Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
27 - 175
مسئلہ ۲۳: از کلکتہ مولوی امداد علی لین مرسلہ مولوی محمد عبدالعزیز صاحب ۲۱شوال ۱۳۱۴ھ 

بذرورہ عرض خدام برتر مقام دام اقبالکم، پس از سلام سنت خیرالانام علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام، معروض اینکہ مسئلہ مالاینحل فی دیارنا پیشکش ملازمان می نہیام جواب شافیش عنایت فرمودہ رہین منت سازند جناب من بعضے اختلاف بدینگونہ می آورند کہ برغیرمدخول بہا بعد از وقوع یک طلاق ثانی وثالث واقع نخواہد شد مگر ارادہ آنکس در ینجاوقوع طلاق علی الانفراد نیست بلکہ باہم واقع کردن ست وسیاق کلام بنگالہ اش ہم ہمچنیں است احقر درینجا بعیہنہٖ ترجمہ بنگالہ نمود، زیادہ حدّادب۔

خدام کی عرض کو پورا کرنے والے، برتر مقام والے، دام اقبالکم، حضور علیہ والصلوٰۃوالسلام کے مسنون سلام کے بعد معروض یہ ہے کہ ہمارے علاقہ کا ایک لاینحل مسئلہ جناب کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اس کاشافی جواب عنایت فرمادیں تو ممنون احسان ہوں گے، جناب من! بعض نے یہ اختلاف کیاہے کہ طلاق غیرمدخولہ عورت پر ایک طلاق کے بعد دوسری اور تیسری طلاق واقع نہ ہوگی جبکہ یہاں خاوند کا منشاء تینوں طلاقوں کا علیحدہ علیحدہ دینا نہیں ہے بلکہ اکٹھی دینے کا ارادہ ہے اور بنگالی زبان کا سیاق بھی یہی ہے۔ احقر یہاں بنگالی زبان کا ترجمہ بعینہٖ پیش کرتا ہے، زیادہ ادب۔
ماقولکم رحمکم اﷲتعالٰی اندریں شخص درکابین نامہ زوجہ خود نوشتہ داد کہ من بلااجازت تو واجازت ولی معتبر تو نکاحِ دیگر نخواہم کردو اگر بکنم کل دین مہر تو ادا نمودہ از تو وازولی تو اجازت گرفتہ خواہم کردہ ورنہ بر منکوحہائے دیگر یک طلاق دو طلاق سہ طلاق واقع خواہد شد پس آں شخص یکے راہم از شرائط مذکور بعمل نیا وردہ زنے را بعقد نکاح خود آوردہ اینک زوجہ ثانیہ اش مطلقہ بسہ طلاق خواہد شد یا نہ؟بینواتوجروا۔
اﷲ تعالی آپ پر رحم فرماتے آپ کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے نکاح نامہ میں بیوی کو لکھ دیا کہ میں تیری اور تیرے معتبر ولی کی اجازت کے بغیر دوسرا نکاح نہ کروں گا، اگر کروں تو تیر امکمل مہر ادا شدہ ہوگا اور تجھ سے اور تیرے ولی سے اجازت کے ساتھ ہوگا ورنہ میری دوسری منکوحہ پر ایک طلاق،دوسری طلاق اور تیسری طلاق ہوگی، اس کے بعد اس شخص نے کوئی شرط پوری کئے بغیر دوسری عورت سے نکاح کرلیا، تو اس کی دوسری بیوی کو تین طلاق ہوں گی یانہیں؟بینواتوجروا(ت)
الجواب

اصل اینست کہ معلق ہنگام وجود شرط فرودمی آید گویا اینک بجز منجز تکلم کردہ است وزن نامدخولہ اگرچہ محل وقوع سہ طلاق بیکبار ہست ولہذا اگر اورا گوید برتو سہ طلاق یا اگر بایں خانہ در آئی سہ طلاق باشی در صورت اولٰی فوراً ودر اخری ہنگام دخولہ خانہ سہ طلاق واقع شود بلکہ اگر سہ طلاق جداگانہ تعلیق کرد اما معطوفہ بغیر حرف''ثم'' وشرط را مؤخرآورد مثلاًگفت تو طلاقی وطلاقی وطلاقی اگر چناں کنی نیز بحصول شرط سہ طلاق افتد زیرا کہ عطف بوا ویافا آنہارا موصول کردہ وتا خیر شرط اول سخن را بہ تعلیق تغییر دادہ است پس مجموع معلق شد وبوقوع شرط دفعۃً فرود آمد اما غیر مدخولہ وقوع بتفریق را صلاحیت ندارد ولہذا اگر گفت ترایک طلاق ودو طلاق وسہ طلاق یااگر اینکار کنی تو طلاقی و طلاقی و وطلاقی بتقدیم شرط یا تو طلاقی طلاقی طلاقی اگر چناں کنی بتاخیر شرط وترک عطف ہمیں بیک طلاق بائن شود وباقی لغو رود زیراکہ در صورت اولٰی چوں ترا یک طلاق گفت ایں طلاق افتد وزن از عصمت نکاح بیروں شد وعدت ہم نیست پس محلیت طلاق نماند ومعطوفات باقیہ ہنگام انعدام محلیت بر زماں آمد وبیکار رفت ودر ثانیہ چوں شرط مقدم ست گویا ہنگام وقوع شرط چناں گفت کہ تو طلاقی وطلاقی وطلاقی وبدلیلی ہمیں عہ یک وقوع یافت ودر ثالثہ مغیر کہ در آخر کلام یافتہ شد ہمیں طلاق ثالث را از تنجیز بہ تعلیق تغییر داد کہ ماسلف بجہت ترک عطف باد مربوط نبود، پس ہنگام تکلم بہ کلمہ اولٰی یک طلاق فی الحال واقع شدومحل تنجیز دوم وتعلیق سوم نماند چوں ایں مسائل حالی شد حکم مسئلہ مسئولہ رنگ وضوح یافت کہ بر منکوحہ ثانیہ ہمیں یک طلاق واقع شود وبس ۔
عہ یہاں مسودہ میں بیاض ہے۔
قاعدہ یہ ہے کہ کسی شرط کے ساتھ معلق طلاق، اس شرط کے پائے جانے پر وقوع پذیر ہوتی ہے گویا کہ اس وقت اس نے طلاق کا تکلم غیر مشروط طور پر کیا ہے اور غیر مدخولہ عورت یکبار تین طلاقوں کے وقوع کا محل ہے لہذا اگر خاوند نے غیر مدخولہ بیوی کو کہا تجھے تین طلاق، یا کہا تو اگر اس گھر میں داخل ہوئی تو تجھے تین طلاق، تو پہلی صورت میں فوراً اور دوسری صورت میں اس کے گھر میں داخل ہونے پر تین طلاقیں ہوجائیں گی، بلکہ اگر متفرق طور پر تین طلاقیں کسی شرط سے معلق کردے بشرطیکہ ان متفرق طلاقوں کو لفظ''واؤ'' یا''فاء'' کے ساتھ بطور عطف ذکر کرے نہ کہ لفظ''ثم'' کے ساتھ، اور شرط کا ذکر اس کے بعد کرے، مثلاً یوں کہے تجھے طلاق وطلاق وطلاق اگر تو فلاں کا م کرے، تو اس صورت میں بھی شرط پائے جانے پر تین طلاقیں ہوں گی، کیونکہ واؤ ا ور فاء کا عطف سب کو ملا دیتا ہے اور جب اس کے بعد شرط ذکر کی تو اس شرط نے پہلی پوری کلام کو معلق کردیا تو شرط کے پائے جانے پر اس سے معلق تینوں طلاقیں دفعۃً واقع ہوجائیں گی لیکن اس کے برخلاف اگر غیر مدخولہ کوتین طلاقیں غیر مشروط طور پرمتفرق دے مثلاً یوں کہے تجھے ایک طلاق اور دوسری طلاق اور تیسری یا تینوں کو متفرق طور پر ذکر کرے مگر شرط کو ان سے پہلے ذکر کرے مثلاً یوں کہے اگر تونے فلاں کام کیا تو تجھے طلاق اور طلاق اور طلاق، یا مشروط تین طلاقیں ذکرکرے مگر طلاقوں کو بغیر عطف شرط سے پہلے ذکر کردیا ہو مثلاً یوں کہے تجھے طلاق طلاق طلاق اگر تو فلاں کام کرے، تو ان تینوں صورتوں میں متفرق شدہ طلاقوں میں سے ایک ہی طلاق ہوگی جوبائنہ ہوجائے گی اور باقی دو لغو ہوجائیں گی، کیونکہ ان میں سے پہلی صورت میں جب اس نے ''تجھے ایک طلاق'' کہا تو بیوی بغیر عدت نکاح سے خارج ہوجائے گی تو وہ اس کے بعد طلاق کا محل ہی نہ رہی تو باقی دوکے وقوع کے وقت بیوی طلاق کا محل نہ تھی لہذا وہ دونوں طلاقیں بیکار (لغو) ہوگئیں، اور دوسری صورت میں چونکہ شرط مقدم ہے اس لئے شرط کے وجود پر پہلی طلاق کے بعد باقی دو طلاقوں کا محل نہ رہی کیونکہ وہ پہلی طلاق کے ساتھ ہی بائنہ ہوگئی لہذا باقی دونوں لغو ہوگئیں، شرط کے پائے جانے پر، گویا یوں کہا تجھے طلاق وطلاق وطلاق، تویہ پہلی صورت کی طرح ہوگئی، اور تیسری صورت میں اس لئے کہ تعلیق کا تعلق صرف آخری طلاق سے ہوا کیونکہ طلاقوں کے بعد اس نے شرط ذکر کی جس نے تیسری طلاق کے وقوع سے روک دیا، اور پہلی دونوں عطف نہ ہونے کی وجہ سے تیسری کے ساتھ مربوط نہ ہوسکیں، لہذا وہ دونوں ذکر کرتے ہی غیر مشروط واقع ہوگئیں تو جب پہلی واقع ہوئی تو وہ بائنہ ہوگئی تو اس کے بعد وہ دوسری غیر مشروط اور تیسری معلق اور مشروط کا محل نہ رہی لہذا دوسری اور تیسری لغو ہوگئیں، جب یہ مذکورہ مسائل معلوم ہوگئےتو مسئلہ مسئولہ واضح ہوگیا کہ دوسری منکوحہ کو بھی یہ ایک ہی طلاق ہوگی، اور بس۔
فی الھندیۃ ان علق الطلاق  بالشرط ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدار فانت طالق وطالق وطالق وھی غیر مدخولۃ بانت بواحدۃ عند وجود الشرط فی قول ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولغا الباقی، وان کان الشرط مؤخرافقال انت طالق وطالق وطالق ان دخلت الدار، أوذکرہ بالفاء فدخلت الدار بانت بثلث اجماعا سواء کانت مدخولۃ اوغیر مدخولۃ، فان ذکرہ بغیر حرف العطف ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدار فانت طالق طالق طالق وھی غیر مدخولۃ فالاول معلق بالشرط والثانی یقع للحال والثالث لغو، وان اخرفالاول ینزل للحال ولغاالباقی کذافی السراج اھ۱؎ملخصا،
ہندیہ میں ہے اگر کسی نے طلاق کو مشروط کیا اور شرط کو پہلے ذکر کیا مثلاً یوں کہا اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق اور طلاق اور طلاق جبکہ عورت غیر مدخولہ ہوتو شرط پائے جانے پر وہ پہلی طلاق سے بائنہ ہوجائے گی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی کے مسلک پر اور باقی دو لغو ہوجائیں گی،ا ور اگر شرط مؤخر ذکر کی ہو مثلا یوں کہا تجھے طلاق اور طلاق اور طلاق اگر  تو گھر میں داخل ہوئی، یا فاء کے ساتھ عطف کیا، تو عورت جب گھر میں داخل ہوگئی تو تین طلاقوں سے بائن ہوجائے گی خواہ عورت مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ، یہ مسئلہ بالاجماع ہے، اور اگر طلاقوں کا ذکر عطف کے بغیر ہوتو اگر شرط مقدم ہومثلاً یوں کہے اگر تو گھرمیں داخل ہوئی تو تجھے طلاق طلاق طلاق، جب بیوی غیر مدخولہ ہوتو پہلی طلاق شرط سے معلق ہوگی دوسری فی الحال واقع ہوجائے گی جو بائنہ ہوگی اور تیسری لغوہو جائے گی، اور اگر شرط کو مؤخرذکرکیا تو پہلی طلاق فوراً واقع ہوگی اور باقی دونوں لغو ہوں گی، سراج میں ایسے ہی مذکور ہے اھ ملخصاً۔
 (۱؎ فتاوی ہندیہ    الفصل الرابع فی الطلاق قبل الدخول    نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۴)
وفی الدرالمختار یقع بانت طالق واحدۃوواحدۃ ان دخلت الدار ثنتان لودخلت لتعلقھما بالشرط دفعۃ وتقع واحدۃ ان قدم الشرط لان المعلق کالمنجز اھ۲؎
درمختار میں ہے اگر کسی نے یوں کہا تجھے ایک طلاق اور ایک(عطف کے ساتھ) اگر تو گھرمیں داخل ہو، تو دونوں طلاقیں واقع ہوں گی کیونکہ دونوں ایک شرط سے مشروط ہیں، لہذا شرط پائے جانے پر دونوں دفعۃ واقع ہوجائیں گی۔ اور اگر شرط کو مقدم ذکر کیا تو ایک طلاق واقع ہوگی کیونکہ یہاں مشروط، غیر مشروط کی طرح ہے اھ۔
 (۲؎ درمختار         باب طلاق غیر المدخول بہا        مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۳)
فی ردالمحتار قولہ لتعلقھما بالشرط دفعۃ لان الشرط مغیر للایقاع فاذا اتصل المغیر توقف صدر الکلام علیہ فیتعلق بہ کل من الطلقتین معا فیقعان عند وجود الشرط کذلک بخلاف مالوقدم الشرط فلایتوقف لعدم المغیر، قولہ لان المعلق کالمنجز ای یصیر عند وجود شرطہ کالمنجز ولونجزہ حقیقۃ لم تقع الثانیۃ بخلاف مااذااخرالشرط لوجود المغیر زیلعی، وفی العطف بثم ان اخرہ تنجزت واحدۃ ولغاما بعدھا وان قدم لغا الثالث وتنجز الثانی وتعلق الاول فیقع عند الشرط بعدالتزوج الثانی۱؎ اھ مختصرا،
ردالمحتار میں اس پر فرمایا کہ ماتن کا قول کہ ''(پہلی صورت میں) دونوں معلق بشرط واحد ہیں'' کیونکہ شرط کے ذکرنے دونوں کو غیر مشروط سے مشروط بنادیا اس لئے کہ اس تبدیلی والی شرط کی وجہ سے پہلا کلام اس پر موقوف ہوگیا لہذا دونوں طلاقوں کا معاً اس شرط سے تعلق ہوگیا لہذا شرط پائے جانے پر دونوں اس طرح معاً واقع ہوجائیں گی، اس کے برخلاف اگر شر ط کو مقدم ذکر کیا ہوتو دونوں پر موقوف نہ ہوں گی بلکہ صرف پہلی معلق ہوگی اور دوسری غیر مشروط رہے گی جو فی الحال فوراً واقع ہوجائیں گی، اور اس کا قول ''(دوسری صورت میں) کہ مشروط، غیر مشروط کی طرح ہوگی'' یعنی معلق بالشرط وہ شرط کے پائے جانے پر غیرمشروط کی طرح ہوگی اور حقیقۃً غیر مشروط ہوتو پھر دوسری واقع نہ ہوگی کیونکہ وہ پہلی سے ہی بائنہ ہوجائے گی، اس کے برخلاف جب شرط کو مؤخر ذکر کرے کیونکہ وہاں دونوں طلاقیں بعد والی شرط سے مشروط ہوجانے کی وجہ سے معلق ہوجائیں گی، اور شرط کو مقدم کیا تو تیسری لغو اور دوسری فوراً واقع۔ اور پہلی شرط سے معلق ہوکر شرط پائے جانے پر واقع ہوگی جب وہ دوسرے خاوند کے بعد دوبارہ اس سے نکاح کرے گا، اھ مختصراً۔
 (۱؎ ردالمحتار         باب طلاق غیر المدخول بہا        داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۵۷)
وفی البحرالرائق لوقال لامرأۃ یوم اتزوجک فانت طالق وطالق وطالق فتزوجھا وقعت واحدۃ وبطلت الثنتان ولو قال انت طالق وطالق وطالق یوم اتزوجک وقعت الثلاث کذافی الحاوی القدسی وکذا لوقال ان تزوجتک کما فی المحیط۲؎اھ
اور بحرالرائق میں ہے اگر کسی نے ایک عورت کو کہا جس دن میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق اور طلاق اور طلاق، اس کے بعد اس سے نکاح کیا تو ایک طلاق واقع ہوگی اور باقی لغو وباطل ہوجائیں گی، اور اگریوں کہا کہ تجھے طلاق اور طلاق اور طلاق ہے جس دن میں تجھ سے نکاح کروں، تو شرط کو بعد میں ذکر کرنے کی وجہ سے تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی، حاوی قدسی میں یوں ذکر ہے، اور یہی حکم ہے جب کہے اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو طلاق اور طلاق اور طلاق، کہ شرط کو مؤخر اور مقدم کرنے پر فرق ہوگا جیسا کہ محیط میں ہے اھ
(۲؎ بحرالرائق         فصل فی الطلاق غیر المدخول بہا    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۳ /۲۹۷)
تمام تفاصیل ایں مسئلہ کہ بلحاظ آنکہ عطف بواؤ وفاء باشد یا بثم یا ہیچ وبہر تقدیر منجز باشد معلق بشرط مقدم یا مؤخر وبہروجہ زن مدخولہ باشد یا غیر آں بہیجدہ صورت میرسد وبلحاظ تفصیلات اخر صوردیگر صورت بند داز بزازیہ وفتح القدیر وبحرالرائق وہندیہ تواں جست۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اس مسئلہ کی واؤ اور فاء یا ثم یا کسی اور عطف اور پھر ہر صورت میں بالشرط یا بغیر شرط اور پھر شرط کو مقدم یا مؤخر ذکر کرنے اور پھر ہر صورت میں  بیوی کے مدخولہ اور غیر مدخولہ ہونے کے لحاظ سے کل اٹھارہ۱۸ صورتیں بنتی ہیں اور دیگر تفصیلات کے اعتبار سے مزید صورتیں بن سکتی ہیں، یہ بزازیہ، فتح القدیر، بحرالرائق، اور ہندیہ سے تلاش کی جاسکتی ہیں، واﷲتعالٰی اعلم۔
Flag Counter