Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
26 - 175
مسئلہ ۲۲: از کلکتہ ٹرین اسٹریٹ ۹۲مسجد سمر مد خلیفہ مرسلہ عبدالرشید صاحب ۹ذی الحجہ المبارک ۱۳۲۰ھ 

مرجع خاص وعام ملاذ علمائے کرام لازالت عتبتہم کہف الانام سلام مسنون برسیم فدویان عقیدت کیش بجا آوردہ، گزارش یہ ہے بنگالہ کے بعض دیار میں یہ دستور ہے کہ جب نوشہ شامل برات دُلہن کے مکان پر جاتا ہے تو دُلہن کے اولیاء واقرباء غیر مناسب شرائط سے کابین لکھوا کر نوشہ کو اوپر دستخط کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور در صورتِ عدم دستخط لڑکی دینے سے انکار کرتے ہیں، بیچارہ نوشہ بخوفِ ندامت وتضیع زیورات واسباب شادی جبراً وقہراً اس پر دستخط کردیتا ہے اوربعد دستخط کرنے کے باقاعدہ رجسٹری بھی کرادیتا ہے حالانکہ پیشتراس مجلس نکاح کے ان بیہودہ شرائط کا تذکرہ تک نہیں ہوتا ہے، منجملہ ان غیر مناسب شرائط کے ایک شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ تاحینِ حیات منکوحہ ہذا اور کسی عورت سے ہرگز شادی ونکاح نہ کروں گا، اگر کروں تو دوسری عورت مطلقہ بطلاق ثلاثہ بائنہ ہوگی خواہ منکوحہ ہذا بروقت نکاح بازنِ دیگر میرے نکاح میں موجود ہو یا نہ ہو۔ پس دریں صورت مسئولست کہ شرعاً ایسی بھی صورت ہے کہ ناکح مذکور کو اس منکوحہ کے حینِ حیات میں دوسری عورت سے نکاح کرنا جائز ہوجائے،بینوابحوالۃ الکتاب توجروا عند الوھاب جواب بحوالہ کتب فقہیہ مع نقل عبارت مرحمت ہو۔
الجواب

اگر کوئی فضولی بطور خود بے اس کی توکیل کے اس کا نکاح کسی عورت سے کردے اور وہ شخص اجازت فعلی سے اسے جائز ونافذ کردے زبان سے کچھ لفظ نہ کہے تو اس صورت میں منکوحہ ثانیہ پر طلاق اصلاً نہ ہوگی اگرچہ منکوحۃ اولٰی ہنوز خود اس کے نکاح میں موجودہو اور فضولی یوں آپ نہ کردے تو اس قسم کے الفاظ اس کے سامنے کہے کہ کاش کوئی فلاں عورت سے میرا نکاح کردیتا یا کیا اچھا ہوتا کہ کوئی دوست بطور خود میرا عقد اس سے کردیتا،
وذٰلک لان ھذاالفاظ الامانی دون الانابۃ حتی یکون توکیلا۔
یہ اس لئے کہ یہ الفاظ تمنائی ہیں یہ نیا بت ثابت نہیں کرتے حتی کہ وکیل بنانا متصور ہوسکے۔(ت)
اور اجازت فعل یہ کہ مثلاً عورت کو مہر جو مقرر ہوا ہے بھیج دے یا زبان سے نہ کہے کاغذ پر لکھ دے کہ میں نے اس نکاح کو نافذ کیا اور اگر فضولی خواہ کسی نے اس عقد فضولی کی اس کو مبارکباد دی اور اسے سن کر سکوت کیا جب بھی عقد صحیح اور نافذ ہوگیا اور طلاق نہ پڑے گی، 

درمختارمیں ہے:
زوجہ فضولی فاجاز بالقول حنث وبالفعل ومنہ الکتابۃ لایحنث بہ یفتی خانیۃ۔۱؎
کسی کا نکاح فضولی شخص نے کردیا تو اس شخص نے زبانی جائز کہہ دیا تو قسم ٹوٹ جائیگی اور عملی کارروائی سے جس میں لکھنا بھی شامل ہے،جائز کرے تو قسم نہ ٹوٹے گی،خانیہ۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذٰلک         مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۳۱۴)
ردالمحتار میں ہے:
فی حاوی الزاھدی لوھنأہ الناس بنکاح الفضولی فسکت فھذا اجازۃ۱؎۔
زاہدی کی کتاب حاوی میں ہے کہ اگر کسی کو لوگوں نے فضولی نکاح پر مبارکباددی، تو وہ خاموش رہا، تو یہ اجازت متصور ہوگی۔(ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار         باب الیمین فی الضرب والقتل وغیرذٰلک         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳ /۱۳۷ )
اشباہ میں ہے:
حلف لایتزوج فالحیلۃ ان یزوجہ فضولی ویجیزہ بالفعل۲؎۔
اگر کسی نے شادی نہ کرنے کی قسم کھارکھی ہوتو اس کے لئے شادی کرنے کا حیلہ یہ ہے کہ کوئی فضولی شخص اس کا نکاح کردے اور یہ شخص کسی فعل کے ذریعہ سے اس نکاح کو جائز کردے۔(ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر     الفن الخامس الحیل فی النکاح             ادارۃ القرآن کراچی         ۲ /۹۶،۲۹۵)
غمز میں ہے:
الاجازۃ بالفعل کبعث المھر وشئی منہ والمراد الوصول الیھا ذکرہ الصدر الشہید رحمہ اﷲ تعالٰی، وقیل سوق المھر یکفی مطلقا لان المجوزۃ الاجازۃ بالفعل وھو تحقق بالسوق۳؎۔
عملاً(فعل کے ذریعے) نکاح جائز کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ شخص مہر یااپنی طرف سے کوئی چیز بھیج دے یعنی منکوحہ کو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خاص اس تک پہنچادے۔ یہ بات صدر شہید نے ذکر کی ہے۔ بعض کا قول یہ ہے کہ بیوی کودینے کی بجائے محض مہر روانہ کردینا ہی نکاح کی فعلی اجازت کو کافی ہے کیونکہ بالفعل اجازت کو جائز قرار دیاگیا ہے تو روانہ کردینا بھی فعل ہے۔(ت)
 (۳؎ غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائع مع الاشباہ  الفن الخامس الحیل فی النکاح   ادارۃ القرآن کراچی  ۲ /۹۶،۲۹۵)
بحرالرائق میں ہے:
ینبغی ان یجیئ الی عالم ویقول لہ ماحلف واحتیاجہ الٰی نکاح الفضولی فیزوجہ العالم امرأۃ یجیزبالفعل فلایحنث وکذااذاقال لجماعۃ لی حاجۃ الی نکاح الفضولی فزوجہ واحد منھم اما اذا قال لرجل اعقدلی عقد فضولی یکون توکیلا۱؎اھ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مناسب یہ ہے کہ ایسا شخص کسی عالم کے پاس آکر اپنی قسم کے بارے میں بتائے اور فضولی شخص کے نکاح کردینے کی حاجت ظاہر کرے تو وہ عالم اس کا کسی عورت سے خود نکاح کردے،اور یہ اس نکاح کی اجازت اپنے کسی فعل سے دے توقسم نہ ٹوٹے گی اور یہی حکم ہے اگر کسی جماعت کے سامنے وہ کہے کہ مجھے فضولی شخص کے نکاح کی ضرورت ہے تو اس جماعت کاکوئی فرد اس کا نکاح کردے، لیکن جب کسی کو اس نے یوں کہہ دیا کہ تو فضولی بن کر میرا نکاح کردے تو قسم ٹوٹ جائے گی کیونکہ اس صورت میں وکیل بنارہا ہے لہذا وہ وکیل بنے گا فضولی نہ ہوگا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
 ( ۱؎ بحرالرائق     باب التعلیق         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۴ /۷)
Flag Counter