Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
28 - 175
مسئلہ۲۴: غلام گیلانی صاحب پنجابی از ضلع پترہ ڈاکخانہ پٹن موضع چنبک نگر معرفت تار وچودھری اوائل صفر۱۳۲۶ھ

زوج نے قبل عقد نکاح کے کابین نامہ میں عورت کو یہ شرط لکھ دی کہ میں اگر آپ سے ایک برس کی مدت تک جدا رہوں یا کسی صورت سے آپ کا خبر گیر نہ ہوں تو اگر آپ کی مرضی ہوتو ہم کو شوہر سے چھوڑ کر طلاق دے سکتی ہو، انتہی۔ کابین میں بنگلہ زبان میں ایسی عبارت مہمل لکھی ہے جس کا ترجمہ بعینہا یہی ہوتا ہے، آیا یہ معنی ظاہری اس کا ترک کرکے عرفی موافق غرض زوجہ کے اس صورت سے لے سکتے ہیں(تم مجھ کو اپنی شوہری اور زوجیت سے نکال کرطلاق دے سکتی ہو) مگر یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کس کو طلاق دے سکتے ہو۔ اضافتِ طلاق زوجہ کی طرف نہیں ہے، بنگلہ زبان میں زوج نے قصداً ایسی عبارت لکھی  ہے کہ جس کا ترجمہ ایسا کچھ بنتا ہے جیسا کہ
انامنک طالق
(میں تجھ سے طلاق والا ہوں۔ت) اور اب زوجہ وقوع شرط کی مدعیہ ہے اور زوج منکر ہے ، وہ کہتا ہے کہ میں مدت کے اندر چند بار آیا مگر مجھ کو زوجہ کے اقارب نے زوجہ کے پاس جانے ، ملاقات، بات چیت کرنے سے روک دیا اور مکان میں داخل ہونے نہیں دیا، دونوں اپنے دعوے پر بینہ رکھتے ہیں، مگر زوج کسی مولوی کو حکم نہیں بناتا اور نہ کسی کے پاس آتا ہے، تین برس گزاردیاہے، اور معلوم ہوتا ہے کہ زوج بھی اپنے الفاظ سے عرفی معنی موافق مدعائے عورت لے کر انکار وقوع شروط کا کرتا ہے ورنہ زوجہ کے دفعہ میں اس کو اسی قدر بس ہے کہ کہہ دے کہ میری عبارت سے یہ نہیں نکلتا کہ عورت کو بعد وقوع شرط کے اختیار طلاق کا ہے۔ اب فقیر پر تقصیر عرض کرتا ہے کہ حضورِ والاارشاد فرمائیں کہ اس عبارت سے کیا مطلب لیا جائے اور عورت کا بینہ معتبر ہوگا یا کیا؟ کتنی طلاق دے سکتی ہے یانہیں دے سکتی ؟
الجواب

صورت مستفسرہ میں عورت کو کسی طرح اپنے نفس کو طلاق دینے کااختیار نہیں، الفاظ شرط کابین نامہ اگر اسی قدر ہیں جوسوال میں مذکور ہوئے اور اضافت الی النکاح کا اس میں کہیں ذکر نہیں کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں یا جب میں تجھے اپنی زوجیت میں لاؤں اس کے بعد اگر ایسا واقع ہوتو تجھے اختیار طلاق ہے جب تو شرط کابین نامہ محض فضول وباطل ہے کہ اس کی تحریر قبل نکاح ہوئی اور نکاح کی طرف اس میں اضافت نہیں تو نہ ملک پائی گئی نہ اضافتِ ملک،اور ایسی تعلیق محض باطل ہے 

درمختار میں ہے:
شرطہ الملک کقولہ لمنکوحتہ ان ذھبت فانت طالق او الاضافۃ الیہ کان نکحت امرأۃ وان نکحتک فانت طالق فلغا قولہ لاجنبیۃ ان زرت زید افانت طالق فنکحھا فزارت لم تطلق لعدم الملک والاضافۃ الیہ۱؎انتہی مختصراً۔
اس کی شرط یہ ہے کہ ملکیت یا ملکیت کی طر ف اضافت پائی جائے، ملکیت مثلاً منکوحہ بیوی کو کہے اگر تو گئی تو تجھے طلاق، ملکیت کی طر ف اضافت مثلاً کہے کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں کسی اجنبی عورت کویوں کہے اگرمیں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق، تو محض اجنبی عورت کو اس کا یہ کہنا اگر تو نے زید کو دیکھا تو تجھے طلاق، لغو ہوگا، لہذا اگر اس کے بعد وہ اس عورت سے نکاح کرلے اور وہ عورت زید کی زیارت کو چلی جائے تو بھی طلاق نہ ہوگی، کیونکہ یہاں نہ ملکیت ہے اور نہ ہی ملکیت کی طر ف طلاق کی اضافت ہے، اھ(ت)
 (۱؎ در مختار     باب التعلیق     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۳۰)
اور اگر کابین نامہ میں اضافت الی النکاح ہے تو یہ تعلیق و تفویض صحیح ہوگئی اور اس کا مفاد مثل انا منک طالق کے نہیں کہ لفظ ''ہم کو'' لفظ ''چھوڑ کر'' سے متعلق ہے نہ کہ لفظ طلاق سے، اور اس طلاق کی اضافت کلامِ زوج میں عورت کی طرف نہ ہونا کچھ منافی صحتِ تفویض نہیں کہ تفویض میں زن وشوہر دونوں کی اضافت سے ایک کے کلام میں اضافت کافی ہے۔

درمختار میں ہے:
وذکر النفس اوالاختیار فی کلام احدکلامیھما شرط صحۃ الوقوع بالاجماع، ویشترط ذکرھا متصلا فان کان منفصلا فان فی المجلس صح والالافلوقال اختاری اختیارۃ اوطلقۃ وقع لوقالت اخترت فان ذکر الاختیار کذکر النفس وکذاذکر التطلیقۃ والشرط ذکر ذٰلک فی کلام احدھما فلم یختص بکلام الزوج کما ظن ۱؎انتہی مختصرا۔
نفس یا لفظ اختیار کا ذکر کرنا خاوند اور بیوی دونوں میں سے کسی ایک کے کلام میں وقوع طلاق کے لئے شرط ہے بالاجماع، اور اس کا متصل ہونا شرط ہے اگر منفصل ذکر کیا جائے تواگر اسی مجلس میں ہوتوصحیح ہے ورنہ نہیں، لہذا اگر خاوندنے بیوی کو کہا اختاری اختیارۃ یا اختاری طلقۃ ،اگر بیوی نے جواب میں  اخترت(میں نے اختیار کرلیا) کہا تو طلاق واقع ہوجائیگی کیونکہ''اختیارۃً'' کا ذکر ایسا ہی ہے جیسے نفس کو ذکر کردیا جائےاور طلقۃً کا ذکر بھی ایسا ہی ہے اور نفس یا قائم مقام نفس کا خاوند بیوی میں سے کسی ایک کے کلام میں ذکر ہونا شرط ہے نہ کہ خاوند کا کلام اس کے لئے مخصوص ہے، جیسا کہ بعض کا گمان ہے اھ مختصراً(ت)
 ( ۱؎ درمختار باب تفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۷)
مگر تفویض طلاق کہ معلق بالشرط ہو، بعد وقوع شرط اسی مجلس پر محدود رہتی ہے جس میں عورت کو وقوعِ شرط کا علم ہوا مجلس بدلنے کے بعد اسے طلاق لینے کااختیار نہیں رہتا۔   درمختار میں ہے:
 التعلیق بالمشیئۃ اوالارادۃ اوالرضاء اوالھوی اوالمحبۃ یکون تملیکا فیہ معنی التعلیق فتقید بالمجلس ۲؎۔
طلاق کو عورت کی مشیت،ارادہ، رضا، خواہش یا محبت پر معلق کرنا بیوی کو تعلیق کے طور پر طلاق کا مالک بنانا ہے تو یہ تملیک مقید بمجلس تک محدود ہوگی (یعنی بیوی کو طلاق کا اختیار اسی مجلس تک محدود ہوگا۔(ت)
 (۲؎ درمختار         فصل فی المشیۃ   مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۳۰)
یہاں کہ عورت مدعیہ شرط ہے اور اس نے اب تک اپنے کو طلاق نہ دی مجلس اول ختم ہوتے ہی اسے اختیارِ طلاق نہ رہا، بہر حال صورتِ مسئولہ میں عورت کا دعوی اصلاً قابلِ سماعت نہیں،واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۵: ۱۳جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کو بریلی سے رام پور بھیج دیاکہ بوجہ رنج ہوجانے کے باہم زید و ماموں زوجہ زیدکے اور ایک رقعہ بھی لکھ دیا کہ میں اپنی بیوی کو بخوشی معہ زیور کے بوجہ رنجش کے رامپور کو رخصت کرتا ہوں اور آئندہ مجھ کو کوئی تعلق نہ ہوگا اور دو روپیہ ماہوار لڑکی کے دودھ پلائی کے مقرر کرتا ہوں، لوگوں نے زید سے دریافت کیا کہ کیا طلاق دیتے ہو، زید نے طلاق سے انکار کرکے یہ کہا جس وقت میری حالتِ غصہ درست ہوجائے تو پھر بلوالوں گا، بعد ایک ہفتہ کے جبکہ زوجہ زید رامپورچلی گئی، زید نے ایک خط بنام مولوی لطف اﷲ صاحب کے لکھا کہ باہم میرے اور میری زوجہ کے ماموں میں رنج ہوگیا ہے آپ صفائی کرادیں اور ان سے کہہ دیجئے کہ یکم تاریخ تک روانہ بریلی کردیں اور اگر نہ روانہ کریں گے تو یہ ایک طلاق دیتا ہوں ایسے درمیان میں جو زید نے واسطے آنے میعاد اپنی زوجہ کے مقرر کی تھی رامپور میں بحضور اپنی زوجہ کے رجوع کرلیا لیکن زوجہ زید رامپور سے بریلی کو اس میعاد مقررہ کے اندر نہیں آئی ایسی صورت طلاق واقع ہوئی یانہیں، اگر ہوئی تو کس قسم کی رجعی یابائن، بعد ایک ماہ کے زیدرامپورگیا، زوجہ کے ماموں نے یہ کہا کہ طلاق ہوگئی ہے میں رخصت ابھی نہ کروں گا، اس پر زیدنے جواب دیا کہ آج ہی اس معاملہ کا فیصلہ نہ ہوگا تو تین طلاق پوری کروں گا، یہ کہہ کر چلاآیا، طلاق واقع ہوئی یانہیں، ہوئی تو کس قسم کی واقع ہوئی رجعی یا بائن؟بعض علماء کابیان ہے کہ یہ طلاق بوجہ معلق ہونے کے بائن ہوگئی، یہ قول کیسا ہے؟بینواتوجروا
الجواب

صورت مستفسرہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہوئی، زید کا کہنا کہ تینوں طلاق پوری کردوں گا محض وعدہ ہے اور وعدہ سے طلاق نہیں ہوتی، اور زید کا میعاد وقوع طلاق یعنی یکم آنے سے پہلے جاکر رجوع کرنا محض بے اثر ہے فان الرجوع لایتقدم(کیونکہ رجوع، طلاق کے وقوع سے پہلے نہیں ہوسکتا۔ت) تو نہ رہا مگر زید کا وہ قول کہ یکم تک نہ روانہ کرینگے تو یہ ایک طلاق دیتا ہوں، یہ طلاق اس شرط پر معلق تھی یکم گزرگئی اور عورت کو روانہ نہ کیا، شرط متحقق ہوئی طلاق پڑگئی، اور یہ طلاق یقیناً رجعی ہے، تعلیق کے سبب بائن ہوجانا باطل قطعی کما قدمنا تحقیقہ(جیسا کہ اس کی تحقیق گزرگئی۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter