Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
32 - 175
مسئلہ ۳۱: از جونپور مرسلہ مولوی عبدالاول صاحب ۲۸رمضان ۱۳۳۸ھ

زید نے اپنی زوجہ کے کابین نامہ میں منجملہ شرائط  ایک شرط یہ لکھی کہ اگر بغیر رجسٹری شدہ اجازت نامہ تم سے حاصل کئے ہوئے اور بغیر تمہارا کل مہر اداکئے ہوئے دوسرا نکاح کروں تو منکوحہ جدیدہ کومیری طرف سے تین طلاق ہوں گی، اب صورت حال یہ ہے کہ زوجہ نے مہر معاف کردیا اور اجازت نامہ نکاح بلارجسٹری شدہ شوہر نے حاصل کرکے دوسرا نکاح کرلیا،اب شرعاً اس مسئلہ میں کیا حکم ہے کہ اجازت نامہ بلارجسٹری شدہ ہے اور ایفائے مہر نہیں پایا بلکہ زوجہ نے معاف کردیا تو منکوحہ جدیدہ مطلقہ ہوگی یانہیں؟
الجواب 

فقیر شب ہلال ماہ مبارک سے بغرضِ علاج بعض اعزہ اس پہاڑ پر آیا ہوا ہے، وطن سے دور، کتب سے مہجور، بظاہر مقتضائے نظر فقہی یہ ہے کہ صورت مستفسرہ میں طلاق نہ ہوگی کہ ایفاسے مقصود برأت ذمّہ ہے وہ حاصل اور رجسٹری کہ وقت انکار تحفظ کے لیے ہوتی ہے  جب عورت نے اجازت دے دی اجازت نامہ لکھوا دیا اصل مقصود حاصل ہوگیا جیسے عورت سے کہا اگر کل مجھے فلاں چیز لاکر نہ دے یا فلاں چیز لے کر نہ آئے تو تجھ پر طلاق، اس نے چیز کسی کے ہاتھ بھیج دی، طلاق نہ ہوئی جبکہ مقصود اس شئے کا پہنچنا ہو۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۲: از محکمہ شرعیہ نل بازار بمبئی مسئولہ سید حسین صاحب نائب قاضی ۱۹رمضان ۱۳۳۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک شخص نے ایک اقرار نامہ اپنی زوجہ کو لکھ دیا جس میں ایک شرط یہ تھی کہ اگر منمقر اپنی توبہ کا پابند نہ ہوااور خلافِ شرع کوئی فعل کرے تو اسی وقت میری زوجہ کو اختیار ہوگاکہ وہ بلااجازت میری اپنے ورثاء کے یہاں یا اپنے باپ بھائی کے یہاں فوراً چلی جائے یا اس کے ورثاء بلامیری دریافت کے اسے لے جائیں اور اس خلاف ورزی شرع شریف میں میری جانب سے میری زوجہ کو طلاق قطعی سمجھی جائے نیز میری زوجہ کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ بموجب ہوجانے طلاق طلاق شرعی کے بعد میعاد عدت اپنا نکاح ثانی خود کرلے یا اس کے ورثاء اس کا نکاح ثانی جہاں اس کی خوشی ہو کر دیں مجھ کو اس میں کسی قسم کا عذر نہ ہوگا اگر وہ اپنے تحریر کردہ شرط کی خلاف شرط کی ورزی کرکے تو طلاق ہوئی یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب

صورت مستفسرہ میں طلاق نہ ہوئی،
کما بیناہ فی فتاوٰنا ونص فی الخانیۃ ف ان احسبی انک طالق لیس بطلاق۱؎۔
جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے، اور خانیہ میں نص موجود ہے کہ خاوند کا بیوی کو کہنا کہ ''تو طلاق سمجھ لے'' یہ طلاق نہیں ہے،
ف: خانیہ کے الفاظ اس طرح ہیں:لایقع الطلاق وان نوی کانہ قال لھا بالعربیۃ احسبی انک طالق وان قال ذٰلک لایقع وان نوی۔نذیر احمد سعیدی)
 (۱؎ فتاوی قاضیخان     کتاب الطلاق     نولکشور لکھنؤ    ۲ /۲۱۰)
وفی الھندیۃ عن الخلاصۃامرأۃ قالت لزوجھا مرا طلاق دہ فقال دادہ انگار او کردہ انگارلایقع وان نوی۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ کسی عورت نے اپنے خاوند کو کہاکہ''مجھے طلاق دے'' تو خاوند نے جواب میں کہا''تو اس کو طلاق دی ہوئی یا طلاق کی ہوئی سمجھ لے'' تو طلاق نہ ہوگی اگر چہ اس سے طلاق کی نیت کی ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 ( ۱؎ فتاوی ہندیۃ     الفصل السابع بالالفاظ الفارسیۃ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۰)
مسئلہ۳۳و۳۴: از سرائے بھنولی ڈاک خانہ شاہ گنج ضلع فیض آباد مرسلہ محمد فیض اﷲ صاحب ۲۰جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسائل ذیل میں:

(۱) ایک اقرار نامہ مندرجہ ذیل مضمون کا لکھا گیا جس کے کل شرائط ولی ہندہ کے مقرر کئے ہوئے ہیں جو کہ مضمون اقرار نامہ سے صاف ظاہر ہے اور محمد شفیع کی طرف سے کوئی شرط مقرر نہیں کی گئی اور نہ اس کو قرار داد شرط کی اجازت دی گئی حالانکہ اقرار نامہ کے ایک لفظ سے بھی محمد شفیع کو اتفاق نہیں تھا اور نہ اس کا کوئی معاون وولی تھا کہ کچھ عذر کرتا، ولی ہندہ ایک زبردست واہل مقدور شخص ہے اس نے بالجبر محمد شفیع سے دستخط کرالیا، پس یہ اقرار نامہ شرعاً معتبرہے یاکہ غیر معتبر؟بینواتوجروا۔

(۲) قبل تحریر اقرار نامہ ولی ہندہ جو کہ بمقابلہ محمد شفیع ہر حالت میں بدرجہا زور آور واہل مقدور تھا بیکس وبے بس محمد شفیع سے بالجبر طلاق لینے پر آمادہ تھا مگر اس وقت محمد شفیع کچھ گریہ وزاری سے منت وسماجت کی کہ اس کا اثر اس پر کار گر ہواورنتیجہ یہ ہوا کہ طلاق سے تو باز رہے مگر اقرار نامہ مذکورہ ذیل پر دستخط کرالیا محمد شفیع نے اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر دستخط کردیاکچھ دن کے بعد محمد شفیع رنگون چلا گیا اور تھوڑے عرصے تک حسبِ وسعت مبلغ بیس بچیس روپیہ ہندہ کو روانہ کیا مگر کچھ عرصہ تک بوجہ مجبوری خرچ روانہ نہ کرسکا البتہ خطوط روانہ کرتا رہا اور اسکے ذریعہ سے اپنی مجبوری ظاہر کرتا رہا اور بعد کو بھی تین چار روپیہ روانہ کیا اب محمد شفیع قریب ساڑھے تین سال کے بعد رنگون سے واپس آیا اور وجہ عدم ادائیگی خرچ میں یہ عذر بیان کیا کہ میں سخت جل گیا تھا اور کوئی امید زندگی نہ تھی، چنانچہ چھ ماہ میں ہسپتال میں پڑا رہا(جلنے کا حال زبانی آئند گان آنصوبہ سے بھی سنا گیا اور اب بھی اس کے جسم پر نشان دیکھا گیا یعنی موجود پایاگیا) اس حالت میں مبلغ پچاس روپیہ کا قرضدار ہوگیا بعد صحت چند روز بیکار رہااور جب کامیاب ہوا تو قرض ادا کیا بقیہ زادِ راہ میں صرف ہوا عدم روانگی خرچ سے ہندہ بوجہ اہل مقدور ہونے اپنے ولی کے محتاج نان ونفقہ نہ تھی علاوہ اس کے قریب دو صد روپیہ کی مالیت کا زیور کہ ملکیت محمد شفیع تھی اس کے پاس موجود تھے غرضیکہ ہندہ اور اس کے ولی کو نسبت نان ونفقہ وعدم روانگی خرچ کوئی شکایت نہیں ہے اور سب اس سے رضا مند ہیں پاس سوال یہ ہے کہ بحالت صحت اقرار نامہ ایسی صورت میں ہندہ زوجیت سے خارج ہوئی یانہیں؟بینواتوجروا۔
نقل اقرار نامہ
منکہ محمد شفیع ولد عبدالقادر متوفی ساکن موضع سرائے بھنولی پر گنہ کچرانہ تحصیل کالو ضلع فیض آبادام، چونکہ باغوائے شیطان چند افعال ناجائز مجھ سے آج تک ہوتے رہے میں نے اپنی منکوحہ مسماۃ ہندہ بنت محمد ٰیسین خاں کے نان نفقہ سے بالکل غافل تھا حتی کہ میں نے آج تک ادنٰی ضرورت بھی اس کی رفع نہ کی اور خلافِ حکم خدا رسول (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) اس کے نان نفقہ سے بالکل بے خبر تھا، مگر اب میں اپنے افعال شنیعہ اور سرا سر غفلت وبے فکری سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ کے لئے اقرار کرتا ہوں کہ مطابق مرضی منکوحہ اور اس کے والدین کے ہر ایک فعل کی پابندی کرتا رہوں گا اور جو کچھ وہ لوگ کہیں گے اس پر عملدرآمد کروں گا اور اپنے گھر سے غیر ملک نہ جاؤں گا حسبِ اتفاق اگر غیر ملک جانے کے موقع نہ ہو اور میں چلا جاؤں تو اپنی منکوحہ کے نان ونفقہ کی خبر گیری کرتا رہوں گا اگر ایسی غفلت کروں یعنی اپنی منکوحہ کا نان نفقہ وخبر گیری نہ کروں تو وہ عدم خبر گیری میری بجائے طلاق ثلاثہ کے سمجھی جائے اور پھر مجھ کوکوئی عذر نہ ہوگا، لہذا یہ چند کلمات بطور اقرار نامہ کے لکھ دئے تاکہ سندرہے اور عندالضرورت کام آئے، فقط بقلم محمد فیض اﷲ۹جولائی ۱۹۱۵ء  العبد محمد شفیع بقلم خود۔
الجواب

فرصت غنیمت سمجھ کر دستخط کردیا جبر واکراہ نہیں مگر وہ اقرار نامہ بذاتہ خود ہی باطل و مہمل ہے،اگر محمد شفیع بے کسی قریب کے آپ ہی لکھتا اور پھر بلاضرورت غیر ملک کو چلاجاتا اور قصداً بلاعذر خبر گیری زوجہ سے دستکش رہتا اور ایک پیسہ کبھی نہ بھیجتا جب بھی اس باطل اقرار نامہ کی رو سے اصلاً طلاق نہ ہوسکتی وہ اس میں طلاق نہیں کہتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ میری عدم خبر گیری کو بجائے طلاق ثلثہ سمجھا جائے،''یہ سمجھ کر'' صریح باطل ہے عدم خبر گیری ایک طلاق بھی نہیں  ہوسکتی نہ کہ تین طلاق کی جگہ اور باطل سمجھ کی اجازت دیں باطل،جیسے کوئی کہے اگر میں نہ آؤں تو دیوار کو طلاق سمجھ لینا کیا اس کے کہنے یا کسی کے سمجھ لینے سے دیوار طلاق بن جائے گی اور جب وہ اجازت وقول وفہم سب باطل ہے اور باطل پر کچھ اثر مرتّب نہیں ہوسکتا لہذا وہ اقرار نامہ مہمل ہے اور طلاق اصلاً نہ ہوئی،
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لوقال الزوج دادہ انگار او قال کردہ انگار لایقع الطلاق وان نوی کانہ قال لھا بالعربیۃ احسبی انک طالق وان قال ذٰلک لایقع وان نوی۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر خاوند نے کہا''تو طلاق ہوئی سمجھ'' یا کہا''توطلاق کی ہوئی سمجھ'' تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت کی ہو، کیونکہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی عربی میں کہے' ترجمہ: تو خیال کرلے کہ تو طلاق والی ہے'' تو یہ بات کہنے سے طلاق نہ ہوگی، اگرچہ طلاق کی نیت بھی کرلے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ فتاوی قاضیخان    کتاب الطلاق     نولکشور لکھنؤ     ۱ /۲۱۰)
Flag Counter