Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
30 - 175
مسئلہ۲۸: از بریلی مرسلہ مولوی بشیرالدین صاحب وکیل ۱۱جمادی الاول  ۱۳۲۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اقرار نامہ مصدقہ رجسٹری میں معاہدہ حسبِ ذیل اپنی منکوحہ بی بی سے کیا وہ معاہدہ جائز ہے یانہیں؟اور اس معاہدہ کا نفاذ ہوسکتا ہے یانہیں جو کہ مسماۃ مشتری جان طوائف دختر با داﷲ زوجہ منکوحہ مقر کی ہے مسماۃ مذکور مقر سے خواستگار اجازت مسماۃ مذکور نے کی ہے لہذا بصحت نفس وثبات عقل بخوشی خاطر اپنے بلاکسی جبر ودباؤ کے اچھی طرح سمجھ کو مسماۃ مشتری جان مذکور کو اجازت دیتا ہوں کہ پیشہ ناچنے وگانے کا جس طور سے سابق دستور کرتی چلی آئی ہےبدستور جاری وقائم رکھے اور بغرض مدد کرنے ناچ و گانے کے خواہ بداؤں سکونت رکھے یا دیگر جگہ قیام کرے میں کسی وقت اور کسی حالت میں مانع اور مزاحم یا حارج نہیں ہوں گا اگر میرے فعل یا ترک فعل سے کسی وقت میں مسماۃ مذکور کا نقصان یا حرج واقع ہوتو ایسی حالت میں نکاح فسخ ہوجائے گا اور مسمّاۃ کوہرقسم کی آزادی حاصل ہوگی لہذا یہ اقرار نامہ بلانالش لکھ دیا کہ سند رہے، واضح ہے کہ معاہدہ کرنے والا شریف خاندان کنچنے وغیرہ سے نہیں ہے اور ان الفاظ کی تحریر سے نکاح فسخ ہوجائے گا یانہیں اور شوہر اسے اجازت ناچنے وگانے کی اور دیگر جگہ اسے کام کے واسطے اجازت دے سکتا ہے یانہیں؟اور اسے اجازت جائز ہے یانہیں؟
الجواب

ایسی اجازت حرام قطعی ہے اور اجازت دینے والا دیّوث ہے، اگر توبہ نہ کرے تو اس پرجنت حرام، اور اس پر اﷲکی لعنت ہے۔رسول اﷲصلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث ورجلۃ النساء۱؎۔ رواہ حاکم والبیہقی فی شعب الایمان عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند صحیح۔
تین شخص جنت میں نہ جائیں گے اپنے ماں باپ کو ناحق ایذا دینے والا اور دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت(اس کو حاکم نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ت)
(۱؎ المستدرک للحاکم     کتاب الایمان     دارالفکر بیروت     ۱/۷۲)

(شعب الایمان     باب فی الغیرۃ والمذاء حدیث ۱۰۷۹۹ دارالکتب العلمیہ بیروت۴/۴۱۲)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
ثلثۃ لایدخلون  الجنۃ ابدا الدیوث والرجلۃ من النساء ومدمن الخمر۲؎۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند حسن۔
تین شخص کبھی جنت میں نہ جائیں گے دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت اور شرابی (اس کو طبرانی نے کبیر میں سند حسن کے ساتھ عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت)
 (۲؎ شعب الایمان     باب فی الغیرۃ والمذاء حدیث۱۰۸۰۰ دارالکتب العلمیہ بیروت۴ /۴۱۲)

(مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی     باب فیمن لایرضی باہلہ بالخبث    دارالکتاب العربی ۴ /۳۲۷)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم:
ثلثۃ قد حرم اﷲ علیہم الجنۃ مدمن الخمر والعاق لوالدیہ والدیوث الذی یقرفی اھلہ الخبث۱؎۔ رواہ احمد والنسائی والبزار والحاکم وقال صحیح الاسناد۔
تین شخصوں پر اﷲ تعالٰی نے جنت حرام فرمادی ہے شرابی اور ماں باپ کا موذی اور دیوث کہ اپنے اہل میں گندی بات برقراررکھے(اس کو احمد، نسائی، بزار اور حاکم نے صحیح الاسناد کہہ کر روایت کیا۔ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     مروی از ابن عمر رضی اﷲ عنہ         دارالفکر بیروت    ۲ /۶۹)
رہی طلاق اس کا حکم یہ ہے کہ فسخ نکاح کنایات سے ہے اگر شوہرنے اس لفظ سے طلاق مراد لی ہے طلاق پڑجائے گی ورنہ نہیں،      درمختار میں ہے:
اذھبی الٰی جھنم یقع ان نوی خلاصۃ وکذا اذھبی عنی وافلحی وفسخت النکاح ۲؎۔
''جہنم میں جا'' طلاق کی نیت سے کہاتو طلاق ہوجائیگی، خلاصہ۔ اور اگر یوں کہا''میرے پاس سے چلی جا، تو فلاح پالے، اور میں نے نکاح فسخ کیا'' اور ان صورتوں میں طلاق کی نیت سے طلاق ہوجائیگی۔(ت)
 (۲؎ درمختار         باب الکنایات         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۶)
عالمگیری میں ہے:
لوقال فسخت النکاح ونوی الطلاق یقع۳؎۔
اگر کہا''میں نے نکاح فسخ کیا'' اور طلاق کی نیت کی تو طلاق ہوجائے گی۔(ت)
 (۳؎ فتاوی ہندیہ     الفصل الخامس فی الکنایا ت         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۵)
یہی حال آزادی کا ہے پس صورت مسئولہ میں اگر شوہر اقرار کرےکہ یہ الفاظ اس نے بہ نیت طلاق لکھے تھے تو بحال وقوع عورت پر ایک طلاق بائن ہوجائے گی اور اگر وہ اقرار نہ کرے تو اس سے قسم لی جائے گی قسم کھانے سے انکار کردے تو اب بھی جبکہ شرط واقع ہوئی ہو، وقوعِ طلاق کا حکم ہوگا اور اگر قسم کھالی کہ واﷲ میں نے یہ الفاظ بہ نیت طلاق نہ لکھے تھے تو حکم طلاق نہ ہوگا عورت بدستور اس کی منکوحہ رہے گی، پھر اگر وہ جھوٹ قسم کھالے گا تو اس کا وبال اس پر ہے عورت پر الزام نہیں۔
درمختار میں ہے:
نحواخرجی یحتمل رداونحوخلیۃ یصلح سبا ونحو انت حرۃ لایحتمل السب والرد ففی حالۃ الرضاای غیر الغضب والمذاکرۃ تتوقف الاقسام الثلثۃ تاثیرا علی نیۃ للاحتمال والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما مجتبی ۱؎اھ ملتقطا، واﷲتعالٰی اعلم۔
''نکل جا'' جیسے الفاظ رد وجواب سوال طلاق کا احتمال رکھتے ہیں، خلیہ۔ جیسے الفاظ گالی ہونے کااحتمال رکھتے ہیں، اور ''تو آزاد ہے'' جیسے الفاط سب ودشنام اور جواب ہونے کا احتمال نہیں رکھتے، توحالت رضامندی میں یعنی غصہ کی حالت میں نہ ہو اور مذاکرہ طلاق بھی نہ ہو تو یہ تینوں قسم کے کنایا ت کی تاثیر نیت پر موقوف ہوگی، کیونکہ نیت اور عدم نیت کا احتمال ہے، اور طلاق کی نیت نہ ہونے میں خاوند کی بات کو معتبر سمجھا جائے گا اور بیوی کا اس سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہے، اور اگر خاوند گھر میں بیوی کو قسم دینے سے انکار کرے تو بیوی حاکم کے پاس اپنا معاملہ پیش کرے، وہاں بھی اگر خاوند انکار کرے تو بیوی حاکم کے پاس اپنا معاملہ پیش کرے، وہاں بھی اگر خاوند انکار کرے تو قاضی دونوں میں تفریق کردے اھ ملتقطا، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الکنایات     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۴)
Flag Counter