Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
3 - 175
جواب سوال دوم : اگر یہ شرط ایجاب وقبول سے پہلے کی اگرچہ اس کے متصل بلافصل ہی ایجاب وقبول واقع ہوئے جب تو محض باطل وبے اثر ہے
لعدم الملک والاضافۃ جمیعا
 (ملکیت اور اس کی طرف اضافت بھی نہ ہونے کی وجہ سے۔ت) پس اگر سو نکاح بے اجازت ہندہ کرےگا ہندہ پر طلاق نہ ہوگی اور اگر بعد ایجاب وقبول کی اگرچہ فوراً بلاتاخیر تو یقیناً صحیح ہوگئی
لو قوعہ فی الملک
(ملکیت میں وقوع کی وجہ سے۔ت) اب جب تک ہندہ اس کے نکاح یا عدت طلاق غیر مغلظ میں بے اجازت ہندہ نکاح ثانی کرے گا ہندہ پر تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
فی الدرالمختار الصریح یلحق الصریح والبائن بشرط العدۃ ،الصریح مالایحتاج الٰی نیۃ، بائناکان الواقع بہ اورجعیا فتح فمنہ الطلاق الثلاث فیلحقھما۲؎اھ ملخصاً۔
درمختار میں ہے: صریح طلاق، صریح اور بائنہ کو لاحق ہوسکتی ہے بشرطیکہ وہ پہلی بائن کی عدت میں واقع ہو۔ صریح وہ ہوتی ہے جس میں نیت کی ضرورت نہ ہو خواہ اس سے رجعی طلاق  پڑے یابائنہ پڑے، فتح، تو اسی قبیل سے مغلظہ طلاق  ہے تو یہ رجعی اور بائنہ دونوں کو لاحق ہوسکتی ہے، اھ، ملخصاً(ت)
 (۲؎ درمختار         باب الکنایات      مطبع مجتبائی دہلی      ۱ /۲۲۵)
ہاں اگر اس نکاح ثانی سے پہلے ہندہ کو طلاقیں ایک یا دو۲دیں اور عدت گزرگئی اور اسی حالت میں کہ وہ اس کے نکاح سے باہر ہے بے اس کی اجازت کے نکاح  ثانی کیا تو ہندہ پر طلاق نہ ہوگی کہ اس حالت میں وہ طلاق کی  محل ہی نہیں اور اس نکاح ثانی سے وہ تعلیق ختم ہوجائے گی یہاں تک کہ اب اگر ہندہ سے پھر نکاح کرے اور اس کے بعد کتنے ہی نکاح بے اجازت ہندہ کرے تو ہندہ پر طلاق نہ ہوگی، یونہی اگر ہندہ کو قبل از نکاح ثانی تین طلاقیں دے دیں تو اب کسی صورت میں نکاح ثانی بے اجازت ہندہ سے ہندہ پر طلاق نہ پڑے گی اگر چہ یہ نکاح اس وقت کرے جبکہ ہندہ بعد حلالہ اس کے نکاح میں آچکی ہو
لانتھاء التعلیق بتنجیز الثلاث
 (تین غیر معلق طلاقوں کے باعث تعلیق ختم ہونے کی وجہ سے۔ت)
ہدایہ میں ہے:
زوال الملک بعد الیمین لایبطلھا لبقاء محلہ فبقی الیمین ثم ان وجد الشرط فی ملکہ انحلت الیمین ووقع الطلاق وان وجد فی غیر الملک انحلت الیمین لوجود الشرط ولم یقع شیئ لانعدام المحلیۃ اھ۱؎ ملخصا۔
تعلیق اور یمین کے بعد ملکیت کا ختم ہونا یمین کو باطل نہیں کرتا کیونکہ یمین کا محل ابھی باقی ہے، پھر اگر شرط ملکیت کے دوران پائی جائے تو یمین وقسم ختم ہوجاتی ہے اور طلاق واقع ہوجاتی ہے اور اگر ملکیت کے بغیر شرط پائی جائے تو شرط کی وجہ سے قسم ختم ہوجائیگی جبکہ طلاق نہ ہوگی کیونکہ طلاق کا محل یعنی نکاح ختم ہوچکا ہے اھ ملخصا(ت)
 (۱؎ الھدایۃ         باب الایمان فی الطلاق         المکتبۃ العربیۃ کراچی     ۲ /۳۶۶)
فتح  القدیر میں ہے :
لوطلقھا فانقضت عدتھا بعد التعلیق بدخول الدارثم تزوجھا فدخلت طلقت ولابد من تقیید عدم البطلان بما زال الملک بمادون الثلاث امااذا طلقھا ثلثا فتزوجت بغیرہ ثم عادت فدخلت لاتطلق علی ماسیأتی اھ۲؎ مختصرا
اگر خاوند نے دخول سے طلاق کے معلق کرنے کے بعد بیوی کو طلاق دے دی اور عدت بھی گزرگئی، اور اس کے بعد دوبارہ سے نکاح کیا اور اب وُہ گھر میں داخل ہوئی تو اب شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق واقع نہ ہوگی، اور زوالِ ملکیت سے قسم ویمین کے عدمِ بطلان کو تین سے کم طلاقوں سے مقید کرنا ضروری ہے اس لئے کہ اگر تین طلاقیں دیں اور حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح کیا تو اب گھر میں داخل ہوئی تو طلاق نہ ہوگی، جیسا کہ عنقریب آئے گا اھ مختصراً،
 (۲؎ فتح القدیر     باب الایمان فی الطلاق   نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۴۵۰)
قلت والاٰتی ھو قول الھدایۃ ان قال لھا ان دخلت الدار فانت طالق ثلثا ثم قال لھا انت طالق ثلٰثا فتزوجت غیرہ ودخل بھا ثم رجعت الی الاوّل فدخلت الدارلم یقع شیئ۔۳؎
میں کہتا ہوں عنقریب آنے والی عبارت ہدایہ کی ہے جو یہ ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کو کہا اگرتو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے تین طلاق، اس کے بعد خاوندنے بیوی کو بغیر تعلیق تین طلاقیں دے دیں اور کہا تجھے تین طلاق۔ اس کے بعد مطلقہ نے حلالہ شرعیہ کے بعد دوبارہ پہلے سے نکاح کیا اور اب گھر میں داخل ہوئی تو کوئی طلاق نہ ہوگی۔(ت)
(۳؎ الھدایۃ       باب الایمان فی الطلاق    المکتبۃ العربیہ کراچی     ۲ /۳۶۹)
اوراگر زید نے یہ شرط نفسِ ایجاب وقبول میں کی تو اس کی دو۲ صورتیں ہیں: (۱) اگر پہلے زید نے کہا کہ میں تجھے اپنے نکاح میں لایا اس شرط کہ اگر تیری بے اجازت کے نکاح ثانی کروں تو تجھ پر تین  طلاق، ہندہ نے کہا میں نے قبول کیا، تو اس کاحکم مثل صورت اولی ہے یعنی شرط محض باطل وبے اثر ہے کہ جب تک ہندہ نے قبول نہ کیا تھا وُہ اس کی زوجہ نہ ہوئی تھی تو اس کی تعلیق پر بے حصول ملک یا اضافہ بہ ملک اسے کچھ اختیار نہ تھا۔(۲) اور اگر  پہلے ہندہ نے کہا کہ میں نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا ،زید نے کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ اگر بے تیری اجازت الیٰ اٰخرہ تو شرط صحیح ہوگئی، اور وقوعِ طلاق کے وہی احکام ہوں گے جو اوپر گزرے کہ جب کلام اول جانب ہندہ سے تھا تو یہ تعلیق بعد تحقق ایجاب وقبول وثبوتِ زوجیت متحقق ہوئی اور اس وقت اسے اختیار کامل تھا، 

خانیہ وبزازیہ وعمادیہ وبحر ونہر وغیرہا میں ہے:
واللفظ للامام الاجل فقیہ النفس رجل تزوج امرأۃ علی انھا طالق او علی ان امرھا فی الطلاق بیدھا ذکر محمد رحمہ اﷲتعالٰی فی الجامع انہ یجوز النکاح والطلاق باطل ولایکون الامر بیدھا، قال الفقیہ ابواللیث رحمہ اﷲتعالٰی ھذااذا ابدأ الزوج فقال تزوجتک علی انک طالق وان ابتدأت المرأۃ فقالت زوجت نفسی منک علی انی طالق فقال قبلت جاز النکاح ویقع الطلاق لان البدایۃ اذا کانت من الزوج کان الطلاق والتفویض قبل النکاح فلایصح امااذاکانت البدایۃ من قبل المرأۃ یصیر التفویض بعد النکاح لان الزوج لما قال بعد کلام المرأۃ قبلت والجواب یتضمن اعادۃ مافی السؤال صارکانہ قال قبلت علی انک طالق او علی ان یکون الامر بیدک فیصیر مفوضا بعد النکاح ۱؎ اھ باختصار
الفاظ امام فقیہ النفس کے ہیں کہ ایک شخص نے ایک عورت کو کہا میں تجھ سے اس شرط  پر نکاح کرتا ہوں کہ''تو طلاق والی ہے، یا اس شرط پر کہ طلاق کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے''۔ اس کے متعلق امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے جامع میں ذکر فرمایا کہ یہ نکاح صحیح ہے اور طلاق کی شرط باطل ہے اور بیوی کو طلاق کا اختیار بھی نہ ہوگا۔ اس پر فقیہ ابواللیث رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ اگر خاوند نے ابتداء کرتے ہوئے کہا''میں تجھ سے اس شرط پر نکاح کرتا ہوں کہ تجھے طلاق ہے'' تو پھر مذکور حکم یعنی نکاح صحیح اور طلاق باطل ہے، اورا گر عورت ابتداء کرتے ہوئے کہے میں نے اپنے آپ کو تجھ سے نکاح دیا اس شرط پر کہ مجھے طلاق ہو تو خاوند نے جواب میں کہا میں نے قبول کیا، تو نکاح صحیح ہوکر طلاق ہوجائے گی کیونکہ خاوند کی طرف سے ابتداء کرنے میں طلاق اور تفویض، نکاح سے قبل ہوئی تو طلاق کی شرط صحیح نہ ہوئی، لیکن عورت کی طرف سے ابتداء ہوئی تو پھر طلاق کی تفویض نکاح کے بعد ہوئی کیونکہ جب زوج نے عورت کی کلام کے بعد جواب میں  ''میں نے قبول کیا'' کہا، تو چونکہ جواب میں سوال کا اعادہ معتبر ہوتاہے تو گویا خاوند نے یوں کہا کہ''میں نے نکاح قبول کیا اس شرط پرکہ تجھے طلاق ہو یاطلاق کا معاملہ تیرے اختیار میں ہو''تو یوں نکاح پہلے ہوگیا اور تفویض طلاق بعد ہوئی اھ، اختصاراً۔
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں         فصل فی النکاح علی الشرط         نولکشور لکھنؤ        ۱ /۱۵۲)
اقول انت تعلم ان کلام المرأۃ لاعبرۃ بھا فی قبول الزوج لاجل ان السؤال معادفی الجواب فاذاوقع فیہ تحقیقا کان اولی بالصحۃ کما یرشدک الیہ قولہ رحمہ اﷲتعالٰی قال قبلت علی انک طالق الخ' وبما افادفی الخانیۃ ظھر الفرق بین البدایتین کما اوضحناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار وان کان خفی علی العلامۃ الشامی رحمہ اﷲتعالٰی۔
اقول (میں کہتا ہوں)آپ کو معلوم ہے کہ طلاق کے معاملہ میں عورت کی بات کا اعتبار نہیں ہوتا لیکن یہ طلاق خاوند کے نکاح کو قبول کرنے پر خاوند کی طرف سے مقدر ہوئی کیونکہ خاوند کے جواب میں سوال کا اعادہ معتبر ہے، تو جب سوال معتبر ہے تو صحت نکاح پر طلاق مرتب ہوئی لہذاطلاق صحیح ہوگی، جیسا کہ ابولیث رحمہ اﷲتعالٰی کا قول کہ خاوند کا ''قبول ہے'' کہہ کر کہنا اس شرط پر کہ تجھے طلاق ہے الخ،تیری رہنمائی کررہا ہے، اور خانیہ کا یہ بیان دونوں ابتداؤں میں فرق کو واضح کررہا ہے جیسا کہ ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیے میں واضح کیا ہے، اگرچہ یہ فرق علامہ شامی رحمہ اﷲتعالٰی پر مخفی رہا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لوقال لھا تزوجتک علی ان امرک بیدک فقبلت جاز النکاح ولغا الشرط لان الامر انما یصح فی الملک او مضافا الیہ ولم یوجد واحد منھما بخلاف مامر فان الامر صار بیدھا مقارنا لصیرروتھا منکوحۃ اھ نھر، والحاصل ان الشرط صحیح اذا ابتدأت المرأۃ لااذاابتدأ الرجل ولکن الفرق خفی۱؎الخ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اگر مرد کسی عورت کو کہے کہ میں نے تجھ سے اس شرط پر نکاح کیا کہ طلاق کا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، تو عورت نے قبول کرلیا، اس صورت میں نکاح صحیح اور شرط لغو ہوگی کیونکہ طلاق کا اختیار دینا نکاح میں یا نکاح کی طرف منسوب کرنے میں درست ہوسکتا ہے جب کہ یہاں دونوں باتوں میں کوئی بھی موجود نہیں ہے، اس کے برخلاف جب عورت ابتداء کرے تو پھر اختیارِ طلاق عورت کو بیوی بننے سمیت ہوا، اھ، نہر۔ حاصل یہ ہے کہ اگر عورت ابتداء کرے تو شرط صحیح ہوگی اور اگر مرد ابتداء کرے تو شرط صحیح نہ ہوگی، لیکن فرق مخفی رہا، الخ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب الرجعۃ             داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۵۴۰)
Flag Counter