Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
29 - 175
مسئلہ ۲۶: از بنگالہ نواکھالی محلہ رامپور فضل الرحمان صاحب۶شوال ۱۳۲۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بی بی کو اس شرط کے ساتھ کابین نامہ لکھ دیا کہ اگر تمہارے سوا کوئی دوسری بی بی کروں تو وہ ایک دو تین طلاق ہے، بعد اس کے زید نے اپنی منکوحہ سے اجازت لے کر دوسری کرلی مگر کابین اجازت وغیرہ کا ذکر مطلقاً نہیں آیا۔ صورت مذکورہ میں وہ اجازت عندالشرع معتبر ہوگی یا نہیں، اور شرعاً ایسی شرط کرنا درست ہے یانہیں؟اگرکرلے تو کیا حکم ؟بینواتوجروا
الجواب

صورتِ مستفسرہ میں نکاح ہوتے ہی زوجہ ثانیہ پر معاً ایک طلاق بائن ہوگی وہ نکاح سے نکل گئی مگر حلالہ کی حاجت نہیں، اگر زید چاہے تو اس سے دوبارہ نکاح کرلے خواہ اور عورت سے نکاح کرے، اب زوجہ کو طلاق نہ ہوگی اگرچہ زوجہ اولٰی اجازت بھی نہ دے۔
اماوقوع الطلاق فلتحقق الشرط والاجازۃ لاتمنعہ واماالواحدۃ والبینونۃ فلو قوعہ قبل الدخول وتفریقہ فی الایقاع حیث لم یقل تین بل ایک دوتین ام عدم الوقوع اذانکح اخری او ھذہ مرۃ اخری فلانحلال الیمین لعدم کلما وما یقوم مقامہ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
طلاق کا وقوع اس لئے ہے کہ شرط پائی گئی اور اجازت اس کے  لئے مانع نہیں ہے، لیکن ایک اور بائنہ طلاق اس لئے کہ یہ طلاق قبل دخول اور تینوں کے جدا جداواقع ہونے سے پہلی واقع ہوئی اس لئے کہ خاوند نے تین کا لفظ نہیں کہا بلکہ ایک، دو، تین کہا، اور دوسری عورت سے یا اسی بیوی سے دوبارہ نکاح سے مزید طلاق نہ ہوگی اس لئے کہ اس نے ''کلما'' یااس کا ہم معنٰی لفظ نہیں کہا۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۲۷: از بمبئی پیرولین پوسٹ عمر کھاڑی مرسلہ منشی محمد صدیق قدسیہ جنتری ۲۳جمادی الآخرہ ۱۳۲۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے محکمہ قضاء میں حاضر ہوکراقرار کیا کہ آج سے آئندہ میں اگر شرط پیوں یا فتنہ وفساد کروں اور وہ پانچ اشخاص(جن کے نام اقرار نامہ میں بطورنگرانی درج ہیں) میری بدچلنی کا ثبوت پہنچا دیں تو میری زوجہ مسماۃ ہندہ میرے نکاح سے باہر ہے اور میری مطلقہ ہے پس بعد عہد واقرار مذکور کے پانچ یا سات نفر معتبرنے جو تحریر اقرار نامہ کے وقت موجود تھے زید کو برسرراہ حالت نشہ میں پایا اور زید کے والد کو نیز مرقومہ بالا پانچ اشخاص معینہ میں سے ایک شخص کو اسی وقت حالتِ نشہ کی خبر دی مگر زید کے والد اور شخص مذکور نے بخوفِ یا بپاسِ خاطر زید توجہ نہ کی اور اس واقعہ کے چند روز بعد زید نے اپنے والد کے ساتھ حالتِ نشہ میں فساد کیا اور گرفتارہوکر محکمہ میں اسی بناء یعنی شراب خوری فساد ریزی پر جرمانہ دیا بعد ازاں اہلِ جماعت جمع ہوئے جن میں مذکور الصدر پانچ اشخاص بھی بصورت منصف موجود تھے اور زید کو تقصیر وار گردانا مگرمقدمہ مذکورہ بالا میں زید کی ظاہری بدچلنی جو وقوع میں آئی اس کو زبانی بیان کرنے میں بپاس عہ رکھتے ہیں، پس ان تمام صورتوں میں زید کی زوجہ پر طلاق واقع ہوئی یانہیں؟اگر طلاق واقع ہوئی تو عدت کس روز سے شمار ہوگی؟بینواتوجروا
عہ یہاں مسوّدہ میں بیاض ہے۔
الجواب

قول زید کاحاصل یہ ہے کہ اگر اس سے شراب خوری یا فتنہ وفساد کا صدور ہواوردونوں میں سے جو کچھ ہو اس کے ساتھ ایک اورامر ضرور ہو وہ یہ پانچ اشخاص مذکورین اس کی بدچلنی کا ثبوت پہنچائیں، ان باتوں کے جمع ہونے پر اس کی عورت اس کے نکاح سے باہر اور اس کی مطلقہ ہے،
وذٰلک لانہ عطف الثانی علی الاول باو ثم الثالث بالواؤ فکان الشرط وقوع احد الامرین الاولین مع الثالث۔
یہ اسلئے کہ دوسری بات کو پہلی پر لفظ او(یا) سے اور پھر تیسری کا دوسری پر''و'' سے عطف کیا لہذا تیسری بات کا وقوع پہلی دونوں میں سے ایک کے وقوع سے مشروط ہوگا۔(ت)
امام فخر الاسلام بزدوی قدس سرہ اصول میں فرماتے ہیں:
ولھذا قلنا فیمن قال ھذا حراوھذاوھذا ان الثالث یعلق ویخیربین الاولین لان صدر الکلام تناول احدھما عملا بکلمۃ التخییر والواؤ تو جب الشرکۃ فیما سبق لہ الکلام فیصیر عطفا علی المعتق من الاولین کقولہ احدکماحروھذا۱؎۔
اسی بناء پر ہم نے کہا کہ اگر مالک نے کہا''یہ آزاد یا یہ اور یہ ہے'' توتیسرا لازمی طور پرآزاد ہوجائیگا اور پہلے دونوں میں سے کسی ایک کو آزادی کیلئے متعین کرنے کااختیار مالک کو ہوگا، کیونکہ اس کے کلام کا ابتدائی حصہ پہلے دونوں میں سے ایک کو شامل ہے لفظ ''او'' کے عمل کی وجہ سے اور بعد میں واؤ کا عطف پہلے دونوں میں مصداق کو شراکت کو چاہتا ہے لہذا پہلے دونوں میں سے جو آزاد ہوگا اس پر عطف ہوگا، یہ یوں ہوا جیسے کسی نے پہلے دونوں کو کہا ہو تم میں سے ایک اور یہ آزاد ہے(ت)
 (۱؎ اصول امام فخرالدین بزدوی     باب حروف المعانی     نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۰۳)
ہماری زبان میں کسی شئی کا ثبوت پہنچانا، اور کوئی شئی ثبوت کو پہنچانا، ان دونوں میں فرق ہے لفظ اول میں ثبوت عہ۱ہوتاہے یعنی شہادت زبانی حجت تحریری اور اس کا پہنچانا، مہیا کرنا،ادا کرنا، پیش کرنا، اور لفظ ثبوت عہ۲  اپنے معنی پر اور ثبوت کو پہنچانا ثابت و مدلل کرنا اس کے ثبوت کا حکم دینا، پہلے لفظ کا تعلق شاہد وساعی ثبوت سے ہے اور دوسرے کا حاکم وقاضی، ثبوت سے بھی غالب مراد ظاہر مفاد یہی ہے، اگر وہاں بھی عرف اسی طرح ہے، تو وہ اشخاص جبکہ بخوف وہراس یا بہ لحاظ وپاس اس کی بدچلنی زبان پر لانے سے بھی احتراز کرتے ہیں تو بدچلنی کا ثبوت پہنچانا ان سے واقع نہ ہوا اور وہ بھی جزاء شرط تھا تو شرط کا مل متحقق نہ ہوئی تو طلاق اصلاً نہ ہوئی،
(عہ۱ :اصل میں یہاں بیاض ہے۔)	 (عہ۲ :  اصل میں یہاں کِرم خوردہ ہے۔)
لان ماعلق وجود شیئین لاینزل الابعد وجودھما جمیعا۔
کیونکہ جس چیز کو دو چیزوں کے وجود پر معلق کیا ہوتو وہ مشروط دونوں شرطوں کے اکھٹے پائے جانے پر متحقق ہوگا۔(ت)
اور اگر وہاں کے عرف ومحاورہ میں یہ فرق نہیں کسی شئے کے ثابت قرار دینے کو بھی اس شئے کا ثبوت پہنچاناکہتے ہیں تو جبکہ پانچ اشخاص مذکورین نے اس کی بدچلنی کا ثبوت مانا اور اس بناپر اسے تقصیر وار ٹھہرایا ہو اور واقع میں اس سے بعد معاہدہ شرابخوری یا فتنہ وفساد کاصدور بھی ہوا ہو تو ہندہ پر طلاق ہوگئی
لاجتماع کل اجزئی الشرطین فینزل الجزاء
 (کیونکہ دونوں شرطوں کے اجزاء پائے جانے کی وجہ سے مکمل جزاء پائی جائے گی۔ت) اور عدت اسی وقت سے لی جائیگی جس وقت ان پانچ اشخاص نے اس کی بدچلنی کے ثبوت کاحکم دیا
لان الوقوع بالمجموع وانما العدۃ من حین الوقوع
 (کیونکہ طلاق کا وقوع دونوں کے مجموعہ پر ہوا، اور عدت بلاشبہہ وقوع طلاق کے وقت سے شمار ہوگی۔ت) مجرد تقصیر وار ٹھہرانا اگر بدچلنی ثابت مان کر نہ ہو وقوع طلاق کےلئے کافی نہ ہوگا،
لان الشرط ھذالاذاک واثبات التقصیر مطلقا لایستلزم اثبات الدعارت۔
کیونکہ یہ شرط ہے، وہ نہیں ہے کیونکہ تقصیر کااثبات مطلق طور پر بدچلنی کے اثبات کو مستلزم نہیں ہے(ت)
یونہی اگر فی الواقع اس سے شراب خوری وفتنہ پر دازی بعد معاہدہ صادر نہ ہوئی اور ثبوت غلط طور پر بہم پہنچایا گیا جس سے  اشخاص مذکورین نے حکم ثبوت دیاتو عند اﷲ اس صورت میں بھی ہندہ پر طلاق نہ ہوگی لعدم تحقق الجزاء الاول(پہلی جزاء کے نہ پانے جانے کی وجہ سے۔ت) اگرچہ محکمہ قضاء میں ثبوت شرعی کے باعث قضاۃ حکم طلاق دیں اور جبکہ ثبوت شرعی گزرگیا اور اشخاص مذکورین نے حکمِ ثبوت دیا ہو اور محاور ہ کا وہ فرق کہ اوپر مذکور ہو وہاں کے عرف میں نہ ہوتو عورت پر بھی لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقہ جانے
لان المرأۃ کالقاضی کما فی الفتح وردالمحتار وغیرہ ۱؂
 (کیونکہ اس معاملہ میں عورت یعنی بیوی قاضی کا حکم رکھتی ہے، جیسا کہ فتح اورردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
 (۱؎ ردالمحتار     باب الکنایات     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۶۸)
Flag Counter