| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۲۹: از صدر بازار چھاؤنی نیمچ محلہ بڑی منڈی مرسلہ چودھری ننھے سود اگر چرم۲۵جمادی الاولٰی۱۳۳۶ھ بکر نے شادی زید کے ساتھ اپنی دختر کی کی جس کو عرصہ ۹ سال کا ہوا بکر اور زید دونوں فقیر ہیں بوقت شادی زید کی عمر ۱۵، ۱۶ سال کی تھی اور لڑکی کی قریباً سولہ سال کی،شادی ہوتے ہی زید کے ہمراہ بھیج دی گئی تین ماہ بعد بکر کے یہاں آئی اور پھر چھ ماہ بعد زید کے ہمراہ بھیج دی گئی چھ ماہ بعد زید مع اپنی بی بی کے بکر کے یہاں آیا اور رہنے لگے چار ماہ بعد زید چلاگیا اور چوری کی علت میں گرفتار ہوگیا، بکر زیدکو چھڑا کر لے آیا مگر آٹھ دس روز کے بعد پھر کسی کی چیز لے کر بھاگ گیا بکر پھر اس کو لے آیا کوئی ایک ماہ رہا پھر ایک بقال کا غلہ چرا کر بھاگ گیا ڈھائی ماہ بعد پھر زید آگیا اور اقرار نامہ منسلکہ تحریر کردیا، کوئی دو ماہ بعد زید اپنی عورت سے مار پیٹ کرکے جبراً زیور لے کر بھاگ گیا کوئی تین ماہ بعدذات کی پنچایت ہوئی اور پنچوں نے پنچنامہ منسلکہ تحریر کیا زید کوئی چھ ماہ بعد پھر بکر کے پاس آکر رہنے لگا اور دو ماہ بعد لوگوں کے برتن وغیرہ لے کر بھاگ گیا اس وقت اس کی عورت کاحمل تھاایک سال کے بعد زید کا باپ زید کی عورت کو لینے آیا زید کی عورت نے جانے سے انکار کیا پھر زید کو بذریعہ خطوط وغیرہ بلایا گیا جسے عرصہ آٹھ ماہ کا منقضی ہوا ہے نہ زید آیا نہ خطوں کا جواب دیا، قریب ایک سال کے زید کی بی بی بچّے کا بار بکر پر ہے، زید کی عورت زید کے پاس رہنے سے نارضا مند ہے، ایسی صورت میں زید کی عورت کا دوسرانکاح ہوسکتا ہے یانہیں؟
نقل اقرارنامہ
میں کہ سبور شاہ ولد مدھاری شاہ فقیر ساکن موضع رسینٹ ماریہ علاقہ شاہ پور کاہوں جوکہ میری شادی ہمراہ مسماۃ مایلی بنت کنور دی شاہ فقیر ساکن چنادی نیمچ ہوئی ہے، بعد شادی کے میں بخانہ کنوردی شاہ خسر خودرہا اور موضع رسینٹ ماریہ بھی بوجہ تنازع چلاگیا اب کہ میں بخانہ کنوردی شاہ خسر خود رہ کر زندگی خود بسر کرنا چاہتا ہوں، لہذا اقرار کرتا ہوں اور لکھ دیتا ہوں کہ میں تازندگی خود بخانہ کنوردی شاہ رہوں گا اور جو کچھ کما کر یا مانگ کر لاؤں گا وہ اپنے خسر وزوجہ وخوشدامن کو دوں گا اور زوجہ خود کو کسی طرح کی تکلیف نہ دوں گا نہ ماروں گا اور نہ کوئی فعل خراب کروں گا اور برتقدیر کہیں باہر چلاجاؤں تو اس کی اطلاع کنوردی شاہ وزوجہ خود واہلِ محلہ سے کردوں گا اگر میں چنادی بخانہ خسر نہ رہوں یا کوئی خراب فعل کروں اور بدون اجازت کے چنادی سے چلا جاؤں تو کنوردی شاہ خسر میرے کو اختیار ہے کہ دوسری جگہ زوجہ میری کا نکاح کردے میں کوئی طرح کا دعوٰی جھگڑا کچہری وپنچوں میں نہ کروں گا، بناء براں یہ چند کلمے بطور اقرار نامہ لکھ دئے کہ سند رہے،۲۵جمادی اولٰی ۱۳۳۶ھ(۳۰دسمبر) العبد نشانی انگوٹھا سپورف شاہ گواہ شد گواہ شد گواہ شد گواہ شد اﷲ بخش ولد شیخ کلوچودھری قمرالدین ولد شیخ گیا نتھن ولد منا بورپاری رحیم بخش ولد سعدی مجاور
الجواب جب تک طلاق ثابت نہ ہو یا وہ مر نہ جائے عورت کا نکاح دوسری جگہ نہیں ہوسکتا، وہ اقرار جو اس نے لکھاثبوت طلاق کےلئے کافی نہیں، ہاں اگر وہ اقرار کرے کہ اس اقرار نامہ سے میری مراد عورت کو طلاق دینا تھی، یہ جو اس نے کہا کہ ایسا کروں تو خسر کو اختیار ہے کہ جس سے چاہے اس کا نکاح کردے اس سے مراد یہ تھی کہ ایسا کروں تو اسے طلاق ہے تو اس صورت میں طلاق ثابت ہوجائیگی، اور جبکہ وہ یہ سب باتیں کرچکا تو اسی وقت سے عورت نکاح سے نکل گئی، اور اگر وہ اقرار نہ کرے تو اس سے قسم لی جائے، اگر قسم کھالے گا کہ میں نے ان لفظوں سے طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو وہ بدستور اس کی عورت ہے دوسری جگہ نکاح حرام قطعی ہے اوراگر قسم کھانے سے انکار کرے گا توطلاق ثابت ہوجائے گی، اور اگر عدت گزرگئی یا اب گزرجائے تو دوسری جگہ نکاح جائز ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۰: از جھالود ضلع پنچ محال گجرات احاطہ بمبئی مرسلہ شیخ عمر ولی ڈاہیا ۱۷ذی القعدہ۱۳۳۶ھ محمد آدم ساکن مورا نے ابراہیم ساکن جھالود اس کی لڑکی کی شادی کا پیام کیا، ابراہیم نے کہا کہ مجھ کو چند شرطیں لکھ دو تو میں تم سے شادی کردوں، محمد آدم نے قبول کیا اور کہا کہ جو شرط کرو بخوشی منظور ہے، بعد اس کے مسمی آدم نے ایک اسٹامپ تحریر کردیا، تحریر ذیل مسماۃ فاطمہ بنت ابراہیم ساکن جھالود عمر ۱۶سال محمد آدم ساکن موراعمر۱۶سال، میں تمہارے ساتھ برسم برادری شادی کرتا ہوں، بعد شادی ہونے کے ہم اور تم بطور مرد عورت کے رہیں گے، بعد میں اس کے متعلق اقرار نامہ برادری کی رسم کے مطابق زیور ۱۷۵تولہ چاندی کے بعوض مہر دیتا ہوں اس زیو ر پر میرا کسی قسم کا حق نہیں، اور اقرار کرتا ہوں کہ اپنا وطن مورا چھوڑکر جھالود میں سکونت کروں گا باوجود اس کے اگر میری نیت میں فرق اور تم مارپیٹ کرکے جھالود سے دوسری جگہ یا کوئی گاؤں یا جھالود سے باہر لے جاؤں توبغیر طلاق کے طلاق طلاق طلاق واقع ہو،یہ اقرار نامہ صحیح میں نے لکھ دیا مجھے اور میرے وارثوں کو منظور ہے سوائے اس کے میں تم کو بارہ۱۲ ماہ کے اندر راضی اور خوش رکھوں گا اور رہوں گا اگر خلاف اس کے کروں تو تحریر بالا کے مطابق سمجھنا، یہ لکھا ہو اصحیح ہے، اگر بارہ ماہ تک میں تم سے جد ارہوں یا دوسری جگہ چھوڑ کر چلاجاؤں تو طلاق سمجھنا یہ لکھا ہو ادرست ہے بعد تحریر دستاویز مذکور لڑکی کو سنایا گیا لڑکی نے قبول کیا، ستائیس۲۷ روز بعد برسم برادری بشرائط مرقومہ بالاشادی کرکے لڑکی کو رخصت کیا۔تین سال تک جھالود میں رہی بعد تین سال کے ایک روز بلارضامندی عورت کے جھالود سے جیبرن گاؤں میں سوار کرکے چلا، قریب پون میل گیاہوگا کہ اس کے والد کو معلوم ہو ا کہ لڑکی کو لے گیا اس وقت وہ خود اور برادری کے تین چار آدمی دوڑ کرگئے اور گاڑی روک لی، لڑکی سے دریافت کیا کہ تو کہاں جاتی ہے؟کہا میں بخوشی نہیں جاتی بلکہ مجھے مارپیٹ کر جیبرن لئے جاتاہے، لڑکی سےکہا کہ گاڑی سے اتر، فوراً اترآئی، محمد آدم سے کہا کہ تونے اقرار نامہ لکھ دیا ہے اور کہاں لئے جاتا ہے، جواب دیا کہ میں اپنے گاؤں نہیں لے جاتا دوسری جگہ لے جاتا ہوں یعنی خود دکان کرنے جاتا ہوں، انہوں نے کہا کہ تم نے شرط توڑدی اس لئے عورت کو طلاق ہوگئی، پھر قاضی کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ تو نے شرطی دستاویز لکھ دیا ہے کہاہاں بیشک میں نے لکھ دیا ہے اور میں موری نہیں لے جاتا ہوں دوسرے گاؤں خود ہی جاتا ہوں۔
الجواب شرط میں اپنے گاؤں کی تخصیص نہ تھی اس کا عذر غلط ہے اس میں عام تھا کہ جھالود سے کسی دوسری جگہ لے جاؤں لیکن شرط میں ما ر پیٹ کر لے جانا ہے، اس کا ثبوت یاتو گواہان ثقہ سے ہو یا آدم اقرار کرے کہ ہاں مارپیٹ کرلے گیا فقط عورت کا کہنا کافی نہیں اگر گواہان یا اقرار سے مارپیٹ کرلے جانا ثابت ہوتو تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتی۔
قال اﷲ تعالٰی فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اگرخاوند تیسری طلاق دے دے توعورت حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۳۰)
اور اگرگواہ نہ ہوں یا وہ گواہ ثقہ شرعی نہ ہوں اور آدم مار پیٹ کرلے جانے کا اقراربھی نہ کرے تو آدم سے حلف لیا جائے اگر حلف کرے گا کہ مار پیٹ کر نہیں لے گیاتو طلاق نہ ہوگی اور اس حلف کا حاکم کے سامنے ہونا ضرور نہیں مکان پر بھی لیا جاسکتا ہے،
درمختار میں ہے:
یکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ۱؎۔
بیوی کا خاوند سے اپنے گھر میں ہی قسم لے لینا کافی ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)
پھر اگر حلف کرلے اور عورت جانتی ہو کہ اس نے جھوٹا کیا، تو عورت پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو تین طلاقوں سے مطلقہ سمجھے اور بوجہ طلاق نہ ثابت ہونے کے بذریعہ حکومت جبر نہیں کرسکتی لہذا اپنا مہر چھوڑ کر یا اور مال دے کر اس سے اعلانیہ طلاق لے، اگر طلاق نہ دے تو جس طرح جانے اس کے پاس سے بھاگے اور اگر اس پر بھی قدرت نہ ہوتو مجبور ہے اور وبال شوہر پر ہے، ردالمحتار میں ہے:
اذا سمعت اواخبرھا عدل لایحل لھا تمکینہ بل تفدی نفسھا بمال اوتھرب فان حلف ولابینۃ لھا فالاثم علیہ اذالم تقدر علی الفداء اوالھرب۲؎(باختصار)
اگر خود عورت، مرد کی طرف سے تین طلاقیں سن لے، یا کسی عادل شخص نے اس کو یہ اطلاع دے دی تو پھر بیوی کو حلال(جائز) نہیں کہ وہ خاوند کو اپنے پر جماع کا موقعہ دے بلکہ جیسے بن پڑے مال دے کر اعلانیہ طلاق لے یا بھاگ کر اپنے کو بچائے، اور اگر خاوند طلاق نہ دینے کی قسم کھالے اور طلاق پر عورت کے پاس گواہ نہ ہوں اور بیوی مال کے بدلے یا بھاگ کر اپنے آپ کو نہ بچا سکے تو اب گناہ خاوند پر ہوگا(باختصار)۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۳۲)