Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
25 - 175
مسئلہ ۲۱: از جبلپور محلہ بھان تلیا مرسلہ محمد نظیر داد خاں سوال نویس کچہری خفیفہ     ۲۰رجب ۱۳۱۸ھ 

منکہ علاء الدین ولد شیخ رجب قوم مسلمان ساکن جبلپور محلہ گلگلاتالاب کا ہوں، چونکہ بوجہ دو عورتوں کے بیاہا تھا عورت میری سے آپس میں تکرار ہوا کرتی تھی سو آج کے روز روبرو گواہان ذیل یہ تصفیہ ہوا کہ میں بلاعذر کھانا کپڑا دیا کروں گا اوررات کے وقت مکان میں بھی رہا کروں گا اور بالفرض اگر میں ایک ماہ تک بلاوجہ کھانا کپڑا نہ دوں اور مکان میں رات کے وقت نہ رہوں تو روبرو گواہان یہ تصفیہ ہوا کہ عورت مذکورہ ہمارے نکاح سے باہر مثل طلاق کے ہوجائے اور میری لگت فسخ ہوجائے اور جوڈگری عدالت سےہمارے نام کی ہے وہ بھی باطل ہوجائے اور بیاہتا عورت کواختیار ہے کہ وہ اپنے مکان میں جو اس کے باپ کا ہے رہے میں بھی اسی جگہ رہوں گا اور کھانا کپڑا دوں گا اس میں کسی طرح کا عذر وحیلہ نہ کروں گا عذر کروں تو جھوٹ، اس واسطے یہ چند کلمے بطریق اقرار نامہ کے لکھ دئے کہ سندر ہے اور وقتِ ضرورت کام آئے۔

میری شادی علاء الدین کے ساتھ عرصہ سات سال کاہوا ہوگئی تھی اب میرے والدین قضا کرگئے اور میرا کوئی شرپرست نہیں رہا، میرے خاوند نے عرصہ چھ سال کا ہوا کہ ایک دوسرا نکاح کرلیا اور اس کے ہمراہ رہا کرتا ہے میری کسی طرح سے کفالت نہیں کرتا ایک مرتبہ پنچایت میں اس نے میرے نان نفقہ کا اقرار کرکے ایک اقرار نامہ مورخہ۱۷جون ۱۸۹۹ء کو تحریر کردیا تھا اور اقرار کیا تھاکہ اگر اقرار پورا نہ کروں تو طلاق ہوجائے مگر اس نے اپنا عہد پور ا نہیں کیا اور میری وہ کیفیت ہے جو سابق میں تھی اب میں گزرِ اوقات کس طرح کروں اور میں نکاح سےباہر کیونکر  ہو سکتی ہوں مجھے اس سے کچھ امید نہیں۔ مؤرخہ۱۵اگست ۱۹۰۰ء عرضی مسمّاۃ بتول ولد بیچن خاں میاں نظیر داد خاں: باوجود ہونے پنچایت اور تحریر اقرار نامہ کے علاء الدین مسماۃ بتول کی پرورش بالکل نہیں کرتا اور مخفی رہتا ہے، کیا بموجب تحریر اسٹامپ طلاق ہوگئی، اگر ہوگئی ہو تومطلع کرو اس کا عقد ثانی کردیا جائے تاکہ بلاسے نجات ہو، اس شخص نے کبھی کفالت نہیں کی اور نہ امید پائی جاتی ہے۔ مورخہ ۱۶/اگست ۱۹۰۰ء
محمد خاں : بخدمت مولٰنا عبدالسلام صاحب زاد فیضہ،۔ چونکہ یہ مذہبی معاملہ ہے،میرے پاس یہ کاغذات آئے، میں نے شروع سے اخیر تک دیکھا واقعی علاء الدین اپنی بیاہتا عورت سے کسی قسم کا سروکار نہیں رکھتا اور نہ اس کی کفالت کرتا ہے، اس نے ایک دوسرا نکاح کرلیا ہے اس کی ہمراہی میں رہتا ہے، ایسی حالت میں اسکی زندگی پار ہونا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے، آپ تحریر فرمائیے کہ یہ نکاح سے باہرہوئی یانہیں، اور عقد ثانی ہوسکتا ہے یانہیں؟فقط۔۱۶/اگست ۱۹۰۰ء محمد نظیر داد
خلاصہ جواب: صورت مستفسرہ میں ثبوت کتابت اقرار نامہ ہذابلااکراہ، از علاء الدین یا از جانب علاء الدین مع تحقیق خلاف اقرار نامہ یعنی ترک نان ونفقہ زوجہ وترک شب باشی با زوجہ تابیک ماہ معلق علیہا الطلاق مستلزم ترتب الجزاء علی الشرط یعنی وقوع طلاق کا ہے بمجرد انقضائے مدۃ معینہ بلاشک اس کی زوجہ مذکورہ پر طلاق بائن واقع ہوگی اور وہ عورت اس کے نکاح سے باہر ہوجائے گی۔ 

فتاوی الخیریہ لنفع البریہ میں ہے:
لاشک اذا وجدت الغیبۃ والترک المعلق علیھما الطلاق انہ یقع لوجود الشرط الموجب للجزاء الخ۱؎۔
اس میں شک نہیں کہ وہ غیرحاضری اور ترکِ معاملہ جس پر طلاق کو معلق کیا گیا ہو اگر پایا جائے تو طلاق ہوجائیگی کیونکہ جزاء لازم کرنے والی شرط پائی گئی الخ(ت)بعد انقضائے عدت طلاق وہ عورت عقد کرسکتی ہے۔
 (۱؎ فتاوی خیریہ     کتاب الطلاق     دارالمعرفۃ بیروت     ۱ /۴۵)
بجنسہٖ کاغذات ہذا خدمت میں عالی جناب مولانا احمد رضا صاحب بریلوی مرسلہ ہوکر گزارش کی جائے بعد ملاحظہ رائے مناسب سے اطلاع بخشیں۔المرقوم ۴ستمبر۱۹۰۰ء
الجواب 

فی الواقع علاء الدین کا کلام مذکور جہاں تک مقتضاء نظر فقہی ہے تعلیق شرعی ہے کہ وقت وجود شرط موجب وقوع طلاق بائن وزوال نکاح جواز نکاح ثانی زن بعد انقضائے عدت ہے جیسا کہ فاضل مجیب سلمہ اﷲالقریب المجیب نے بیان فرمایا،
الظاھران لایجعل قولہ توروبرو گوہان یہ تصفیہ ہو فاصلا بین الشرط والجزاء لانہ من باب التاکید المفید والتائید المزید فلایکون اجنبیا، (قال فی الدر) فقال لھا انت طالق ان شاء اﷲ تعالٰی متصلا الالتنفس او سعال اوجشاء او عطاس او ثقل لسان او امساک فم او فاصل مفید لتاکید او تکمیل اوحد او طالق او نداء، کانت طالق یازانیۃ اوطالق ان شاء اﷲ صح الاستثناء، بخلاف الفاصل اللغو کانت طالق رجعیا ان شاء اﷲ۱؎الخ
ظاہر یہی ہے کہ خاوند کا کہنا''رو بروگواہان یہ تصفیہ ہو'' شرط اور جزاء کے درمیان فاصل نہ بنے گا کیونکہ درمیان میں اس کا یہ کہنا مفید تاکید وتائید مزید ہے لہذا یہ کلام اجنبی نہ ہوگا، در میں فرمایا:خاوند نے بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے ان شاء اﷲ تعالٰی، تو یہ متصل استثناء صحیح ہوگا یعنی طلاق نہ ہوگی اور اگر کھانسی سانس یا باسی ڈکار یا چھینک یا زبان کے ثقل یا منہ کی بندش یا کوئی اور فاصل جومفید تاکید یا تکمیل ہو یا وہ فاصل حد یا  طلاق یا نداکیلئے مفید ہوتو بھی استثناء صحیح ہوگا، مثلاً کوئی کہے انت طالق اے زانیہ ان شاء اﷲ یا کہے تجھے طلاق ان شاء اﷲ، تو طلاق نہ ہوگی، اس کے برخلاف کلام اور استثناء میں وہ فاصل ہے جو لغوہو مثلاً یوں کہے تجھے طلاق رجعی ان شاء اﷲ، استثناء صحیح نہ ہوگا او طلاق ہوجائے گی الخ۔
 (۱؎ درمختار     باب التعلیق         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۳۳)
وفی الھندیۃ رجل قال لامرأتہ انت طالق ثلاثا فاعلمی ان شاء اﷲ صح الاستثناء ولو قال انت طالق ثلاثا اعلمی ان شاء اﷲ او قال اذھبی ان شاء اﷲ طلقت ثلثا وبطل الاستثناء کذافی فتاوٰی قاضی خاں۲؎اھ
ہندیہ میں ہے ایک شخص نے بیوی کو کہا تجھے تین طلاق پس جان لے ان شاء اﷲ تو استثناء صحیح ہوگا، اور اگر یوں کہا تجھے تین طلاق جان لے ان شاء اﷲ، یا کہا جاچلی جا ان شاء اﷲ تو بیو ی کو تین طلاقیں واقع ہونگی اور یہ استثناء باطل قرار پائیگا، یوں ہی فتاوی قاضی خان میں ہے الخ۔
 (۲؎ فتاوی ہندیہ     الفصل الرابع فی الاستثناء         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۴۶۰)
وفیھا فی فصل الطلاق قبل الدخول لو قال انت طالق اشھدواثلثا فواحدۃ ولو قال فاشھدوافثلت کذافی العتابیۃ ۱؎اھ ومثلہ فی ھذاالباب المذکور من ردالمحتار عن البحر من الظہیریۃ قال وحاصلہ ان انقطاع النفس وامساک الفم لایقطع لاتصال بین الطلاق وعددہ وکذاالنداء لانہ لتعیین المخاطبۃ وکذا عطف فاشھدبالفاء لانھا تعلق مابعدھا بما قبلھا فصارالکل کلاما واحدا۲؎۔
اور ہندیہ میں طلاق قبل دخول کی فصل میں ہے کہ اگر کہے تجھے طلاق ہے گواہ ہوجاؤ ان شاء اﷲ،تو استثناء صحیح نہ ہوگا اور ایک طلاق ہوگی، اور اگر گواہ ہوجاؤ کی بجائے پس گواہ ہوجاؤ کہا، تو تین طلاقیں ہوں گی، عتابیہ میں یونہی ہے اھ، اسی باب میں ردالمحتار میں بحر سے انہوں نے ظہیریہ سے نقل کیا اور کہا حاصل یہ ہے سانس کا ٹوٹ جانایا منہ بندہوجانا طلاق اور اس کے عدد میں اتصال کو منقطع نہ کرے گا اور یوں مخاطبہ کو معین کرنے کے لئے ندابھی فاصل نہ بنے گی،ا ور اسی طرح فاشھدوا، فاء کے ساتھ عطف بھی فاصل نہ ہوگا کیونکہ مابعد کا ماقبل سے تعلق ہوتا ہے تو پورا کلام واحدہوگا(ت)
(۱؎ فتاوی ہندیہ     الفصل الرابع فی الطلاق قبل الدخول     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۳)

(۲؎ ردالمحتار         باب طلاق غیر المدخول بہا         داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۴۵۶)
تحقق شرط میں اتنے امر کالحاظ ضرور ہے کہ مہینہ بھر تک روٹی کپڑا نہ دینااور شب کو مکان میں نہ رہنا بلاوجہ مقبول شرعی ہوا ہو کہ شرط میں ''بلاوجہ'' کا لفظ مذکور ہے تو کسی وجہ قابل قبول شرع کے باعث اگر مہینہ بلکہ برس گزرگیا اور اسے نہ کھانا کپڑا دیا نہ مکان میں رہا تو طلاق نہ ہو گی ،یونہی اگر دونوں شرط مذکور یعنی عدم انفاق وعدم شب باشی سے صرف  ایک ثابت ہوئی مثلاً یہ تو ثابت ہواکہ بلاوجہ مہینہ بھر تک روٹی کپڑا نہ دیا مگر مہینہ بھر تک رات کو مکان میں بلاوجہ نہ رہنے کا ثبوت نہ ہوسکا  یا بالعکس تو جب بھی طلاق ثابت نہ ہوگی کہ یہاں دونوں شرطوں کاثبوت ثبوتِ طلاق کے لئے ضرور ہے۔
فی ردالمحتار،ان لم یکرر اداۃ الشرط فلابد من وجود الشیئین قدم الجزاء علیھا اواخرہ۳؎بحر، ملخصاً۔
ردالمحتار میں ہے اگر حرفِ شرط مکرر نہ ہوتو دو چیزوں یعنی شرط وجزا کا پایا جانا ضروری ہے، جزاء کو شرط سے مقدم ذکر کیا ہو یا موخر ذکر کیا ہو، برابر ہے، بحر، ملخصاً۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار        باب التعلیق     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۵۰۸)
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ اس مقدمے میں بالاتفاق بارثبوت عورت کے ذمے ہے کہ مہینہ بھر تک نان ونفقہ نہ ملنے کے باب میں اگر چہ عورت محتاجِ گواہان نہیں بلکہ صرف اس کا بیان حلفی کافی ہے،
وعند قیام الزوجیۃ وکونھا مستحقۃلینفقہ کما یشھد بہ کتابۃ الزوج لایکون الوجہ المانع الاحادثا فیکون الظاھر مع المرأۃ المنکرۃ حدوثہ فان ادعاہ الزوج فلیثبتہ۔
زوجیت پائی جائے اور بیوی خاوند سے خرچہ وصول کرنے کی مستحق ہو، جیسا کہ خاوند کی تحریر شاہد ہے تو پھر کسی نئے حادثہ کے بغیر نفقہ سے کوئی مانع نہیں اور ظاہر حال عورت کے حق میں جبکہ وہ ایسے حادثے کا انکار کرتی ہو پھر اگر خاوند اس حادثہ کا مدعی ہوتو خاوند پر حادثہ کو ثابت کرنا لازم ہوگا(ت)
مگر صرف اسی قدرتو شرط طلاق نہ تھا بلکہ مہینہ بھر تک بلاوجہ ترک شب باشی بھی، اور اس کا ثبوت گواہانِ شرعی سے دینا بلاشبہہ عورت پر لازم ہے فقط اس کا بیان اگرچہ حلفی ہو یہاں ہرگز معتبر نہیں
لانھا ترید بھذااثبات الطلاق وھوینکرہ والبینۃ علی النفی مسموعۃ فی الشروط، فی الدرالمختار (ان اختلفا فی وجود الشرط) ای ثبوتہ لیعم العدمی (فالقول لہ مع الیمین) لانکارہ الطلاق ومفادہ انہ لو علق طلاقھا بعدم وصول نفقتھا ایاما فادعی الوصول وانکرت ان القول لہ وبہ جزم فی القنیۃ، لکن صحح فی الخلاصۃ والبزازیۃ ان القول لھا واقرہ فی البحر والنھر وھو یقتضی تخصیص المتون، لکن قال المصنف وجزم شیخنا فی فتواہ بما تفیدہ المتون والشروح لانھا الموضوعۃ لنقل المذہب کمالایخفی، (الااذا برھنت) فان البینۃ تقبل علی الشرط وان کان نفیا۱؎اھ
کیونکہ بیوی اس سے اثباتِ طلاق کا ارادہ رکھتی ہے اور خاوند طلاق سے انکار کررہا ہے جبکہ شرائط کے متعلق نفی پر بھی گواہی قابل سماعت ہے۔ درمختار میں ہے(اگر خاوند اور بیوی نے طلاق سے متعلق شرط کے پائے جانے میں اختلاف کیا) یعنی شرط کے ثبوت میں، تاکہ یہ عدمی شرط کو بھی شامل ہوسکے(تو خاوند کی بات کو اس سے قسم لے کر، تسلیم کرلیا جائے گا) کیونکہ وہ طلاق سے انکاری ہے۔ اس مسئلہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر خاوند نے طلاق کو چند دن نفقہ نہ پہنچانے سے معلق کیا تھا تو اب اختلاف میں خاوند کا مؤقف یہ ہے کہ اس نے نفقہ پابندی سے پہنچایا ہے اور بیوی اس کا انکار کرتی ہے تو اس میں خاوند کی بات معتبر ہوگی، قنیہ میں اسی پر جزم کیا ہے لیکن خلاصہ اور بزازیہ میں بیوی کی بات معتبر قرار دینے کو صحیح قرار دیا ہے، اسی کو بحر اور نہر میں ثابت رکھا ہے، اور وہ متون کی تخصیص کا متقاضی ہے لیکن مصنف نے فرمایا کہ ہمارے شیخ نے اپنے فتاوی میں اس پر جزم کا اظہار فرمایا جس کو متون اور شروح نے بیان کیا ہے کیونکہ مذہب کی ترجمانی کےلئے یہی موضوع ہیں جیسا کہ مخفی نہیں ہے(الایہ کہ بیوی گواہ پیش کردے) کیونکہ شرط کے متعلق گواہی قبول ہوتی ہے اگر چہ یہ شرط منفی ہواھ،
 (۱؎ درمختار         باب التعلیق         مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۲۳۱)
فی ردالمحتار قولہ واقرہ فی البحر حیث قال فی فصل الامر بالید قیل القول لہ لانہ ینکرالوقوع لکن لایثبت وصول النفقۃ الیھا والاصح ان القول قولھا فی ھذاوفی کل موضع یدعی ایفاء حق وھی تنکراھ، ونقل الخیر الرملی ایضا تصحیحہ عن الفیض والفصول، قولہ وھو یقتضی تخصیص المتون ای تخصیصھا بکون القول لہ اذالم یتضمن دعوی ایصال مال حملاللمطلق علی المقید۲؎اھ باختصار، البزازیۃ عدم قبول قولہ فی کل موضع یدعی ایفاء حق مالی وھی تنکر فھذا یقتضی تخصیص المتون فاغتنم ھذا۳؎۔
اس مقام پر ردالمحتار میں ہے کہ ماتن کا قول کہ اس (بیوی کی بات معتبر ہے) کو بحر میں ثابت رکھا، یہ بات انہوں نے فصل امر بالید میں یوں کہی ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ خاوندکی بات معتبر ہوگی کیونکہ وہ طلاق کے وقوع کا منکر ہے، مگر اس کے ساتھ وہ نفقہ بیوی تک پہنچانے کوثابت نہیں کررہا، لہذا اصح یہ ہے کہ اس مسئلہ میں بیوی کی بات معتبر ہوگی اور اسی طرح ہر ایسے مقام میں جہاں خاوند حق کو پورا کرنے کا مدعی ہواور بیوی منکر ہو تو بیوی کی بات معتبر ہوگی اھ، خیرالدین رملی نے بھی فیض اور فصول سے اس کی تصحیح کو نقل کیا ہے، اور ماتن کا قول کہ یہ(بیوی کی بات کا معتبر قرار  دینا) متون کی تخصیص کا متقاضی ہے یعنی متون کے اس قول کا کہ خاوند کی بات معتبر ہوگی بایں صورت کہ خاوند کا دعوٰ ی مالی حق کو پہنچانے پر مشتمل نہ ہو یعنی متون کی مطلق عبارت کو مقید بنانے سے تخصیص ہو گی اھ مختصراً۔اور غمز العیون میں ہے کہ خلاصۃ الفتاوی اور بزازیہ میں ہے  ہر ایسے مقام پر جہاں خاوند کے مالی حق کو پہنچانے کا دعوی ہو اور بیوی کا انکار ہو تو خاوند کی بات کے معتبر نہ ہونے کی تصحیح کی ہے، لہذا یہ بات متون کی تخصیص کا تقاضا کررہی ہے، اس بحث کو غنیمت سمجھو۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        باب التعلیق   داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۵۰۲)

(۳؎ غمزعیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر     کتاب الطلاق     ادارۃالقرآن کراچی ۱ /۲۵۶)
وجوہ شرعیہ جو یہاں قابل قبول ہوں متعدد مگر ان کے بیان سے دست کشی کی جاتی ہے کہ تعلیم نہ ہواگر کوئی وجہ باعث ترک تھی تو علاء الدین خود بیان کردے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter