یا سنا مگر سمجھا نہیں اور باہر چلی گئی تو طلاق نہ ہوگی ،کیونکہ  وہ رضا پر باہر گئی اگرچہ وہ خود رضا پر مطلع نہ ہوئی، اس کے برخلاف اگر رضا کی جگہ وہ اذن کا لفظ کہتا تو طلاق ہوجاتی کیونکہ اذن کے لئے ایسا قول ضروری ہے جو سنا اور سمجھا جاسکے حتی کہ وہاں اذن کی واضح دلیل بھی پائی جائے تو کار آمد نہ ہوگی، مثلاً خاوند نے بحلف کہا کہ میں بیوی کی اجازت کے بغیر نہ پیوں گا، اگر بیوی  اپنے ہاتھ سے پانی والا پیالہ دے اور وہ پی لے اور بیوی نے اس موقعہ پر اپنی زبان سے کچھ نہ کہا یا زبان سے پینے کو کہا مگر خاوند نے نہ سنا یا سنا مگر سمجھ نہ سکا، تو قسم ٹوٹ جائے گی کیونکہ اذن نہ پایاگیا،
 پس عدم اذن در محل شرط بہ بینہ ثابت تواں کردلان الشہادۃ علی النفی مقبولۃ فی الشروط اماباثبات عدم رضا ورغبت راہے نیست زیرا کہ او صفتے قلبی ست وعلمش از علوم غیبی، نہایت کار شہود چنگ بدلائل خارجہ زدن ست ودرہمچو

مقام امارات ظاہرہ اگر باچند ہر چہ تمامتر واضحہ باشد بکار نیاید، علماء فرمودہ اند زن را گفت اگر فلاں مومن ست تو طلاقہ وفلاں رامی بینم از صلحائے امصار واتقیائے روز گار ست اور ھزار گفتہ باشد من مومنم در حق تطلیق تصدیق نباشد وطلاق نیفتد تازوج بایں معنی اعتراف نکند زیرا کہ ایمان در دل ست وامارات ازینجا حجیت منعزل وشہادت فرداز قبول منفصل، باز ایں دلائل اگر بعد وقوع ایں نکاح ثانی یافتہ شد مثلاًمہر النساء را خبر رسید او روئےدرہم کشید یا پیش از نکاح منع ایں معنی می کرد وبرذکر او غضب می آورد خود بکار نیست زیرا کہ شرط بوقوع نکاح متلبسا بعدم الرضاست، دل ہر وقت بریک حال نیست،القلب یتقلب،
پس عدم اذن کی شرط ہوتو یہ گواہی سے ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ شرائط میں منفی پر گواہی سے ثابت کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ قلبی معاملہ ہے جس کا علم غیبی علوم میں سے ہے، جبکہ گواہی میں خارجی امور پر سہارا ہوتاہے اور ایسے قلبی حال پرکتنی ہی واضح علامات  کیوں نہ ہوں وہ کار آمد نہیں ہو سکتیں ،علماء نے فرمایا کہ خاوند بیوی کو کہے اگر فلاں شخص مومن ہے تو تجھے طلاق ہے، جبکہ فلاں شخص کو شہر میں نیک اور زمانہ کا پرہیز گار دیکھا جارہا ہواور وہ ہزار بار مومن ہونے کا دعوی کرے لیکن طلاق دینے کے معاملہ میں اس کی بات کی تصدیق نہ کی جائے گی اورطلاق نہ پڑے گی جب تک خاوند اس کے مومن ہونے کا اعتراف نہ کرے گا طلاق نہ ہوگی، کیونکہ ایمان دل میں ہے اس پر علامات یہاں حجت نہیں بن سکتیں اور کسی فردکی شہادت پر علامات یہاں مقبول نہ ہوں گی، پھر اگر یہ علامات نکاح ثانی کے بعد سر زد ہوں، مثلاً مہر النساء کو دوسرے نکاح سے قبل مہر النساء نے اس سے منع کیا ہو اور دوسرے نکاح کے ذکر پرناراض ہوئی ہو، یہ علامات بھی کار آمد نہیں ہوسکتیں کیونکہ شرط یہ ہے کہ دوسرا نکاح مہر النساء کے دل کی رضا مندی سے نہ ہوتوطلاق ہوگی، جبکہ دل کاحال بدلتا رہتا ہے،
پس عدم رضائے سابق ولاحق دلیل عدم مقارن نتواں شد الا بہ استصحاب در سابق یا قیاس در لاحق واینہمہ از ظاہر ست وظاہر واقع است نہ مثبت بلکہ آں سابق ولاحق نیز خود ظاہری  بیش نبود واﷲ علیم بذات الصدور  ،ایں ظاہر در ظاہر شد وضعف در ضعف راہ یافت واگر خود عین وقت ایں عقد دلائل غضب یافتہ شود علت منحصر دریں نیست اسباب غضب ہزار ست یمکن کہ یاد تطلیق خودش در غضب آوردہ باشد نہ عدم رضا بایں عقد، اطلاع بر آنکہ وجہ غضب چیست باز نیاز بآں آرد کہ آں وقت سخناں مہر النساء اور دستاویز نمایند ایں باز رجوع بہ بیان زن شدہ وشہادت شہود از میاں بر خاست بلے غالب عادت زناں خاصہ دریں بلاد وزماں ہمانست کہ نکاح ثانی شوہر ان پسند نکنند اگرچہ خود آنہا طلاقہ شدہ باشند، امااین ظاہربآنکہ ظاہر واز جمعیت قاصر ست ضعیف ترست،
پس پہلے یا بعد کی عدم رضا نکاح کے وقت ناراضگی دل کی دلیل نہیں بن سکتی، ہاں سابق ناراضگی استصحابِ حال اور بعد والی قیاس بن سکتی ہے، لیکن یہ سب کچھ ظاہری چیزیں جبکہ ظاہر واقع تو ہوسکتا مگر وہ مثبت نہیں بن سکتا بلکہ وہ سابق اور لاحق خود بھی ظاہر سے بڑھ کر نہیں ہیں، دل کی کیفیت تو اﷲ تعالٰی ہی جانتا ہے یہ جوکچھ ظاہر ہو ظاہری معاملہ ہے اور ضعف ہے جو کہ ضعف کا راستہ پاتا ہے بلکہ عین نکاح ثانی کے وقت بھی مہر النساء کا غصہ پایاجائے تو یہ بھی دلیل نہیں ہوسکتی کہ یہ دوسرے نکاح سے ناراض ہورہی ہے کیونکہ غصہ کی وجود کئی ہوسکتی ہیں ممکن ہے اس وقت نکاح عدم رضا کی وجہ سے نہ ہو، یہ معلوم کرنا کہ غصہ کی وجہ کیا ہے آخر کاردلیل اس کی یہی ہوسکتی ہے کہ مہر النساء نے دوسرے نکاح کے وقت غصہ کی باتیں کی ہیں یہ پھر بیوی کے بیان پر موقوف ہوا، اور درمیان میں گواہوں کی گواہی ناپیدرہی بلکہ تسلیم شدہ ہے کہ اس ملک میں موجودہ زمانے کی عورتوں کی عادت ہے کہ وہ خاوند کے دوسرے نکاح کو پسند نہیں کرتیں اگرچہ ان میں سے خود طلاق بھی حاصل کرچکی ہوں مگر یہ بات عادت بھی تو ظاہر معاملہ ہے اور نکاح کے وقت دل کی کیفیت پر دلالت قاصر اور ضعیف تر ہے،
بارہا زناں مطلقہ بلکہ معلقہ بدعا، آرزو کنند کہ شوہر پنجہ زنے بلایا سلیطہ کج ادا گرفتار آید تا کیفر کردار خود چشد وعذابے کہ ماراکردہ است خمیازہ اش کشد ورضا بچیزے را علم بآں چیزہم در وقت حدوث اورضروری نیست مثلاً پدر زید را تمنا است کہ زید بمنصب وزارت رسد در غیبت پدر وزیرش کردند گفتہ نشود کہ ایں وزارت بے رضائے پدرست پس وقوع ایں عقد بے اطلاع مہر النساء نیز محقق شرط نباشد، بالجملہ راہ باثبات ایں شرط نیست، جز باخبار مہر النساء مع تصدیق یونس علی، واصل کار ہماں اقرار یونس علی ست اگر یافتہ شد سہ طلاق بفور نکاح نقد وقت ثانیہ است کہ نامدخولہ محل سہ طلاق دفعی ست اگرچہ تفریق برنیابد کہ امتثال تعلیقات بزمان بقائے زوجیت زوجہ اولٰی مقتصر نیست ورنہ خیر۔
کیونکہ بارہا اور معلقہ عورتیں بدعائیں اور بری آرزوئیں کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ خاوند کا برا ہو اور کسی بری عورت کے پنجہ یا مصیبت میں گرفتار ہوتا کہ وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچے اور اس نے جو مجھے تکلیف دی اس کا خمیازہ بھگتے، کسی چیز پر رضا کو یہ لازم نہیں کہ اس چیز کے حدوث اور وجود کاعلم بھی ہو مثلاً زید کے والد کی تمنّا ہے کہ زید وزارت کے منصب تک پہنچے جبکہ والد کی عدم موجودگی میں زید کو وزیر بنادیاجائے تو یہ نہ کہا جائے گا کہ یہ وزارت والد کی رضا کے بغیر دی گئی ہے(غرضیکہ رضاوعدم رضا  پائے جانے کے باوجود یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ عین واقعہ کے وقت رضا موجود تھی) پس یونس علی کے دوسرے نکاح کامہر النساء کی اطلاع کے بغیر ہونا بھی شرط کا ثبوت نہیں  بنتا، حاصل یہ کہ دوسرے نکاح کے وقت مہر النساء کی عدم رضا کا اثبات سوائے اس کے ممکن نہیں کہ مہر النساء خود بتائے اور یونس علی اس کی تصدیق کرے بلکہ اصل دارومدار یونس علی کے اقرارپر ہے اگر اس کا یہ اقرار پایاجائے تو فوری طور پر دوسرے نکاح کو کرتے ہی دوسری غیر مدخولہ کو بیک وقت تین طلاقیں ہوجائیں گی، کیونکہ غیر مدخولہ بیوی بیک لفظ تین طلاقوں کا محل ہے اگرچہ متفرق طلاقوں میں تینوں کا محل نہیں، کیونکہ تعلیقات کاعمل پہلی بیوی کی زوجیت کی بقاء پر منحصر نہیں ہے اور اگر یونس علی کا اقرار نہ ہوتو خیر(یعنی طلاق نہ ہوگی)(ت)
حالابرخے از کلمات علماء برخوانیم وانچہ گفتہ ایم بپایہ اثبات رسانیم، وباﷲ التوفیق۔
اب ہم علماء کا کچھ کلام بیان کرکے اپنے مذکورہ موقف کوثابت کریں گے وباﷲ التوفیق۔
Flag Counter